حضور شیخ الاسلام کا علمی وعرفانی دورئہ حیدرآباد

                                               

ڈاکٹرفرحت علی صدیقی (مرحوم)

حضور شیخ الاسلام کا علمی وعرفانی دورئہ حیدرآباد

پہلا دورۂ حیدرآباد:

تاجدارِ منصب ِرشد و ہدایت ،رئیس المحققین،حضور شیخ الاسلام والمسلمین علامہ و مولانا سیدمحمد مدنی اشرفی الجیلانی قبلہ کچھوچھوی مد ظلہ نے سب سے پہلے مدینتہ الاولیاء حیدرآباد کو ۱۹۶۶ء میں اپنے قدوم میمنت لزوم سے نوازا تھا ۔ آپ کے اس دورے کی دعوت اتحاد سوسائٹی کے صدر حضرت سید محمود پاشاہ افتخاری زرین کلاہ نے مہتاب افتخاری صاحب کی ایماء پر حیدرآبادکودو خطابات کے لئے دعوت پیش کرنے کا شرف پایا تھا۔
حضورشیخ الاسلام نے حیدرآبد دکن میں سب سے پہلی تقریر ’’والعصر‘‘کے زیر عنوان فرمائی تھی۔مذکورہ عنوان پر پہلی تقریر نہ صرف متعدد خوبیوں کی حامل ہے بلکہ علمی لحاظ سے اسے آپ کے شہکار بیانات میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ صرف ’’والعصر‘‘ ایک لفظ مبارکہ کی تفسیر و تشریح دودن جاری رہی اور مکمل تقرویرں کم و بیش چار گھنٹوں کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ تقریر سپول ٹیپ ریکاڈر سسٹم کے ذریعہ ریکاڈ کی گئی ہے ۔ اہلسنت کی خوش نصیبی ہے کہ اس نایاب اور معرکۃ الآراء تقریر کے سپول کو تحریری شکل دے دی گئی ہے اور بہت جلد اسے اشرفیہ اسلامک فاؤنڈیشن،حیدرآباد۔ دکن،شائع کرنےجارہی ہے۔ حضور شیخ الاسلام نے یہی تقریر کچھ نئے مواد کے ساتھ گیارہ سال بعد۱۹۷۷ء میں کریم نگر کی تاریخی اجلاس میں دوبارہ کی تھی۔ یہ تقریر تقریباً ڈھائی گھنٹے کے دورانیہ پر محیط ہے۔

دوسرا دورۂ حیدرآباد:

پہلا دورۂ حیدرآباد  کے کم و بیش ایک سال بعدآپ حیدر آباد چار یوم کے لئے تشریف لائے ۔ آپ کی آمد کی اطلاع و خبر اخبارارت و پوسٹرس کے ذریعہ چونکہ عام ہوگئی تھی اسی لئے حضرت کی آسانی کے لئے اور آپ کو اژدھام کی تکلیف سے بچانے کی غرض سے بجائے نام پلی اسٹیشن کہ علما ء و مشائخین نے خود سکندرآباد اسٹیشن پہنچ کر آپ کا استقبال کیا تھا۔ حیدرآباد فرخندہ بنیاد میںآپ کا قیام عابٹس( عابد شاپ) پر نواب خواجہ غیاث الدین صاحب کی حویلی وکاجی کمپاؤنڈعابڈس میں قاضی سید امیر اللہ حسینی عرف مقبول نواب کے مکان پر رہا ۔ ’’عظمت مصطفی‘‘ کے زیر عنوان ان دونوں اجلاسوں کا انعقاد بوقت دس بجے تاایک بجے دن روح پرور وتاریخی مکہ مسجد کے وسیع و عریض صحن میں عمل میں آیا تھا۔پہلے اجلاس کی صدارت علامہ حضرت سیدشیخن احمد شطاری کاملؔ صاحب اور دوسرے اجلاس کی صدارت  سلطان الواعظین حضرت سیدمرتضی پاشاہ قادری زرین کلاہ قدس سرہمانے کی تھی۔ جبکہ اس اجلاس کا خطبہ استقبالیہ نہایت ہی متشرع اور تہجد گزار شخصیت نواب غیاث الدین شطاری پوترے ٹیپو خاں شہید نے پڑھا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ ان جلسوںکا اہتمام بھی آپ ہی کی اعانت سے ہواتھا۔ شیخ الاسلام کی آمد کایہ وہ دور تھا جبکہ حیدرآباد میں بیرون علما ء کرام کو مدعو کرنے کا باقاعدہ رواج نہ پایا جاتا تھا بلکہ موقتی طور پر کبھی کبھار بیرون علماء و مشائخ حیدرآباد مدعو کئے جاتے تھے۔
مذکورہ دونوں تقریروں کے بعد تیسرا اجلاس موتمر غلامان غوث کے زیر اہتمام بانی کمیٹی جلا لۃ العلم حضرت سید حبیب اللہ قادری المعروف رشید پاشاہ قادری قدس سرہ جو اس دور میں جامعہ نظامیہ سے وابستہ نہیں ہوئے تھے،کے زیر صدارت ،احاطہ موسیٰ قادری میں منعقد ہوا تھا جب کہ تیسرا اجلاس انجمن قادریہ کے زیر اہتمام حضرت سید محمد قادری کی زیر صدارت بمقام یحیٰ مسکن قاضی پورے میں منعقد ہوا تھا۔ اسی قیام کے دوران حضرت شیخ الاسلام حضرت عبدالرزاق نورالعین رحمۃ اللہ علیہ کی جائسی اولاد حضرت سیدپاشاہ حسینی اشرفی کے گھر مدعو کئے گئے جو حیدرآباد میںاس وقت مادناپیٹ میں فروکش تھے جن کے صاحب زادے حضرت سید جہاں گیر اشرف الجیلانی ہیں ۔ان تمام خطابات کے بعد آپ دیگر پروگرام کے لئے وجئے واڑہ روانہ ہوگئے تھے۔
ا سی دورے کے دوران حیدرآباد میںحضور شیخ الاسلام کو گنڈی پیٹ اس غرض سے سیر کروائی گئی تاکہ آپ کی دعاء سے پانی کی فراوانی قائم رہے اس وقت آپ کی معیت میں حضرت سید قبول پاشاہ قادری ، نواب غیاث الدین اور حضرت سید محمود پاشا قادری زرین کلاہ وغیرہ ساتھ تھے۔ چنانچہ حضرت نے گنڈی پیٹ کی گلگشت ساحل پر نماز مغرب ادا کی اور دعاء فرمائی اور حضرت کی اس دعا کی برکت و قبولیت سے اللہ تعالی نے اہل حیدرآباد پر بارش کی نعمت برسائی۔
حضرت شیخ الاسلام کے مذکورہ دورے کے قیام کے دوران آپ کی خدمت میں پروفیسر افضل محمد مرحوم -سابق وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی اور ان کے والد علامہ حیرتؔ بدایونی مرحوم تشریف لایا کرتے تھے ۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ علامہ حیرت ؔ کے آنکھوںکی بینائی کم ہوگئی تھی۔ ایک ملاقات کے دوران علامہ حیرت ؔنے کہا تھا کہ و ہ کسی زمانے میں کچھوچھامقدسہ قیام پذیر تھے اور اپنے زمانہ قیام کو یاد کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ کچھوچھا مقدسہ کے قیام پذیری کے دوران انہوں نے حضور شیخ الاسلام کو پچپن میں گود میں لینے کابھی شرف پایا تھا۔ اسی طرح علامہ حیرتؔ نے خود شیخ الاسلام کو آپ کے بچپنے کے احوال بھی سنائے تھے۔
شیخ الاسلام کے دورے کے داعی حضرت سید محمودپاشا ہ قادری زرین کلاہ بیان فرماتے ہیں کہ:
علامہ شیخین احمد شطاری کامل ؔقدس سرہ وغیرہ کی جانب سے جب حضور شیخ الاسلام کی تقریری صلاحیتوں اور آپ کی تبحر علمی کی تعریف کی جاتی تو شیخ الاسلام اپنی ساری صلاحیتوں کو اپنے والد بزرگوار حضرت محدث اعظم ہند سید محمد اشرفی الجیلانی سیدؔ کچھوچھوی رحمۃ اللہ علیہ ( متوفی ۱۹۶۱ء) کی عطا و فیض کا نتیجہ قرار دیتے تھے۔ چنانچہ حضور شیخ الاسلام نے علامہ کاملؔ سے فرمایا تھا کہ :
’’میرے والد نے مرض الوفات میں مجھے مبارک پور سے اس وقت طلب کیا تھا جب کہ میں جامعہ اشرفیہ میں فضیلت کے سال آخر میں زیر تعلیم تھا۔ جب میں نے حضرت محدث اعظم ہند قدس سرہ کی بارگاہ میں حاضری دی توآپ نے مجھے قریب بلاکر اپنے سینے سے لگایا ۔ آپ کا مجھے یوں سینہ سے لگانا ہی تھا کہ اسی وقت میںنے واضح طور پر محسوس کیا کہ میرا سینہ وزن ہوگیا ہے۔ (یعنی سینہ علم ومعرفت کے کنز و گنجینوں سے معمور ہو گیا) والد بزرگوار کی اس ملاقات کے بعد میں واپس جامعہ اشرفیہ مبارک پور فضیلت کی تکمیل کے لئے چلاگیا اس کے چند دن بعد مجھے آپ کے وصال کی اطلاع تار کے ذریعہ ملی تھی۔ وصال کے تیسرے دن یعنی حضرت محدث اعظم ہند قدس سرہ کی زیارت کی فاتحہ میں میں نے اپنی زندگی کی پہلی تقریر کی جو بقول بزرگان خانوادئہ اشرفیہ علمی و عرفانی تقریر کہلائے جانے کے ساتھ ساتھ زور خطابت نیز فن تقریر کی بھی عمدہ مثال قرار پائی تھی۔‘‘
حضرت سید محمود پاشاہ زرین کلاہ صاحب فرماتے ہیں کہ:
’’ حضرت شیخ الاسلام کے اسی بیان کی بنیادپر حضرت سید شیخن احمد شطاری اکثر فرمایا کرتے کہ حضرت شیخ الاسلام علامہ سید محمد مدنی اشرفی الجیلانی کچھوچھوی قبلہ کی تقریر وہبی صفات کی حامل ہوتی ہے اور آپ کاعلم عطائی یعنی علم لدنی یا وہبی معلوم ہوتا ہے۔‘‘
مشائخین و علمائے حیدرآباد نہ صرف  شیخ الاسلام کی علمیت و بزرگی سے بے پناہ متاثر ہیں بلکہ یہاں کے عوام و خواص سبھی حضرات آپ سے غایت درجہ عقیدت میں بھی رکھتے ہیں نیزیہ کہ آپ کے حیدر آبادی دوروں کی روادیں اس طرح بیان کرتے ہیں کہ گویا یہ واقعی دودن پہلے کی بات ہے نیزاہل علم حضرات آپ کے خطابات کو نورانی و روحانی مواعظ قراردیتے ہیں۔ چنانچہ حضرت مولاناسیدحبیب موسی الحسینی صاحب حیدر آبادی نے ایک محفل میں اپنی نپی تلی اور مخلصانہ گفتگو کے دوران اس ہیچ مداں سے اپنے تاثرات کا یوں اظہار فرمایا کہ:
’’حضور شیخ الاسلام ایک بے مثال عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ تبحر علمی اور شان خطابت میں اپناجواب نہیں رکھتے اور علمی نکتہ دانی میں وہ بے مثل و مثال شخصیت ہیں۔‘‘
حضرت شیخ الاسلام کی عرفانی نکتہ دانی اور ردہابیت میں کس قدر بلیغ جواب دینے کی اہلیت رکھتے اس کا انداز ہ اس آپ کے بیان سے لگایا جاسکتاہے کہ مجھے بخوبی یاد ہے کہ آپ نے ۷۰ء کے دہے کی ایک تقریر میں ندائے یارسول اللہ کے اعتراض پر یوں جواب دیا تھا:
’’ ندا اسے دی جاتی ہے، پکارا اسے جاتاہے جو بے خبر ہو، یا متوجہ نہ ہو !اس اعتقادسے اگر خدا کو یا اللہ کہہ کر پکارو گے تو ایمان ہی نہیں بچے گا کیوں کہ خدا ہر آن ساری مخلوق سے با خبر ہے ،وہ علیم و خبیر ہے! اب ندا اسی کو دی جائے گی جو کبھی متوجہ ہو کبھی نہ ہو! حضور چونکہ ہمیشہ خالق کی طرف متوجہ رہتے ہیں اسی لئے ہم ان کی رحمت کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے یا رسول اللہ کہتے ہیں! النبی اولیٰ بالمومنین من انفسھم یہ نبی تمہارے جان سے زیادہ قریب ہیں اورہم ندا آپ کی شان رحمۃ للعالمینی کو دیتے ہیں! تو حقیقی معنوں میں ’’یا‘‘ کے ذریعہ نبی ہی کو پکارا جائے گا۔‘‘
اس خصوص میںترسیل علم کا ذوق تو ملاحظہ ہو،حضور شیخ الاسلام جب تشریف لائے تو تقریر کے دوسرے دن علمائے نظامیہ با لخصوص مفتی مولانا عبد الحمیدصاحب کی دعوت پرجامعہ نظامیہ میں قدم رنجہ فرمایاحالات سے آگہی اور علمائے کرام سے ملاقات و تفصیلی گفتگو کے بعد بجائے واپس ہونے کے آپ نے’’ فضیلت وکاملیت‘‘ کے طلباء و علما ء کو اپنے خطاب سے بھی نوازا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب کہ جامعہ محامد علی عباسی صاحب کار فرما اور مفتی عبد الحمید صاحب شیخ الجامعہ کی حیثیت سے کارفرما تھے۔
یہاں یہ تذکرہ بے محل نہ ہوگا کہ آپ کے والد گرامی حضور محدث اعظم ہند حضرت سید محمد اشرفی الجیلانی کچھوچھوی علیہ الرحمہ (متوفی۱۹۶۱ء) کو جامعہ نظامیہ حیدرآبادکے ارباب حل و عقد نے سنہ ساٹھ(۶۰) کے دہے میں فاضل وکامل کے امتحان کے ضمن میں بہ حیثیت ممتحن مدعو کیا تھا۔

