فروغِ رضویات میں 'مولانا شرافت علی قادری' اور' رُشد الایمان فاؤنڈیشن' کامنفرد کردار ایک جہدِ مسلسل اوردعوت ِ فکروعمل

فروغِ رضویات میں ‘مولانا شرافت علی قادری’ اور’ رُشد الایمان فاؤنڈیشن’ کامنفرد کردار
ایک جہدِ مسلسل   اوردعوت ِ فکروعمل
تحریر:۔محمداحمد ترازی (کراچی)
ہم اگردینِ حق کی ابتدا ءوارتقاء پر غایرانہ نگاہ ڈالیں تو اُس کے عروج وزوال بلندی وپستی جو وقتاً فوقتاً مختلف اوقات میں ہوتے رہتے ہیں، سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ ربِ ذوالجلال خلاقِ کائنات کی حکمت وقدرت ِبے پایاں اورمشیت ِایزدی نے دینِ حق کو ہمیشہ امتحان و آزمائش کی منزلوں میں مبتلا رکھا ہے۔چودھویں صدی کے عظیم مجدد اعلیٰ حضرت امام ِاہلسنت الشاہ احمدرضاخان فاضل بریلویؒ نے خاتم الانبیاء،سرورکونین حضرت محمدمصطفٰی ﷺکے دین وشریعت اور آپﷺ کی سنت کے غلبہ و احیاء اور نفاذ  سے  سرشار ہوکر قلوبِ مسلمین میں آپ ﷺ کے عشق و احترام کی شمع فروزاں کرنے میں اپنی حیات کااِک اِک لمحہ صرف کیا۔محدثِ بریلوی ؒجس دور میں تشریف لائے وہ ہماری قومی و ملی تاریخ  کا سیاہ  ترین دور ہے ۔ اُس دور میں مسلمانان ِہند دومحاذوں پر برسرپیکار تھے،ایک طرف اپنے ایمان کی سلامتی و بقاء کے لیے  غیروں کے علاوہ وہ اپنوں سے ہوشیار رہنے اور دوسری طرف اپنے  قومی ، ملی اورسیاسی مفادات کے تحفظ  کی خاطر سخت ترین جدوجہد کا  دور ہے ۔
محدث بریلویؒ  نے  اُس دور پُر فتن میں نا صرف اِن دونوں محاذوں پر عوام الناس کی رہبری و رہنمائی  کا فریضہ سرانجام دیا  بلکہ بالخصوص اپنے تلامذہ، خلفاء اورمحبین و متعلقین کی ذہنی صلاحیت اور انداز ِفکر کی مناسبت سے متعلقہ فرائض کے انجام دہی کی ترغیب و تربیت بھی  فرمائی اورسیاسی سوجھ بوجھ  اور دینی فکر وشعور رکھنے والوں کو اُن کے ،اُن کے استعداد ِکار کے مطابق کام کرنے کی  علمی ہدایت بھی دی ۔یعنی  محدث بریلوی ؒنے مسلمانان ِہند کی سیاسی و مذہبی تربیت کے دونوں محاذوں پر مکمل توجہ و یکسوئی سے  نہ صرف کام کیا بلکہ مسلمانوں کے سیاسی محاذ کوقوت و تقویت پہنچانے کے لیے خود ایک مذہبی سیاسی جماعت”رضائے مصطفےٰ” بھی تشکیل دی۔جس کے پلیٹ فارم سےصدرالافاضل مولانا سید نعیم الدین مراد آبادیؒ،مبلغ اسلام علامہ شاہ عبدالعلیم صدیقیؒ، صدرالشریعہ مولانا امجد علی اعظمیؒ،حجۃ الاسلام  مولانا حامد رضاخان ؒاورمفتی اعظم ہند مولانا مصطفیٰ رضاخانؒ نے  تاریخ ساز خدمات بھی انجام دیں۔
یہاں یہ بات پیشِ نظر رہے کہ کسی بھی شخصیت کی سیاسی صلاحیت اوربصیرت کوجاننے اور سمجھنے کے لیےاُس کے زمانہ حیات میں اُبھرنے والی تحریکوں ، اُس کے اثرات و مضمرات اور مقاصد و مفاسد کو سمجھنا   بہت ضروری ہوتا ہے ۔ مندرجہ بالا تناظر  میں جب ہم محدث بریلوی کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کےمسند افتاء پر جلوہ افروز ہونے سے پہلے ہی برعظیم سے مسلمانوں کی ہزار سالہ حکومت کا خاتمہ ہوچکا تھا۔غیر ملکی سامراج نے ملک کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لیا تھا۔ مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ اور شوکت ِپارینہ کا صرف افسانہ ہی رہ گیا تھا۔علمائے  حق تختہ دار پر چڑھائےجاچکے تھے ۔جو باقی بچے تھے اُنہیں سزائے دریائے شور دی جاچکی تھیں۔ مادی تباہی کے ساتھ ساتھ  علمی و فکری  زوال و انحطاط کا دور شروع ہوچکا تھا۔مسلمانوں کی اجتماعی قوت انتشار وافتراق کی نذر ہوکر فنا کے گھاٹ اتر چکی تھی۔اب نہ اُن کا  حال تھا اور  نہ ہی مستقبل۔صرف ماضی کی یادیں اور سرد آہیں اُن کا مقدر بن چکی تھیں۔
