حضرت ام ورقہ بنت عبد ﷲ رضی ﷲ تعالیٰ عنہا

 یہ قبیلہ انصار کی ایک صحابیہ ہیں حضور اکرم صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ان پربہت ہی مہربان تھے اور کبھی کبھی ان کے گھر بھی تشریف لے جاتے تھے اور ان کی زندگی ہی میں آپ نے ان کو شہادت کی بشارت دی اور ان کو شہیدہ کے لقب سے سرفراز فرمایا جنگ بدر کے موقع پر انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! آپ مجھے بھی اس  جنگ میں چلنے کی اجازت دے دیجئے میں زخمیوں کی مرہم پٹی اور ان کی تیمار داری کروں گی شاید اﷲ تعالیٰ مجھے شہادت نصیب فرمائے یہ سن کر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ تم اپنے گھر میں بیٹھی رہو اﷲ تعالیٰ تمہیں شہادت سے سرفراز فرمائے گا یقیناً تم شہیدہ ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں ان کو ان کے گھر کے اندر ان کے ایک غلام اور لونڈی نے قتل کر دیا اور دونوں فرار ہوگئے امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو بڑا رنج و قلق ہوا اور آپ نے ان دونوں قاتلوں کو گرفتار کرایا اور مدینہ منورہ میں ان دونوں کو پھانسی دی گئی تھی ام ورقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی شہادت کی خبر سن کر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بے شک رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سچے تھے کیونکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم فرمایا کرتے تھے کہ چلو ام ورقہ شہیدہ کی ملاقات کر لیں چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ گھر بیٹھے ان کو شہادت نصیب ہوگئی ۔
(الاستیعاب ،کتاب النساء،باب الواو۳۶۵۸،أم ورقۃ بنت عبداللہ ج۴،ص۵۱۹)
تبصرہ:۔حضرت ام ورقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے شوق شہادت سے عبرت حاصل کرو۔