تیسرا دورۂ حیدرآباد

حضرت شیخ الاسلام کی تیسری مرتبہ حیدرآبادآمد سنہ ستر ۷۰ء یا بہتّر۷۲ء میں ہوئی تھی۔ اس دوسری مرتبہ آمد پر تین اجلاس منعقد کئے گئے تھے ۔دو دن مکہ مسجد کے رات کے اجلاس میںاور ایک تقریر جامع مسجد مشیر آباد میں جو انعمت علیہم کے زیر عنوان کی گئی تھی۔ ان اجلاسوں کی روئیدادیںو تاثرات حیدرآباد کے روز نامے و ہفت وار اخبارات با تفصیل شائع کیا کرتے تھے۔
حیدرآباد کا دینی ماحول سنہ ۷۰ ۱۹ء کے آس پاس جب کہ ’’بلد الصوفیاء‘‘۔ حیدرآباد پرباطل پرستوںکی یلغار اورگجراتی ڈاکو کی جہالت پر مبنی منحوس سایہ منڈلا رہا تھا ایسے پرفتن ماحول میں حضور شیخ الاسلام کی کمی بہت شدو مد سے محسوس کرتے ہوئے آپ کے شایان شان دعوت خطاب پیش کی گئی۔ جن حالات میں آپ کو حیدرآباد کی دعوت دی گئی تھی اس کا اجمالی ذکر یہ ہے کہ:
چند گمراہ مخیر اشخاص کی جانب سے ایک ایسے شخص کو تقریر کے لئے حیدرآباد بلایا گیاتھاجو بزبان خود پڑھا لکھا نہیں بلکہ جاہل تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ علم اور دین کی خدمت کے ڈھنڈورچیوں کے اکثر معاملات ایسے ہی جہلاسے انجام پاتے ہیں کہ وہ گستاخ مقرر جو اپنوں میں قاطع بدعات کہلاتا تھا ایک سابقہ قوال تھا جس کا باپ حقانی ،ڈاکا زنی کی پاداش میں سزا کاٹ رہا تھا۔ باپ کی سزا کا ٹنے کے دوران یہ جاہل پیداہوا تھا ۔
دیگر یہ کہ دین کی خدمت کرنے کی دوہائی دینے اور اس قوال و مقرر کو مدعو کرنے والے وہی لوگ تھے جو شمالی ہند میں اپنے دار العلوم کی صد سالہ جشن کی تقریب ایک کافرہ، بیوہ عورت کی صدارت میں منعقد کئے تھے ۔بہرحال بات یہ چل رہی تھی کہ اسی اجہل کو مدعو کرنے کا واحد مقصدیہی تھا تاکہ حیدرآبادی ا ہل حق کو گمراہ کیا جائے اور یہاں کے دینی و سنی ماحول میں تفرقہ پیدا کیا جائے ۔ چنانچہ پالن گجراتی دیوبندی نے مکہ مسجد میں قد م رکھ کر غوث و خواجہ کے منبرکی طہارت کو بھی متاثر کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
لوگ ہمیں وہابی کہتے ہیں اور ہمیں چوبیس نمبری بھی کہا جاتا ہے۔ سنو ’’وہابی‘‘ میں چوبیس اعداد ہیں اور کلمہ طیبہ میں بھی چوبیس حروف ہیں ۔لہذا جو وہابی ہے وہ کلمہ طیبہ والاہے۔
پانچ پانچ روپے دے کر لائی گئی عوام اور تیس روپے دے کر دن بھر کے لئے بک کرلئے جانے والے آٹو میں بنا پیسوں کے آنے والے وہابی دیوبندی لوگ اس لفظ’’وہابی‘‘ کے اخذ کردہ جاہلانہ خیال پر واہ واہ کرنے لگے تھے۔ لیکن جب یہ بکواس پر مشتمل کیسٹ اہل حق واہل علم نے سنی تو کیسٹ رکواکر اس کی جہالت کو طشت از بام کرتے ہوئے اہل سنت کی حقانیت کو واضح کیا ۔ چنانچہ اس خصوص میںمیرے استاد محترم حضرت مولانا سیدخواجہ احمد اللہ حسینی قدس سرہ کا یہ تبصرہ ملاحظہ ہو:۔
’’ دیکھا آپ نے وہاں لفظ ’’وہابی ‘‘میں یہ وہابی اعداد سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ اس کے اعداد چوبیس ہیں اور یہاں کلمہ طیبہ کے ضمن میں کہتا ہے کہ حروف چوبیس ہیں۔ اگر دونوں جگہ اعداد یا پھر حروف ہی سے بحث ہوتی تو پھر بات کچھ سنی بھی جا سکتی تھی۔ یہی اس کی کذب بیانی و دھوکہ دہی ہے۔‘‘
یہ ہیں ان کے قاطع بدعت جو خود فریبی و جہالت کے گندے و تعفن کے دلدل میں کس قدر پھنسے ہوئے تھے۔ اس پر حماقت یہ تھی کہ فلاں آیت فلاں جگہ ہے فلاں صفحہ پر ہے کی رٹ لگاتے تھے۔ چنانچہ اس کی جھوٹ اور کذب بیانی کو حیدرآبادیوں نے متعدد پمفلٹ کی صورت میں شائع کرواکر اس کی گمرہی وجہالت کو آئینہ دکھلایا تھا۔ جب کہ ان پمفلٹس کی طباعت اولڈ موٹر پارٹس- افضل گنج والوں نے کی تھی،جس کی تحریر مولوی ذبیح اللہ بیگ ابن امام علی بیگ رونقؔ کے دفتر-’’ درس قرآن بلڈنگ‘‘ افضل گنج میں مرتب ہوتی تھی۔مذکورہ بہت سی اشاعتیں ہمارے پاس محفوظ اور مطالعہ کے لئے ہمدست ہیں۔ غرض گجراتی دیوبندی جاہل نے دیدہ  ودانستہ سگریٹ کی مکروہ یا حرام کمائی سے عقائد اسلامیہ میںایک طوفان بد تمیزی برپا کردیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریر کے دوسرے یا تیسرے دن وہ کچھ خریداری کے لئے عثمانیہ بازار پتھر گٹی پہنچا ہی تھا کہ وہاں کے چند لوگوں نے اسی مسئلہ’’ مکرو کمائی‘‘ کے متعلق اسے آڑے ہاتھوں لیا کہ ایک طرف تو لکھتا ہے کہ تمباکو نوشی حرام ہے اور دوسری طرف تدخینی کمپنی کے مالکین کے گھر قیام پذیر ہے۔ چنانچہ اس سے پہلے کہ وہ جیالے اسے مزید آڑے پیر لیتے وہ وہاںسے بھاگ کھڑا ہوا اور دوسرے دن حیدرآبا سے بھی۔ غرض گجراتی جاہل نے مسلک اہل سنت پر نا زیباحملے،عظمت مصطفی سے گستاخی ،ذوی الاحترام بزرگان دین کی بارگاہ میں نا شائستہ الفاظ بکتے ہوئے نہ صرف اپنی اصلیت کا نمونہ پیش کیابلکہ جس سے خود مدعو کرنے والے سگریٹ فروشوں کی جہالت و گمراہی بھی ظاہر ہوئے بغیر نہ رہ سکی۔