اِن مایوس کن حالات میں محدث بریلوی کی نابغہ روزگار شخصیت  اپنی جلالتِ علمی کی جلوہ سامانیوں اور عشق رسولﷺ کی ضیاء پاشیوں کےجَلو میں  1869ء میں مسند افتاء پر رونق افروز ہوتی ہے اور  اپنی حیات کے آخری لمحہ تک برعظیم میں اُٹھنے والی تمام  تحاریک بالخصوص تحریک ِخلافت وترک ِ  موالات 1919ءاور اُس کےنتیجےمیں برپا “ہندو مسلم اتحاد”،” ترک ِگاؤکشی”اور” تحریک ِخلافت” ہی کے ضمیمے” تحریک ِہجرت1920ء ”اور شدھی و سنگٹھن کےاثرات و مضمرات سے قوم کو آگاہ کرنے اور گاندھی و گاندھی نوازوں کی منافقانہ سیاست سے بچانےکی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔محدث بریلوی اُس نازک  و پُر فتن دور میں اسلامیانِ ہند کی راہنمائی کا فریضہ ہی سرانجام نہیں دیتے بلکہ بلاخوف لومۃ لائم مشرکین ِہند کے ساتھ مسلمانوں کے اختلاط و اتحاد کے خطرناک نتائج سے بھی آگاہ کرتے ہیں  اور اُن کو اپنی دینی و وملّی ذمہ داریوں کا احساس دلا کر اپنی بالغ نظری،علمی ثقاہت اور خداداد سیاسی بصیرت کا روشن اور تابناک ثبوت بھی فراہم کرتے ہیں۔آپ اُس دور میں مخالفینِ اسلام کی اِن تباہ کن تحاریک  کی قلعی ہی نہیں کھولتے  بلکہ استقامت و  پامردی سے اِن کا  علمی و فکری مقابلہ بھی کرتے ہیں۔اورحکمت و دانائی سے ملت ِ اسلامیہ کو درپیش مسائل کی گرہیں کھولتے ہوئے قوم کی فلاح و بہبود،ترقی و استحکام  اور کامیابی و کامرانی کی راہ ِعمل بھی متعین کرتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر جمال الدین اسلم محدث  بریلوی اور مولانا آزاد کے افکار کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے”امام احمد رضا بریلوی اور مولانا آزاد کے افکار ”صفحہ 19، پر لکھتے ہیں کہ:”برصغیر میں نیشنلسٹ آزاد کو تغافل اور اہلسنت کے علمبردار احمد رضا کو بقائے دوام نصیب ہوا۔ امام الہند کا احترام کیا جاتا ہے ،اُن کی پیروی یا تقلید نہیں کی جاتی۔۔۔امام اہلسنت مولانا احمدرضاخان کی زندگی میں بھی اور بعد وفات بھی لاکھوں کی تعداد میں پیرو ملے۔۔۔ فاضل بریلوی امام اہلسنت بن کر مخصوص ہوگئے۔”محدث بریلوی نے اپنے علم و عمل ،سیرت و کردار،بصیرت وافکار اور روحانی صلاحیتوں سے اسلامیانِ ہند میں جو فکری و اصلاحی انقلاب پیدا کیا آج اُس کی شہادت ہماری پوری صدی دے رہی ہے۔اوراِس کا جیتا جاگتا ثبوت دنیا کے نقشہ پر ایک نئی مملکت  کا وجودقیام ِ پاکستان کی شکل میں موجود ہے۔
ممتاز دانشور و صحافی میاں عبدالرشید شہید، پاکستان کا پس منظر اور پیش منظر،صفحہ 116،پر میں لکھتے ہیں  کہ” علامہ اقبالؒ اور قائد اعظم ؒتحریک ِخلافت اور اِس کی ضمنی تحریکوں کو مسلمانوں کے لیے سخت نقصان دہ سمجھتے تھے مگر اُن دنوں کسی نے اُن کی ایک نہ سنی۔چنانچہ وہ اِ س آندھی کے دوران میدانِ سیاست سے ہٹ کر ایک طرف ہوگئے تھے۔جن لوگوں نے میدان میں آکرخلافت ،ہجرت اور ترکِ موالات  جیسی نقصان دہ تحریکوں  کی مخالفت کی اور اِن کے حامیوں اور لیڈروں کا زور توڑا ،وہ حضرت احمد رضا خانؒ اور اُن کے احباء ،رفقاء اور عقیدت مند  ہی تھے ۔۔۔اِن ہی حضرات نے متحدہ نیشنلزم کے ڈھول کا پول کھولا اور مسلمانوں کے الگ تشخص پر زور دیا۔(اور) جب قرار داد پاکستان منظور ہوئی اُس وقت حضرت احمد رضا خان بریلویؒ ہی کے ہم مسلک علماء اور پیران کرام نے اِس کی بھر پور حمایت کی ۔”
