موئے مبارک سے صحابیات کی محبت

حضرت سَیِّدَتُنا کَبْشہ اَنصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی مَحبَّتِ مصطفےٰ کے کیا کہنے!یہ صِرف آپ ہی نہیں جنہوں نے اللہعَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نِسْبَت رکھنے والی چیزوں کو اپنے پاس بَطَورِ تَبَرُّک رکھ لیا تھا۔ بلکہ کئی صَحابیات ایسی ہیں جنہوں نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نِسْبَت رکھنے والی چیزوں کو ساری زِنْدَگی اپنا مَتاعِ حَیات جان کر سینے سے لگائے رکھا۔ جیسا کہ حُدَیبِیَّہ کے مَقام پر تاجدارِ رِسَالَت، شہنشاہِ نُبوّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بال مُبارَک بنوائے تو وہ تمام مُوئے مبارَک ایک سبز دَرَخْت پر ڈال دئیےگئے، جہاں سے صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بَطَورِ تَبَرُّک انہیں اپنے پاس رکھ لیا۔ چنانچہ حضرت سیِّدتُنا اُمِ عمَّارہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی  ہیں کہ میں نے بھی چند بال حاصِل  کیے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وِصالِ ظاہِری کے بعد جب کوئی بیمار ہوتا تو میں اُن مُبارَک بالوں کو پانی میں ڈبو کر پانی مریض کو پلاتی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّاُسے صِحَّت یاب فرما دیتا۔2