غوث اعظم افضل ہیں یا خواجہ اعظم؟

یہ تو تھا بے دینوں کا ماحول اور ان کے ریشہ دوانیوں کا حال مگر دوسری طرف اہل سنت کہلانے اورمرشدین کے زمرے میں شامل ہستیوں نے اس دور میں حیدرآباد میںایسی بحث بھی چھیڑ رکھی تھی کہ وہ مسئلہ سلجھ ہی نہیں پا رہا تھا۔ بحث یہ تھی کہ’’ حضرت غریب نوازرضی اللہ عنہ افضل ہیں حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ سے!!!‘‘
اس مفروضہ کو پھیلانے والوں کاخود حال یہ تھا کہ وہ ایسے محبی وعاشق خواجہ غریب نواز تھے کہ کیا مجال جو حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کے نام اقدس کے ساتھ’’رحمۃ اللہ‘‘ نہیں تو قدس سرہ ہی کہتے !!! بعض تو صرف شیخ عبدالقادر جیلانی کہنے پر ہی اکتفا کرلیتے۔
اور کچھ ایسے  غوــث اعظم کے عاشق ہونے کا اظہار کرتے تھے کہ نہ تو کبھی ’’غریب نواز‘‘  بولتے اور نہ ہی’’عطائے رسول‘‘ کا ہی لقب ان کی زبانوں پرآتا ! بس خواجہ معین الدین چشتی ہی بولتے!
کیا محبت تھی غریب نواز سے کہ ایسا لفظ آپ کی ذات اقدس کے لئے استعمال کیا کرتے ہیں جو گمراہوں اورکفاروں کا طریقہ بھی رہا ہے یعنی صرف’’ خواجہ صاحب‘‘ اس قدر گہری محبت کہ ثبوت میں نام لینا اور القابات کا ذکرکرنا تو کجا گفتگو کے دوران صفات حمیدہ کا ذکر استعمال بھی ندارد۔ بس ہمیشہ خواجہ صاحب۔حالاں کہ اہل عشق کی مخاطبت و گمراہوں کے پکارنے کے درمیان خواجہ خواجگاں حضور غریب نواز رضی اللہ عنہ کے امتیازی القابات وغیرہ کا استعمال نا گزیر سمجھنا چاہیے ۔ اصل بات تو رہ گئی، حضور شیخ الاسلام کچھوچھوی کی آمد سے پہلے یہ مسئلہ عام ہوگیا تھااور حیدرآباد میں یہ مسئلہ موضوع بحث بنا ہواتھا۔ ظاہر ہے کہ ہر مسئلہ کتب و فقہ یا کتاب اللہ و حدیث میں من و عن موجود تو ہوتا نہیں۔ یہاں اہل سنت خوب یاد رکھیں کہ ایسے سوالات کے جوابات کے لئے عالم دین کے لئے’’ علم‘‘ کے ساتھ ساتھ فراست مومن بھی درکار ہوتی ہے اوریہ وہ خوبی ہے جو اہل بیت اطہار کا خاصہ رہی ہے۔ چنانچہ شیخ الاسلام کچھوچھوی کی آمد کے بعد جب یہ مسئلہ آپ کے سامنے پیش ہو ا تو آپ نے حیدرآباد کے علماء و مرشدین کے ایک اجلاس میں یوں ارشادفرمایا تھا :
’’ میں حیدرآباد میںاس ہستی سے ضرور ملنا چاہوں گا جس نے حضور غوث اعظم اور حضور غریب نواز رضی اللہ عنہما دونوں کے مقام و مرتبے کو پہچان لیا ہو یا سمجھ لیا ہے!!!‘‘
حضرت شیخ الاسلام کچھوچھوی قبلہ کے اس فرمان کے بعدجب کہیں جاکے حیدرآباد میںیہ بحث ختم ہوئی اور افضلیت حضور غوــث اعظم رضی اللہ عنہ کی روایات پھر سے بیان کی جانے لگیں۔ ظاہر ہے فوقیت و افضلیت کا یہ فیصلہ وہی ذات گرامی تو کرسکتی تھی جسے دونوں اقطاب و اغواث کی قربت و عظمت اور ان کے مقام و مرتبوں سے کما حقہ واقفیت حاصل ہو نیز اسے ا ن دونوں ذوات ذیشان سے تعلق نسبی کا شرف بھی ملا ہو، اور پھر یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ جسے اس رازسے آگہی حاصل ہوخود وہ کتنی بلند درجت ذات گرامی ہوگی!
حقیقت حال یہ کہ حیدرآباد کے اس دور میں ایسا تھاکون! جو یہ فیصلہ صادر کرسکے کہ حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کو افضلیت حاصل نہیں ہے۔ پس شیخ الاسلام کچھوچھوی کے فرمان کے بعد ہوا یہ کہ اس بحث میں پڑنے کے بجائے وہ طبقہ خموشی اختیار کر گیا۔شایدمومن کی فراست سے ڈرنے لگے تھے۔ الحاصل اس مسئلہ کو فرو کرنے میںشیخ الاسلام کی مدبرانہ صلاحیت اور مخاطبت با کرامت میںگویا کرشمہ خداوندی کی جھلک قرارپائی تھی۔اس کے بعدحیدرآباد میں دیوبندی پالن گجراتی کی گمرہی موضوع بحث بنی رہی۔
حیدرآباد کے بعض مشائخین نے اس گمراہ و گمراہ گر( پالن گجراتی) کی تقریروں کو اپنے لئے نیند سے جاگنے اور جھنجوڑ ے جانے سے تعبیر کیا اوراسے اہل سنت کی خدمت کا موقع و ذریعہ سمجھا اور حیدرآبادی اہل حق بجا طور پردینی عملی خدمت بجا لانے کی سعی و جدو جہد میں مستعد رہنے لگے اسی ماحول میں حضرت شیخ الاسلام کچھوچھوی کا دورئہ حیدرآباد عمل میں آیا تھا جس کی تفصیل آگے آئے گی۔ آپ کے تقریری دورے کے بعدمسلک اہل سنت کی ترویج و اشاعت کے لئے متعدد تنظیمیں معرض وجود میں آئیں۔ حضرت مولانا ابو الوفا افغانی صاحب کی زیر نگرانی ’’مرکزی میلاد کمیٹی‘‘ بھی اسی دوران تشکیل پائی تھی ۔اسی میلاد کمیٹی کی دعوت پر کم و بیش، تیس(۳۰) سال تک شیخ الاسلام قبلہ کی آمد جاری رہی۔ یہ بات تو یوں لگتی ہے جیسے کہ گستاخ و کافر ولید ابن مغیرہ نے مکہ مکرمہ میںبارگاہ رسالت مآب میں گستاخی کی تھی،جس کے جواب میں کلام مجید میں فضل و کمال نبوی کے ایک نرالے باب کا اضافہ ہوا۔(شفا شریف، ص: ۸۸) نیز اس خصوص میں ادب رسول کے قرینے بھی ظاہرفرمائے گئے۔ با الفاظ دیگرگمراہوں کی جانب سے جب حیدرآباد ی مذہبی فضاء کو مکدر کردیاگیا تھا تو حضور شیخ الاسلام قبلہ کی آمد کی برکت اور آپ کی علمی و عرفانی  بیانات نے عقائد اہل سنت وجماعت کی حقانیت کو ثابت کردیا۔اس طرح اہل سنت کی یہ عظیم ہستی اللہ کا فضل و حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عطا کہلانے کے ساتھ ساتھ غوث و خواجہ کے تصرفات سے اہل حق کے مسلک کا دور دور ہ فرمادیا تھا۔الحاصل جہاں پالن کی بکواس متہم اور خطاب با عتاب تھا وہیں شیخ الاسلام کا تاثراتی خطاب مستطاب اور آپ کی آمد مہتم بالشان ثابت ہوئی۔

چوتھا دورۂ حیدرآباد:

عقائد حق اور اسلامی تعلیمات کو تذبذب کا شکار بنانے والے اس ماحول و حیدرآباد شہر میں کوئی ایک بھی موثر ذات گرامی شایدایسی نہ تھی جو ان بد عقیدوں کے گستاخیوں کا علمی و عرفانی جواب دیتی اور مسلک اہل سنت وجماعت کو ببانگ دہل اسٹیج پر متمکن ہوکر حق ثابت کرتی تاکہ اس کا اثر ساری سنیت پر قائم ہوجائے۔ ایسے نازک حالات اور گمرہی کے سمندر میں اہل سنت کی کشتی کو بچانے کے لئے قادری چمن کی پر وقاربہار اور اس کے مہکتے شگوفہ کھل اٹھے اور حضرت مولانا سید حبیب عمر حسینی قادری قدس سرہ نے مکہ مسجد ہی میں مسلسل دس دن جلسے منعقد کیے جس سے ہر روز مقامی علماء مقریرین خطاب کیا کرتے تھے اورآخر میںحضرت سید حبیب عمر حسینی علیہ الرحمہ نے بھی دیوبندی پالن گجراتی کی گستاخیوں کا جواب دیا تھا۔ بہر حال اس کے بعد مشائخین و علمائے اہل سنت بہ الفاظ دیگر اہل حق کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی اور حضرت حبیب عمر حسینی قدس سرہ نے پیرجہاں ، فقیہ زماں،تاجور اہل سنت حضرت شیخ الاسلام علامہ سید محمد مدنی اشرفی الجیلانی کچھوچھوی دامت برکاتہم العالیہ  والقدسیہ کو حیدرآباد کے لئے دعوت خطاب دی۔بتایا جاتا ہے ان اجلاسوں کے سارے اخراجات بھی حضرت سیدحبیب عمر حسینی قدس سرہ ہی نے اٹھائے تھے۔
اجلاسوں میں اژدہام کا عالم یہ تھا کہ مکہ مسجد کے صحن سمیت سامعین کا جم غفیر چار مینار دواخانہ تک پہنچ گیا تھا ۔ اس دورے میں آپ کا قیام قادری چمن رہا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کسی دورے کے موقع پر شیخ الاسلام کا قیام مکہ مسجد کے عقبی حصہ میں واقع کسی کے گھر بھی رہا تھا۔ اس دورے میںآپ کی پہلی تقریر ورفعنالک ذکرک کے زیر عنوان نعقد ہوئی تھی جو ہفت وار’’ ساز دکن‘‘ میں شائع ہوئی تھی۔ حضور کا یہ تقریری دورہ موسم برسات میں منعقدہواتھا ،دو ایک دن پہلے بارش ہوکرتھم گئی تھی جس کی وجہ سے موسمی ٹڈے بھی بہت نکل آئے تھے اسی اثناء میں ایک ٹڈا جلسہ گاہ میں تقریر کے دوران سامعین میں آگرے جس کی وجہ سے تھوڑی دیر گہماگہمی پیدا ہوگئی تھی ۔ عینی شاہدین اور اجلاس میں شریک حضرات کا بیان ہے کہ جب مجمع ساکت ہوا تو حضور شیخ الاسلام نے ذو معنیین و فی البدیہہ جملہ کہا تھا:
’’سب مل کر ایک ٹڈے کو نہیں مار سکے!!!‘‘
حضرت کے اس لطیف وشائستہ رد کو سن کر سامعین بہت محظوظ ہوئے کہ اشارہ دیوبندی گجراتی جاہل کی طرف ہے ۔

