اشارہ سے بتوں کا گر جانا

    ہر شخص جانتا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے خانہ کعبہ میں تین سو ساٹھ بتوں کی پوجا ہوتی تھی۔ فتح مکہ کے دن حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کعبہ میں تشریف لے گئے، اس وقت دست مبارک میں ایک چھڑی تھی اور آپ زبان اقدس سے یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے کہ
وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَہَقَ الْبَاطِلُ ؕ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا ﴿۸۱﴾ (1)
حق آگیا اور باطل مٹ گیا یقینا باطل مٹنے ہی کے قابل تھا۔
    آپ اپنی چھڑی سے جس بت کی طرف اشارہ فرماتے تھے وہ بغیر چھوئے ہوئے فقط اشارہ کرتے ہی دھم سے زمین پر گر پڑتاتھا۔(2) (مدارج النبوۃ جلد ۲ ص ۲۹۰ بخاری جلد ۲ ص ۶۱۴)
Exit mobile version