پانچواں دورۂ حیدرآباد:

حضرت شیخ الاسلام کا پانچواں اہم دورئہ حیدرآباد مسلسل دس دنوں پر مشتمل رہااور روزآنہ تقریر بھی منعقد ہوتی رہیں اس دورے کی خاص بات یہ رہی کہ موسم برسات میں روزانہ بارش ہوتی مگر بوقت مغرب تھم جاتی اور اس وقت تک موقوف رہتی تا وقتیکہ سامعین اپنے گھروں تک نہ پہنچ جاتے۔ روزبروز بارش کایہ سلسلہ مغرب تا بوقت تہجد موقوف رہنے کے التزام پر کوئی ایک مجذوب جن کا اکثر قیام ہمیشہ لال دروازے کے قریب ہوتا وہ کہنے لگے:
’’ یہ کیا تماشہ ہورہا ہے؟ کچھ سمجھے! یہ بارش میاں ( حضور شیخ الاسلام قبلہ)کی تقریر کے لئے روکی جارہی ہے! یہ ایک دن کا تماشہ ہوتا تو سمجھتے کہ اتفاقی بات ہے موسم کی بات ہے۔ یہ بارش روکی جارہی ہے!!!‘‘
متذکرہ بیان ایک ایسے شخص نے مجھے سنایا جو کہ حضور شیخ الاسلام کی ابتدائی ایک دہے ۱۹۷۲ء تا۱۹۸۲ء کی تمام تقریریں بہ ہوش و خرد سماعت کیں ہیں۔موسم گرما کی بارش کے دورن اس حقیر سراپا تقصیر نے بھی یہ منظر دیکھا تھا کہ بمقام ایس آر ٹی کالونی، یاقوت پورہ حیدرآبادکے ۱۹۷۶ء کے اجلاس میں حضرت کی تقریر استمداد کے زیر عنوان منعقد ہوئی تھی۔ دن بھر زور دار بلکہ موسلا دھار بارش ہوتی رہی مگر مغرب کے بعد بارش ایسی تھمی کہ رات بھر بارش ہی نہ ہوئی اس طرح خنک و روحانی فضاء میں حضرت کی تقریر کا انعقاد عمل میں آیا تھا۔ اسی قسم کے چندواقعات ادونی ،ضلع کرنول کے خطابات میں بھی پیش آئے تھے۔ حضرت کی تقریروں کے یہ ایسے نظائر ہیںجو نہ صرف آپ کی کرامتوں پر منطبق کیے جاسکتے ہیں بلکہ اس سے آپ کی بزرگی کا بین ثبوت بھی فراہم ہوتا ہے۔
مدینۃ الاولیاء حیدرآباد میں عظمت مصطفی کا عظیم الشان جلسہ،اورنگ زیب عالم گیر کی افتتاح کی ہوئی تاریخی مکہ مسجد،اس کا وسیع و عریض صحن بلند و پر وقار منبر پھر اس پر پیرجہاں،فقیہ زماں حضورشیخ الاسلام علامہ سید محمد مدنی اشرفی جیلانی دامت برکاتہم کا تشریف فرما ہونا پھر اس پر مستزاد یہ کہ آپ کی پر وجہیہ شخصیت ،رنگ ابیض، نورانی صور ت،سمنانی لباس مبار ک،زیب سرحضور غوث پاک کا تاج مقدس سے اس روحانی و نورانی ماحول میں،یوں لگتا تھا کہ تقریر کی نہیں جارہی ہے بلکہ کسی غیبی نورانی طاقت سے کروائی جارہی ہے!بلکہ بلا شبہ آپ پر تقریر نازل ہو رہی ہے۔ نعرئہ تکبیر و نعرئہ رسالت کی گونج، عاشقوں کاجم غفیر ،وہ روح پرور ماحول،وہ بات ہی کچھ کسی اور زمانے اور دوسرے عالم کی لگتی تھی ۔ حضور غوث پاک رضی اللہ عنہ کی خطابت کے متعلق کتابوں میںپڑھا تھالیکن حیدرآبادیوں نے آپ کی ذات اقدس میں نیابت غوث اور خلافت خواجہ کے انوار کی ایسی بارش ملاحظہ کی تھی کہ آج چالیس بیالیس برس گزر جانے کے بعد بھی وہ علمی و نورانی نکات و علمیت آپ کا نورانی چہرہ اوروہ اندازئہ بیان بلکہ دیگر احوال حیدرآبادیوں کے ذہن ودل پرایسے مرتسم ہیں اور ان کے عقیدہ میں یوں تازہ ہیںگویالگتا ہے کہ پرسوں کی بات ہے۔حالانکہ یہ  برسوں کی بات ہے۔ان امور سے بجا طور پر حیدرآبادیوں کے مزاج مذہبیت اور ان کی سنیت نیز حضرت شیخ الاسلام کچھوچھوی سے والہانہ محبت و عقیدت کے بین ثبوت فراہم ہوتے ہیں ۔حال یہ تھا کہ کہ اس دور یعنی ۷۰ء کے دہے میں،’ورفعنالک ذکرک‘‘کی برکات سے ساراحیدرآباد ہی نہیںساراآندھرا پردیش گونج رہا تھا۔ رد وہابیہ و دیوبندیہ میں عظمت مصطفی کے وہ نایاب دلائل ، طرز استدلال کی وسعت کے ساتھ وہ شگفتہ بیانی ہوتی کہ جسے کوئی ادنی ٰسا طالب علم بھی سن لیتا تو اس کے ذہن کے کسی گوشے میں کوئی شبہ یا تشنگی باقی نہ رہتی ‘ علم وادب کے مبتدی بھی جب گھر لوٹے تو یہ سمجھتے ہوئے لوٹتے کہ ہمیں علم کی لطافت سے آشنائی مل گئی ہے ۔ علمائے حق وخطبائے وقت اپنے گھر اس خوشی سے واپس ہوتے کہ ہمارے علم کو بھی عرفان کا خزانہ مل گیا ہے۔ علو م و فنون کے متوالے سمجھتے کے ہمارے ذوق علم کو عرفان کی مہمیز لگائی گئی ہے۔خاصان خدا کہتے کہ ہم نے آج جلسہ میلاد النبی و عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میںحضرت سید محمد مدنی میاں اشرفی الجیلانی کچھوچھوی سے علم و فضل کی جلا پائی ہے بلکہ ہر سو بار بار یہ اعتراف با ربار سنائی دیتا کہ حضور کی تقریر سننے سے میرا ایمان تازہ ہوگیا ہے۔ چنانچہ حیدرآباد کے ممتاز شاعر و ادیب محمد ریاست علی تاج ؔ کو بھی اکثر یہ اعتراف کرتے ہوئے سنا گیا کہ:
’’ حضرت مدنی میاں قبلہ کی تقریروں سے یقیناً ایمان تازہ ہوجاتا ہے اور آپ کی تقریروں میں ہر مسلک کا آدمی علم و عرفان کی لطافت پاتا ہے اور اکثربد عقیدہ لوگ اپنی کج روی سے توبہ بھی کر لیتے ہیں۔آپ کی تقریروں میں حیدرآباد کے تمام خانوادوں کے مرشدین کرام شریک رہتے اور تحسین و آفرین کی صدائیں بلند کرتے۔‘‘
حضرت شیخ الاسلام کی زور خطابت،طرز بیان اور نکتہ رسی پرحضرت’’ خواجہ میاں‘‘ کے خلیفہ قاضی پورہ کے ’’باشاہ میاں‘‘ ایک خاص و معنی خیز انداز سے مسکراتے ۔ اس دوران آپ کے جس قدر خطبات حیدرآباد میں ہوئے اس کو شائع بھی کیا جاتا رہا، جس کے اثر سے نہ صرف مستقر حیدرآباد بلکہ اضلاع و پڑوسی صوبوں یہاں تک کہ خلیجی ممالک میں بھی سنیت کی فضاء ہموار ہوگئی اور غوث و خواجہ کے گن بلند کئے جانے لگے۔
عوام و خواص کے بموجب حضرت کی تقریروں سے حیدرآباد میں سنیت کا احیاء ہوا۔مقامی مشائخ و علماء حضرت شیخ الاسلام کی آمد اور تقریری دوروں کو اہل سنت و جماعت کی نشاۃ ثانیہ سے تعبیر کرتے ہوئے آپ کی محبت و عظمت اور یاد کو سینے سے لگائے رکھتے ہیں۔
حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم کی تقریر کا انعقاد جہاںکہیں ہوتا اس جلسہ میں علماء و مشائخین کی کثرت موجود ہونے کے علاوہ صاحبان فکر ونظر،شعراء ادباء،ماہرین علم و فن اور ارباب صحافت کے ساتھ عوام کی کثیر تعداد حاضر رہتی بلکہ عام مجمع میں بھی عوام کے ساتھ سینکڑوں علماء کرام و خواص تشریف فرما ہوتے۔ حتیٰ کہ وہ لوگ جو انتظامات وغیرہ کے لئے مخصوص ہوتے جو عموماً صرف جلسے کی ضروریات اور اسی کام میں محو رہتے ہیں وہ تمام عملہ بلکہ مزدور پیشہ طبقہ بھی اپنا اپنا کام نبٹاکر ساکت و جامد بن کر تقریر میں بیٹھ جاتا۔ نا چیز نے خودایک مزدوری کرنے والے کی زبانی تاجور اہل سنت شیخ الاسلام کی تقریروں کے کئی نکات و اقتباسات تقریر کے انعقاد کے کئی برس بعد سنے ہیں۔اس خصوص میں ایک دفعہ ہوا یوں کہ جامعہ نظامیہ میںمنعقدہ اجلاس کی تقریر کے بعد جب یہ راقم السطور ٹیب ریکارڈ کے ساتھ گھر واپس ہورہا تھا تو دودھ باولی کے پی یس میں ناچیز کوبلاکر رات کی ڈیوٹی پر متعین پولیس والوں نے حضرت کی تقریر سنی اور سن کر پولیس کا عملہ تک عش عش کرنے لگے۔
یہ واقعہ ہے کہ حضرت شیخ الاسلام کے خطاب میں ایسی خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی ہے کہ شریک اجلاس ہونے والے جس سامع کو جس مسئلہ کے جواب کی ضرورت یا جس مضمون کے معلومات کی حاجت ہوتی ہے اسے تقریر میں حاصل ہوجاتی ہے۔آئیتوں کو پیش کرکے حدیثوں کا ورد کرنا پھر اس حدیث کے رائج قول پر وضاحتیں اس کے لئے حیرت افروز مثالیں اور معرکۃ الٓاراعرفانی نکتے آپ کی علمی فضیلتوں کو نہ صرف اجاگر کرتی ہیں بلکہ میدان علم و عرفان اور خطابی دنیا میں آپ کوایک منفرد مقام و مرتبہ کی حامل بھی ثابت کرتی ہیں علاوہ ازیں تقریر میں بے مثل فقاہت جیسی خوبیاں بھی آپ کی تبحر علمی کا طرئہ امتیاز بنی ہوئی ہیں۔ چنانچہ تحریر و تقریر میں قوت فقاہت کے پیش نظر آپ’’فقیہہ زماں‘‘ کی شان سے بھی مزین معلوم ہوتے ہیں۔ علمائے وقت کا آپ کی علمی و عملی نیز خاندان نبوت سے تعلق کی بنیاد پر یہ کہنا بجا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شیخ الاسلام قبلہ کے علم و عمل اور دولت عرفان میں بہت سی ایسی انفرادی صفتیں پائی جاتی ہیں جو آپ کے ہمعصر اکثرعلمائو مشائخین میں مفقود نظر آتی ہیں۔
حیدرآبادی عوام علماء و مشائخین غرض سبھی عوام و خواص اس وقت سے لے کر ایں دم وارفتہ شیخ الاسلام تو ہیں ہی مگر اُس دور کی بات ہی کچھ اور تھی۔ جب کبھی آپ کی حیدرآباد آمد ہوتی تو عوام الناس کی عقیدت کاحال یہ ہوجاتا تھا کہ سارے شہر میں ایک سرور انبساط کی کیفیت چھا جاتی اور شریک تقریر رہنے والوں کا ایک جم غفیر جمع ہوتا،لوگ دیوانہ وار جلسوں میں چلے آتے ،نوجوانوں کی دیوانگی کا عالم تو کچھ مت پوچھئے کے دریا کے دریا ہیں جو مکہ مسجد کے سمندری صحن میں ضم ہوئے جارہے ہیں،کچھ لوگ جلسوں کی اطلاع پاکرچھٹی لے کربیرون ملکوں و مشرق وسطی،یورپ و امریکہ جیسے ممالک سے حیدرآباد تشریف لاتے نہ صرف یہ بلکہ بیرون ملک رہنے والے حیدرآبادی حضرت کو مدعو کرنے والے اور مرکزی میلاد کمیٹی کے حل و عقد کو اخبارات کے ذریعہ مبارکبادیاں پیش کرتے۔ حضور شیخ الاسلام کی ذات با برکت کے وجود مسعود اورتقریر کے لئے منبرپر جلوہ افروزہو تے ہی لاکھوں کا مجمع ایسا ساکت و جامد ہوجاتا کہ جس سے برملاوہ روایت ذہن میں تازہ ہوجاتی کہ جس میں سرکار ابدقرار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ادب نبوی میںصحابہ اجمعین کی خموشی چھائی رہتی تھی یا پھرحضور غوث جیلانی رضی اللہ عنہ کی محفل وعظ یاد آجاتی کہ آپ کی محفل وعظ میں باجود ستر سترہزار وں لوگوں کے شامل و شریک ہونے کے اس قدر خموشی چھائی رہتی تھی کہ آدمی خود اپنی سانس لینے کی آواز سن لیتا۔ حضور شیخ الاسلام کی تقریر  سماعت کرنے کے بعد سارے شہر میں اس کی روداد،اس انداز سے گشت کرتی رہتی کہ ایک ایک تقریر کے متعدد اقتباسات دوسرے دن ،ہفتوں بلکہ مہینوں تک آپس میں سنے سنائے جاتے رہتے۔ گھروںاداروں ،مدرسوں نیزشرفا ء کے دیوان خانوں میں،نوابوں کے ایوانوں میں،مرشدین عظام کی خانقاہوں میں اسی طرح مختلف درگاہوں وبارگاہوں میں حتیٰ کہ بد عقیدہ افراد کے کمروں میں بھی آپ کی تقریر وںکا ذکر مقام مدح میں کیا جاتا اور مسلسل ان خطابوں کی رودادیں بیان ہوتی ہی رہتیں۔ لوگوں کی وارفتگی کا حال یہ ہوتا تھا کہ سبھی حضرات بے انتہا ذوق وشوق میں اور نہایت ہی محبت سے ان نکتوں اور رد وہابیت کے فقروں کو سنتے اور عش عش کرتے رہ جاتے بلکہ دوسروں کو سناتے بلکہ حق کی بات یہ ہے کہ آج تین دہے گزرجانے کے بعدبھی حیدرآباد میں بلا شبہ ایسا کوئی دن یا ہفتہ نہیں بیتتاہوگا جب کہ آپ کی علمیت و  بزرگی کا ذکر اورعقیدت کا اظہار علمی حلقوں میںنہ کیا جاتا ہو۔ آپ کی عقیدت تقریری مواد و بیان کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مستقر حیدرآباد و اضلاع میںحضور شیخ الاسلام کی علمیت و بزرگی کے آج بھی ایسے بھی شیدائی ملتے ہیں جنہیں شیخ العالم حضرت مدنی میاں اشرفی جیلانی قبلہ کچھوچھوی کی بیسوں تقریریں من و عن صحت کے ساتھ زبانی یاد بلکہ ازبر ہیںپھر یہ کہ آپ کاتذکرہ یاد اور تعریف و توصیف میں رطب اللسان رہنے والوں کا تو حساب ہی نہیں۔
راقم کو بارگاہ بندہ نواز رحمۃ اللہ علیہ کے سابقہ سجادہ نشین حضرت سید خواجہ محمد محمد الحسینی بندہ نوزی( خواجہ پاشاہ) نے۲۰۰۸ء میں عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرکزی جلسے سے شرف خطاب کے لئے مدعو کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے فرمایا تھا کہ:
’’ حضرت مدنی میاں کو ہمارا سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ ہم انہیں روزآنہ یاد کرتے ہیں!روز آنہ یاد کرتے ہیں! ‘‘
سہ باریہی جملہ زور دے کر فرمایا تھا۔
آپ کی ہر دلعزیزی اور علمی وقار کا عالم تو یہ ہے کہ یہ ناچیز سنہ ۲۰۰۰ء میں جدہ سے واپسی کے بعد حضرت با با شرف الدین سہر وردی علیہ الرحمہ خلیفہ حضرت شیخ شہاب الدین سہر وردی رحمۃ اللہ علیہ کی مزار اقدس واقع پہاڑی شریف کی زیارت کے لئے پہنچا وہاںرات کے کوئی دس بجے کیا دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب چند لوگوں کو لئے تشریف فرما ہیں اورحضرت شیخ الاسلام کی ذات و صفات کی تعریف،آپ کی سر زمین حیدرآباد پرآمد کے احوال اور اہل سنت وجماعت کی حقانیت پر مبنی بیانات اور آپ کی خدمت لوح وقلم کے متعلق لوگوں کو واقعات با لتفصیل بتا رہے ہیں،لوگ ہیں کہ بڑی خموشی و ذوق سے بغیر پلک جھپکے سن رہے ہیں۔حتیٰ کہ وہ صاحب طولعمرہ آپ کے خطابات کے محاسن سنانے کے دوران یہ بھی فرماگئے کہ حضرت تقریر میںاپنی آواز اتنی ہی اٹھاتے ہیں جتنی سامعین کو بھلی لگے اور ان پر اثر انداز ہو،آپ زیادہ چیختے بھی نہیں جو آپ کی بزرگی کی طرف راجح ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ آپ کی آخری تقریری آمدو حیدرآباد ی دورے کو برسہا برس گزر گئے ہوں اس مدت مدید و عرصہ بعیدکی تقریر کی خوبیوں کا تذکرہ دامن با با شرف الدین علیہ الرحمہ میں یوںبیان ہونا یقیناً شیخ الاسلام کی ذات اقدس کی عقیدت و شہرت پر دال ہے۔ کہاں تک عرض کیا جائے کہ حیدرآباد دکن کے بیسوں جید علمائے کرام وذوی الاحترام مشائخین ایسے بھی باحیات ہیں جن کی زبانیں آج بھی حضور شیخ الاسلام کی مدح سرائی میں رطب اللسان رہتی ہیں پر خصوص آپ کی صفات بزرگی ،تبحر علمی ،تقریری شان اور سرزمین حیدرآباد پر مسلک اہل سنت کی اشاعت و ترویج کے ذکر سے۔ واقعہ یہ ہے کہ جب بھی یہ خادم سیدی و مرشدی کی بارگاہ میں بار یابی کا شرف پایا ہے آپ نے اس حقیر سے حیدرآباد کے بزرگ علمائے جامعہ نظامیہ اور یہاں کے مرشدین کی خیرو عافیت اور ان کی خدمات کے متعلق ضرور دریافت فرمایا ہے۔ یقیناً سادات اہل بیت اعلیٰ اخلاق و کردار کے حامل اوراہل علم سے نہایت ہی محبت کرنے والے واقع ہوئے ہیں۔
حضرت کے خطاب مستطاب کے بعدآپ کی تقریروں کو سننے یا پڑھنے کی چاہت اور عرفانی بیانوں کی دیوانگی اسی پر بس نہیں ہوتی تھی بلکہ ان خطابات کو یوم دو یوم بعد ہی من و عن شائع کردیا جاتا۔ جہاں تک تقریروں کی نکاسی و پھیلنے کا معاملہ ہوتاتھا اس میںشہرحیدرآباد ہی پر کیا موقوف تھا ساری ریاست اور ریاست کے پڑوسی مقامات و جنوبی دکن کے سارے علاقوںسے ہزاروں لوگ آتے اور آپ کی تقریروں کے شائع شدہ مجموعے،کیسٹں وغیرہ خرید کر لے جاتے۔ اس طرح ان شائع شدہ تقریروں کی مانگ پر مانگ بڑھتی جاتی۔
حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ روایت ملتی ہے کہ جب آپ وعظ فرماتے تو زائد ازتین سو کاتبین آپ کے مواعظ کو قلمبند کرتے جاتے۔یہاں حیدرآبادیوں نے حضور غوث اعظم کے شہزادے کی جناب میں وہی روایت کی جھلک تازہ کردی اور سادات اہل بیت سے اپنی بے لوث محبت کو منوالیا۔
حیدرآباد کی سنیت پر جو عظیم ہستیوں کا نا قابل فراموش احسان رہا ہے ان میں سن ستّر کی دہائی سے لے کر ایں دم بیرون ریاست سے تشریف لانے والے علمائے ذوی الاحترام اور پیران طریقت حضرا ت و شخصیات میں حضرت شیخ الاسلام علامہ سید محمد مدنی اشرفی جیلانی جانشین محدث اعظم قبلہ کی ذات صد برکت تابندہ نظر آتی ہے نیز آپ کی ذات و الا صفات کو اس وجہ سے بھی دیگر علماء و عرفائے دوراں پر فوقیت و عبقریت حاصل ہے کہ آپ نے جس ماحول میں حیدرآباد قدم رنجہ فرماکر دین اسلام و سنیت کی جو ناقابل فراموش خدمت انجام دی ہے، وہ عظیم دینی کارنامہ آپ کے عمل پیہم،جہد مسلسل اور جگر کاری کا نتیجہ ہونے کے ساتھ ساتھ راست طور پر غوث جیلانی کا فیضان اور غریب نواز کی نگاہ عنایت کا ایک اہم حصہ معلوم ہوتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ حضور شیخ الاسلام مدظلہ العالی اپنے نورانی و عرفانی مواعظ سے بالفرض اہل دکن کو مستفیض نہ فرماتے تو کوئی تعجب نہیں کہ بد عقیدوںو گمراہوں کے مسلسل اور بھر پور وار کی وجہ سے حیدرآباد سے سنیت کی صحیح پہچان ہی ختم ہوجاتی بلکہ اگر توجہ نہ کی جاتی توعقائد اہل سنت کانام و نشان بھی مٹ جاتا سوائے  چند خانقاہوں کے ۔جس کے نتیجہ میں عوام علمائے سؤ ہی کو علمائے حق تصور کرلیتے جس کا مشاہدہ آج علانیہ طور پر جزیرۃ العرب یایورپی ممالک میں ہورہاہے۔ واقعہ یہ ہے کہ سرزمین حیدرآباد میں اُس دور میں اہل سنت کہلانے والے بعض علماء بھی دیو بندی مکتبہ فکر کو نہ صرف حق سمجھتے تھے بلکہ اپنی تقریروں میں ان گمراہوں اور گستاخوں کو حق پر اور صراط مستقیم پر تصور کرتے ہوئے ان کے حوالوں سے بھی اپنی تقریروں کو آگے بڑھاتے تھے ۔ مضحکہ خیز بات تو یہ تھی کے ایک مذہبی شخصیت جو عصری تعلیم  سے بھی آراستہ تھی وہ یہ کہتی ہو ئی نظر آئی کہ انہوں نے زندگی میں دو زبردست اور بہترین عالموں کو سنا ہے:’’ ایک ہیں مدنی میاں دوسرے پالن حقانی‘‘!!!  عصری تعلیم سے مزین موصوف کا گستاخ ِاولیاء و گمراہ و گمراہ کن گجراتی کانام اور اہل بیت اطہار کے سرخیل کچھوچھوی عالم و عارف کا اسم اقدس ایک ہی انداز سے لینے کا یہ ذوق یقیناً قابل توجہ ہے۔ جب شہر کی ایک معروف اور با اخلاق و شریف النفس ذات گرامی کی حق و صداقت کے درمیان یہ تمیز رہ گئی تھی تو عوام کی حالت کا کیا حال تھا ہوگا؟ اس پر بحث کی گنجائش ہی نہیں ہے،دین کی سمجھ سے ذراسا بھی تعلق رکھنے والا شخص بہ خوبی سمجھ سکتا ہے۔
حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم نے بد عقیدوں کے باطل حملوں کا جواب کلام مجید ، احادیث رسول،صوفیاء و فقہا کی معتبر کتب سے اس مسکت انداز میںدیا ہے کہ جس کی روشنی ان تقریروں کو حیدرآباد میں ’’سنیت کی نشاۃ ثانیہ‘‘ کادور کہے جانے کے مستحق کے ساتھ ساتھ حضرت شیخ الاسلام کو یقیناً فاتح سنیت حیدرآباد بلکہ فاتح دکن قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگاکیونکہ احمد آباد سے حیدرآباد تک کے تمام علاقوں میں آپ نے تصلب فی الدین و عقائد اہل سنت کی ترقی و ترویج کی بے پناہ خدمت کے ذریعہ ہر جگہ سنیت ومشرب تصوف میں پھر سے حق وصداقت کی روح دوڑادی ہے۔ جس میںحضرت کاکمال علم و عرفان اور بے مثل تقویٰ کار فرما ہے ۔بلکہ ایک دکن اور ہند و ستان ہی پر کیا موقوف ہے جب کہ آپ کی وصف علمیت و خطابت اور تصوف و طریقت نے پچھلے کئی دہوں سے ساری دنیا میںحق پرستی کا تہلکہ مچادیا ہے اورچہاردہ عالم میں اہل سنت کا بول بالا فرمادیاہے علاوہ اس کے مشرب نقشبندیہ،سہر وردیہ،چشتیہ اور قادریہ کی ایسی عالم گیر خدمت فرمارہے ہیں کہ جس کی روشنی میں آں محترم کی ذات و شخصیت’’ پیر جہاں‘‘ و’’ فقیہ زماں‘‘ جیسے القاب کی مستحق قرار پاتی ہے جس کا ایک ادنیٰ سا ثبوت یہ ہے کہاآپ دنیا کے کسی بھی ایسے براعظم و ملک اور بڑے شہر میں چلے جائیے جہاں سنی مسلمان آباد ہوں بالخصوص اردو بولنے والے موجود ہوں ان میں آپ کانام نامی لے کر پوچھئے ،وہ آپ کا نام نامی و ذکر سنتے ہی جھوم جائیں گے اور فرط عقیدت و محبت میں ان کا چہر ہ کھل اٹھے گا۔
حیدرآبادی عوام و خواص کئی جہتوں سے آپ سے بہت متاثر و بے پناہ عقیدت رکھتے ہیں جس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ مشہورزمانہ گستاخ دیوبندی پالن گجراتی کی بکواس اور اس کی جہالت سے اولیاء دشمنی و مرشدین عظام کے خلاف جو بد عقیدگی حیدرآباد میں پھیلی تھی اس کے تدارک کو شیخ الاسلام قبلہ ہی کی روحانی خطبات و تصرفاتی ذات کا تصدق سمجھا ہی نہیں بلکہ مانا جا سکتا ہے ۔یہی نہیں بلکہ زائد از تیس سال تک اپنی معرکۃ الاراء علمی بیانات رموز خطابت، نکتہ رسی و روحانی تقریروں کے ذریعہ اہل سنت و جماعت کی آپ نے جوبنیادیں مضبوط فرمائیں ہیں اس کی یادیں اہل حیدرآباد کے ذہن میں آج تک محفوظ اور ان کے لوح دل پر کندہ ہیں ۔آپ نے شجر سنیت کی جڑوں میں ایسی صلابت ڈال دی کہ بعد میں شہر تشریف لانے والے دیگرعلمائے کرام اسی مضبوط تنہ پر اپنا آشیانہ عقیدت توبناتے رہے ہیں مگر اُن تمام میں جڑ و تنہ کو صلابت و شادابی بخشنے والی ہستیوںکو یاد کرنے وا لے معدودے چند ہی ہوتے ہیں اور فراموش کر جانے والے بہت۔
حیدرآبادیوں کو وہابیت ودیوبندیت کی یلغار سے بچانے اور علمائے اہل سنت کو وہابی و دیوبندی مکتبہ فکر سے روشناس کرواکر ان کے کلمہ گوئی کے نقاب کو الٹنے کا سہرا (حضور شیخ الاسلام کی آمد سے قبل) سب سے پہلے خطیب ہند حضرت حبیب اشرف سنبھلی قدس سرہ کے سر کی زینت بنتا ہے ان ہی علماء میںسنہ انہتر۶۹ء میں مکہ مسجد حیدرآبادسے خطاب کر نے والے بزرگ صاحب تفسیر نعیمی حضرت علامہ مولانامفتی احمد یار خان نعیمی اشرفی بھی شامل ہیں۔پھر سنہ ۷۳ء سے ایں دم اس سلسلہ کی خدمت میںایک اورعبقری شخصیت حضرت غازی ملت علامہ مولانا سید محمد ہاشمی جیلانی کچھوچھوی کی ذات اقدس نمایاں حیثیت کی حامل ہے۔
حضرت شیخ الاسلام مد ظلہ نے اپنے روحانی و عقانی مواعظ کے ذریعہ جہاں ہزاروں لاکھوں عوام کے سامنے اہل سنت و جماعت کے عقائد کو کتاب وسنت سے مدلل فرمایا وہیںغوث و خواجہ رحم اللہ ہما کی عظمت کو داغدار ہونے سے محفوظ فرماکر لاکھوں حیدرآبادیوں کے ایمان کولٹنے سے بھی بچالیا۔ چنانچہ اس دور کی معرکۃ الآراء تقریریں آپ کی محیرالعقول خدمات کی گواہ ہیں کہ کس طرح ان تقریروں کے ذریعہ سے اہل سنت میں ایک انقلاب برپا ہوگیا تھا اور کس با عظمت طریقہ سے اہل بیت سادات کرام کی محبت و تعلیمات اور اہل سنت کا چرچا عام ہوتا چلا گیا تھا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ حیدرآباد میںآپ کی آمد کا جو سلسلہ نورانی شروع ہوا تو چہار سو،علمائے حق کی عظمت،مرشدین کی محبت اور اسلام کی خدمت کا دور دورہ بھی ہوگیا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے ہر اجلاس میں مشائخین کرام اور علمائے عظام کی خاصی تعداد سریر آرائے تخت ہوتی،جس کی برکتیں آج تک اپنا اثر دکھا رہی ہیں۔

حضرت کا دورئہ امریکہ اور حیدرآباد:

حضرت کے امریکہ کے دورے کا شرف بھی سرزمین حیدرآباد کو حاصل ہے جسے حضرت با با شرف الدین سہروردی علیہ الرحمہ پہاڑی شریف کی کرامتوں سے وابستہ کیا جاسکتا ہے بلکہ حیدرآبادیوں کی سچی اور والہانہ محبت کی دلیل بھی کہی جا سکتی ہے۔ وہ اس طرح کہ حضرت کے تقریری دورے کے دوران ایک حیدرآبادی انجینئرسید فضل اللہ صاحب مرحوم جو امریکہ شکاگو میں مقیم تھے کچھ دنوں کے لئے وطن حیدرآباد آئے ہوئے تھے مو صوف کی خواہش تھی کہ حضرت شیخ الاسلام کو امریکہ  مدعو کیا جائے مگر انہیں آپ کا پتہ ہم دست نہیں ہورہا تھا اس خصوص میں انہیں کسی کی رہنمائی بھی حاصل نہیں تھی ۔بہر حال وہ حضرت کے پتے کے لئے سرکرداں  رہے،کسی عاشق صادق کی سچی لو کب کامیاب نہیں ہوتی، اسی اثناء میںسید صاحب زیارت کے لئے پہاڑی شریف گئے وہاں آپ کے ایک دوست نے کسی آدمی کو دکھاتے ہوئے کہا کہ آپ حضرت شیخ الاسلام کے پتہ کے لئے متفکر ہیں دیکھئے وہاں ایک صاحب مزار کے قریب ٹہرے ہوئے ہیں آپ ان سے دریافت کیجئے وہ حضرت کا پورا پتہ جانتے ہیں ۔سید صاحب گئے ان سے دریافت کرنے پر حضرت کا پتہ ملا پھر حضور شیخ اسلام امریکہ شکا گو مدعو کئے گئے ۔مگر شیخ الاسلام دوروں کے تو کبھی دلدادہ رہے نہیں کہ امریکہ کانام سنتے ہی فوری دورے کی تاریخ دے دیتے۔ حضرت نے اس کے تعلق سے مجھے بتایا کہ امریکہ کی دعوت خطاب ملنے کے بعد اچھی طرح معلوم کرلیا گیا تھا کہ وہ لوگ کس عقیدے پر ہیں۔ بہر حال آپ نے سال دو سال بعد امریکہ کے دورے کی تاریخ عنایت فرما دی اس عرصہ میں اس بات کا بھی پتہ چل گیا کہ دعوت دینے والے صاحب ’’ابن الوقت‘‘ مسلک کے نہیں بلکہ متصلب سنی حیدرآبادی سید زادے ہیں۔ اس طرح آپ کا امریکہ کا تقریری دورہ ۱۹۸۶ء سے سنہ ۲۰۰۰ء تک کے عرصہ کومحیط رہا۔
حیدرآباد میںتقریروں کی اشاعت و طباعت:حیدرآباد فرخندہ بنیاد کا دورہ خود حضرت شیخ الاسلام کے لئے بھی بڑامتاثر کن واقع ہو ا ہوگا ۔ حیدرآبادی عوام کی آپ سے والہانہ عقیدت ،اہلیان شہرنبی محترم واولیائے کرام سے محبت اورغایت درجہ عشق رکھنے والی سنیت کا ماحول تعجب خیزی نے شاید خود حضرت شیخ الاسلام کو بھی متاثر کیئے بغیر نہ رہا ہوگا ۔علماء و مشائخین کی بستی،مزارات اولیاء کرام و مسجدوں کا شہر،سادات اہل بیت اطہار کے انوار،سنی مسلمانوں کی کثرت ،شیدائیوں کی بہتات، مزید یہ کہ حضرات غوث و خواجہ کی برکات اور وہ نورانی منظرایسی دیگر تمام عقید مندانہ احوال بھی شیخ الاسلام کے لئے قابل دید و یاد گار ایام واقع ہونا بعیداز قیاس نہیں دوسری طرف حیدرآبادی سنی مسلمانوں کے لئے حضور شیخ الاسلام کی آمد بھی باعث عید ہوتی رہی ہوگی ۔ ؎
ہائے یہ شہر نگاراں یہ شہر حیدرآباد بسایا کس نے
آپ مرکزی میلاد کمیٹی کی جانب سے حیدرآباد بیک وقت پانچ،سات تقریروں کے لئے ضرورمدعو کئے جاتے۔ جہاں بھی آپ کی تقریر کا انعقاد عمل میں آتا عوام و خواص کا جم غفیر حاضر تقریر ہوجاتا جس میں اہل دانش و علما ء و مرشدین کی کثیر تعداد حاضر ہو تی ۔سارا مجمع ڈھائی تین گھنٹے کی تقریر کے دوران ایمانی ولولہ سے اس قدرسر شار ہوجاتا کہ سارا مجمع نعروں سے گونجتا رہتااور آپ کی نکتہ رسی پر جھومتا دکھائی دیتا۔
حیدرآبادی عوام حضرت کی خطابات کو سنی دلائل و حقانیت کی وجہ سےالہامی تصور کرتے اور علما ء و مشائخین حضرات آپ کی ذات و خطاب کو نعمت غیر مترقبہ سمجھتے ہیں۔آپ کے خطبات سے مستفید ہونے اور اس کی بے پناہ تعریف میں رطب اللسان رہنے والوں میں صاحبان بصیرت اور جامع الصفات شخصیات کی ایک اچھی خاصی تعداد آج بھی موجود ہے اور اس ناچیز سے اس خصوص میں برابر فرمائش ہوتی رہتی ہے۔
دیگر شہروں میں تو جلسوں کے انعقاد کی تشہیر کے لئے اشتہارات دئیے جاتے ہیں مگرحیدرآباد کو یہ شرف حاصل ہے بلکہ شیخ الاسلام قبلہ کی تقریروں کے اشتیاق کا حال یہ ہوتاتھا کہ یہاں حضور شیخ الاسلام کچھوچھوی کے منعقدشدہ تقریر کے شائع ہونے کے لئے بھی پوسٹرس چھپتے اور اخباروں کے ذریعہ عوام کوخبر دی جاتی۔ ستّر عیسوی( ۷۰) کی دہائی میں شیخ العالم حضرت سید مدنی میاں قبلہ مد ظلہ کی تقریروں کو چھاپنے والے نفوس کی قبروں کو اللہ تبارک وتعالیٰ نور سے بھر دے ۔ کیوں کہ ان کی اس خدمت سے ایسا لگتا تھا کہ انہوں نے وہ تقریریں اپنی ذاتی منفعت کے لئے نہیں چھاپی تھیں۔ جبھی تو پچاس ،سوسو صفحات والی تقریری کتابچہ کا ہدیہ پچاس،ساٹھ پیسے ،ایک یا دو روپیہ رکھتے اگر کوئی شائع شدہ تقریر ضخیم بھی ہوجاتی تو ہدیہ دو تین روپیوں سے متجاوز نہ ہوتا۔ یہ ہے مسلک اہل سنت کو پھیلانے کاجنون اور علم نبوی کو عام کرنے کا عشق۔
میں کہاںتک تفصیل عرض کروں کہ ان تقریروں کو شائع کرنے والوں کی حرارت ایمانی اور جو ش اشاعت اہل سنت کا کیا حال تھا، نیز شیخ الاسلام سے والہانہ عشق و محبت کا کیسا نشہ حیدرآبادیوں میںچھایا ہواتھا اور ہے یا پھر یہ کہوں کہ ان تقریروں کی علمیت ،روحانیت، بیان شدہ نکات،مسلک اہل سنت اور رد وہابیہ کے دلائل کی اہمیت کے پیش نظرجولگاؤ آپ کی تقریروں سے وابستہ ہوگیا تھا کہ جس کی مثال خطبات کی تاریخ اور صحافتی میدان میں شاید ہی مل سکے گی ۔ مختصر اً یہ کہ حضور کی تقریر رات دو بجے ختم ہوئی ادھر چھپ کر تیار پھر دوسرے دن کی رات کی تقریری اجلاس میں پچھلی رات کی تقریر مکہ مسجد یا جلسہ گاہ کے کتب فروشوں کی دکانوں پر موجود ہوتیں بلکہ خصوصی طور پر آپ کے شائع شدہ تقریری مجموعہ کی دوکانات جب جلسہ گاہ پر لگتے تو لوگوں کے ہجوم کا یہ عالم ہوتا تھاکہ جیسے نمائش کے کسی اسٹال پر ڈسکاؤنٹ سیل کالگا ہوا ہے اور اس کا آخری دن ہے۔
حضور شیخ الاسلام کی تقریر یں علم و عرفان کا گنجینہ اور دلائل اہل سنت کا خزانہ نیز گمراہوں اور گستاخوں کے مسکت جوابات سے لبریز ہوتی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ خطاب کے بعدعوام میں ریکارڈ کی ہوئی تقریروں کی زبردست مانگ ہوتی ایک طرف ہزاروں لوگ ریکارڈنگ کرتے تو دوسری طرف ہزاروں لوگ کیسٹس خریدکر دوست احباب کو دنیا بھر میںتحفتاًروانہ کرتے مگر اس کے باوجود ان خطبات کا ذوق و شوق کم نہ ہوتا ۔ جدہ میں ایک حیدرآبادی خاتون ایسی تھیں جو کہ روز آنہ اپنے  باورچی خانے میں حضرت کی تقاریر سنتے ہوئے نہ صرف پکوان میں مصروف رہتیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ ان تقریروں کی ڈبنگ بھی کرتی جاتیں۔ اسی طرح لندن میں ایک خاتون کہا کرتی ہیںکہ میں نے حضرت کی ایک ایک تقریر پچاس پچاس مرتبہ سنی ہے مگر پھر بھی اس بیان سے جی نہیں بھرتا۔ حیدرآباد میں سینکڑوںخواتین حتیٰ کہ بہت سی بوڑھی عورتیں ایسی بھی ہیں جن میں آپ کے نورانی و عشق نبوی سے معمور خطبات سننے کاذوق بہ درجہ اتم پایا جاتا ہے میں نے خود دیکھا اور سنا ہے کہ وہ حضرت شیخ الاسلام کی تقریروں کو بے حساب مرتبہ سنتیں مگرپھر بھی ان کے اشتیاق سماعت کی طلب کم نہ ہو تی۔ مکہ مسجد حیدرآباد کی تقریریں تو لڑکیاں و خواتین بھی آآکر نوٹ کرتی جاتیں تھیں ۔چنانچہ سیدعلی چبوترے کی لڑکیاں بالالتزام آپ کی تقریریں نوٹ کر لیا کرتی تھیں۔ چنانچہ عوام کے اسی ذوق و شوق کے پیش نظر آپ کے خطا بات کو جلد سے جلد تحریر میں لاکر کتابیںشائع کردی جاتی تھیں جس کی نکاسی ہزاروں کی تعداد میں عمل میں آتی ۔
تقریر کی عاجلانہ اشاعت کے ضمن میںایک مر تبہ ہوا یوں کہ جب رات ہی میں فرمائی گئی تقریر کو کتابی صورت میں لاکرصبح ناشتہ کے وقت حضرت قبلہ کے دست اقدس میں دی گئی تو حضرت نے پچھلی رات کی اپنی تقریر کو شائع شدہ کتابی حالت میں ملاحظہ فرما کر بڑے تعجب کا اظہار کیا ۔فی الواقع بات تھی بھی ایسی ہی مگر بمصداق شعر کہ ؎
اولوالا لعزم جب کرنے پر آتے ہیں
سمندر چیرتے ہیں کوہ سے دریا بہاتے ہیں
خطبات شائع کرنے والے ارباب اہل سنت کایہ فقید المثال جذبہ بلا شبہ شیخ الاسلام کی عرفانی اور روحانی تقریروں کی بدولت پروان چڑھا تھا اور ان کے عقیدئہ اہل سنت کو حضرت کے بیان سے نورانی مہمیز لگی تھی جو سارے ہندوستان میں انفرادی حیثیت اور شیخ کی چاہت کافقید المثال محبت کا مظہر ہے ۔اشاعت کی کوشش کا عالم یہ تھا کہ حضرت کی تقریر ہی کے دوران متعددلوگ لکھتے جاتے اورجب تقریر آدھے گھنٹے کی ہوگئی تو اس آدھے گھنٹے کی ریکارڈشدہ تقریر سن کر تصحیح کر لیتے جیسے ہی ادھر لکھنا ہوگیا وہی آدھے گھنٹے کی تقریر ادھر متعددکاتبوں کے ذریعہ کتابت کرائی جاتی،پھر جب پروف ریڈنگ ہوگئی تو پریس والا تختیوں میں چڑھاکر مشین میں لگاتا جاتا اور اسی رات تقریر چھپ کر تیار ہوجاتی۔ یہ ساری تقریریں ’’مکتبہ اشرفیہ ،حیدرآباد ‘‘کے نام سے منظر عام پر آیا کرتی تھیں۔ اس کے بعد ما ہنامہ ’’المیزان‘‘ کے زیر اہتمام’’ خطبات برطا نیہ ‘‘کے نام سے آپ کی تقریروں کا مجموعہ چھپا اور بہت مقبول ہوا حتیٰ کہ بہت سے اداروں نے اسی کی کاپی بھی شائع کی ہے۔ نیز’’ خطبات حیدرآباد ‘‘کے نام سے حضور شیخ الاسلام کے خطابوں کا مجموعہ مکتبہ انوارالمصطفیٰ حیدرآبادسے بھی منظر عام پر آیا ہے۔
حضرت کے خطابات کو سننے،شائع کرنے اور پھیلانے کی یہ جستجو کیا کم تھی مگر اس کے باو جوداسے آپ کے علمی عرفانی،محبت نبوی سے پر نور اور عشق مصطفوی سے مخمور بلکہ صوفیانہ رنگ و آہنگ کے علاوہ رد وہابیہ پر مبنی تقریروں ہی کا اثر سمجھا جا سکتا ہے کہ کچھ تقریریں شہر کے بعض ہفت وار اخبارات( ویوز پیپر) میں بھی شائع ہوتیں رہیں، چنانچہ ہفت وار اخبار’ساز دکن‘نے آپ کی ایک تقریر اپنی اشاعت میں من و عن شائع کی تھی جس کا عنوان تھا ورفعنا لک ذکرک بعدازاں ایک اور صاحب ذوق نے اسی تقریر کواستفادئہ عام کی غرض سے کتابی شکل بھی دی لیکن اس کے باوجود یہ تقریر مکمل نہیں چھپی تھی۔ سنہ ستّر کی دہائی کایہ وہ دور تھا جب کہ حیدرآباد کے ماحول میں عوام الناس میں غزلیات اور قوالیاں سننے کا شوق پورے زوروشور سے جاری تھا لیکن اس ماحول میں بھی کیا ہی عوام الناس اور کیا ہی سلیم طبیعتیں غرض سبھی کے ذوق و شوق کا رخ مذہبی خیالات کی طرف منعطف ہوتا ہوا نظر آیا،اس طرح سینکڑوں گھروں میںحضور شیخ الاسلام کچھوچھوی کی تقریریں اور حلقہ احباب میں دوران گفتگو آپ کی تقریروں کے علمی نکات کا اس قدرچرچا رہتا کہ حضرت شیخ الاسلام کی ایسی سچی اور والہانہ عقیدت وہر دلعزیزی حیدرآباد فرخندہ بنیاد کے علاوہ کسی اور شہر کے حصے میں نہ آسکی ہوگی۔
حضور شیخ الاسلام کچھوچھوی قبلہ کو تقریری دوروں کے موقع پر مختلف تنظیموں کی جانب سے مختلف اجلاسوں وغیرہ میں بھی مدعو کیا جاتاتھا۔ چنانچہ ایسی ہی ایک نشست بعد نماز عصرحسینی بلڈنگ معظم جاہی مارکٹ میں منعقد ہوئی تھی جس میں مولانا عبدا لقادر صاحب حسینی نے میلاد کمیٹی کے اغرض و مقاصد کے بارے میں روشنی ڈالی اورآخر میں حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہ نے مخاطب کرتے ہوئے دین کی خدمت کے فیوض و برکات پر اجمالی روشنی ڈالی تھی ۔
مکتبہ انوارالمصطفیٰ کے افتتاح کے ضمن میں جب مولانا یحیٰ انصاری اشرفی صاحب نے آپ سے گذارش کی توآپ نے اس دعوت کو قبول فرما لیا اور اپنے دست اقدس سے مکتبہ کا افتتاح فرمایا۔ ناشتہ کے بعد معتقدین و مریدین کو کچھ دیراپنے دیدار وصحبت سے بھی نوازا،شیخ الاسلام بہت دیر تک خموش تشریف فرما رہے مگر جب کسی نے اہل سنت کے متعلق کچھ پوچھا تو نہایت ہی متانت اور سنجیدگی سے بالتفصیل جواب عطا فرمایا جس کے چند فقرے ملاحظہ ہوں :
’’ آپ دیکھیں گے کہ’’ وہابی ‘‘شروع شروع میں سنیوں کا لباس اوڑھتے ہوئے اپنے کو سنی کہلواتا ہے اور سنیوں میں سنی بنے پھرتا ہے۔ اس کے بر خلاف اگرآپ کسی سنی کو کہیں کہ تم ذرا کچھ دیر کے لئے وہابی بنے رہو تو وہ سنی ہرگز ایسا کرنے کے لئے تیار نہ ہوگا یہی چیز اہل سنت وجماعت کے حق ہونے کی دلیل ہے۔‘‘

آخری دورۂ حیدرآباد:

حضور شیخ الاسلام کا علمی وعرفانی دورئہ حیدرآباد کئی دہوں تک جاری رہا اور مسلسل ۳۰ سال تک آپ کی آمد ہوتی رہی۔حیدرآباد میں آپ کا آخری خطاب شب براء ت کے موقع پر خلوت میلاد میدان پر ۲۰۰۰ء میں میلاد کمیٹی کے زیر اہتمام منعقد ہوا تھا ۔اس دورے میںحضور شیخ الاسلام کا حیدرآبادمیں دورات قیام رہا، اس قیام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یاس ہیچ مدان نے حیدرآباد میں سلسلہ اشرفیہ کے حلقہ ذکر کی محفل کے افتتاح کی گذارش کی اورجناب ادریس اشرفی سیٹھ کے گھر حضرت شیخ الاسلام نے پہلی مرتبہ محفل ذکر وسلسلہ اشرفیہ کا حلقہ کروایا۔ حلقہ کی یہ محفل بعد میں ناچیز کے گھر منعقد ہونے لگی اور جاری رہی۔اس دورے کے بعدحضور شیخ الاسلام محبوب نگر اور نارئین پیٹھ میں سیرت اولیا کانفرنس سے خطاب فرمانے تشریف لے گئے ۔
(نوٹ:یہ مضمون خلیفۂ حضرت شیخ الاسلام علامہ مولانا ڈاکٹرفرحت علی صدیقی اشرفی رحمۃ اللہ علیہ نے “خطبات جامعہ نظامیہ”(حضور شیخ الاسلام کے تاریخی خطبات کا مجموعہ جو آپ نے جامعہ نظامعہ میںدئے تھے)کے مقدمہ کے طور پر لکھ رہے تھے کہ ان کا اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے انتقال ہوگیا اور بہت سے تاریخی اورا ہم واقعات تحریر ہونے سے رہ  گئے ۔ اس مجلے کے لیے اس مقالے کو جدید ترتیب کے ساتھ آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔ بشارت صدیقی اشرفی)