حقیقت یہ کہ محدث بریلوی نے مسلمانوں کو اپناعلیحدہ تشخص برقرار رکھنے اور ایک الگ سیاسی پلیٹ فارم بنانے پر زور دیا جس کا نتیجہ آل انڈیا سنی کانفرنس کے قیام کی صورت میں ظاہر ہوا۔آپ کی مدبرانہ سیاسی بصیرت اور تربیت سے مسلمانوں میں مفسرین، مفکرین، دانشور اور سیاستدانوں کی ایک جماعت تیار ہوئی جس نے بالآخر اسلام کو کفر سے الگ کرکے پاکستان جیسی مملکت ِخداداد کو جنم دیا ۔
محدث بریلوی کا سینہ علوم و معارف کا خزینہ اور دماغ فکر و شعور کا گنجینہ تھا۔آج  اپنے بیگانے سب ہی معترف ہیں کہ شخصی جامعیت، اعلیٰ اخلاق و کردار، قدیم و جدید وعلوم و فنون میں مہارت ، تصانیف کی کثرت ، فقہی بصیرت ، احیائے سنت کی تڑپ، قوانین شریعت کی محافظت، زہد و عبادت اور روحانیت کے علاوہ سب سے بڑھ کر قیمتی متاع و سرمایہ عشق رسول ﷺ میں اُن کے معاصرین میں کوئی اُن کا ہم پلہ و ہم سرنہ تھا۔یہی وہ دولت ہے جس کے طفیل آج پوری دنیا  کی  جدید دانش گاہوں کے پروفیسر ز اور اساتذہ  محدث بریلوی کی جانب متوجہ ہوچکے ہیں ۔آپ کی تصنیفات و تالیفات  پرتحقیق و ریسرچ  کی جاری ہے ۔اب تک  دنیا بھر کی یونی ورسٹیز میں محدث بریلوی کی جامع الصفات شخصیت کے مختلف النوع پہلوؤں پراردو،سندھی، عربی، فارسی،بنگلہ اورانگریزی وغیرہ میں کثیرالتعداد تحقیقی مقالات تحریر کیے جاچکے ہیں۔جس سے آپ  کی شہرۂ آفاق علمی مقبولیت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے ۔ یہ محدث بریلوی کا ہی فیضان ِ محبت ہے کہ جدھر دیکھئے اُدھر اُن کے  نام وپیغام کے پھریرے لہراتے نظر آرہے ہیں۔
  جس سمت دیکھیے وہ علاقہ رضا  کا ہے وادی  رضا  کی، کوہِ  ہمالہ  رضا  کاہے
آج اپنے و بیگانے سب ہی آپ کے کردارو عمل کے معترف ہیں۔اور آپ کے  علمی،دینی،ملی،فنی کارناموں اورپیغام ِ عمل کودنیا بھر میں عام کرنے کی تگ دو میں مصروف ہیں۔اِس وقت پاک و ہند میں متعدد افراد،انجمنیں اور ادارے محدت بریلوی کی مطبوعہ وغیر مطبوعہ اور نادر ونایاب  تصانیف اور آپ  کے علمی و فکری کارناموں کی تحقیق و  تشہیر میں مصروف ہیں۔اور تعلیمی،تصنیفی، دعوتی اور اشاعتی سرگرمیوں کے ذریعہ اُن کی زریں وتاریخ ساز حیات وخدمات پروقت کی پڑی ہوئی گردوغبار کی تہوں کو ہٹا رہے ہیں۔
سن 2004ء میں فیصل آباد سے بیس کلومیٹر  جنوب مغرب میں واقع تحصیل سمندری میں”مظہر اسلام” کے نام سے قائم ہونے والا چھوٹا سا ادارہ جو 2005ء میں”رشدالایمان فاؤنڈیشن”میں تبدیل ہوچکا ہے۔اِنہی میں سے ایک ہے۔محدث بریلوی کاتجویز کردہ  دس نکاتی رفاہی، فلاحی اور اصلاحی منصوبہ  اِس ادارے کے اغراض و مقاصد کا بنیادی اور اولین ہدف ہے۔ جس کی ترویج و تکمیل کے لیے اب تک ”رشدالایمان فاؤنڈیشن”ہزاروں کتب و رسائل شائع کرکے افادہ عام کے لیے مفت تقسیم کرچکی ہے۔حال ہی میں محدث بریلوی کے صد سالہ عرس اور 25،صفر کی مناسبت سے ”رُشد الایمان فاؤنڈیشن ”نے انتہائی دیدہ زیب اور جاذبِ نظر سرورق سے مزین 25،گرانقدر علمی و تحقیقی رسائل ومجلاجات بھی شائع کیے ہیں۔
جن میں”مختصر تذکرہ مجدد اعظم”،”امام احمد رضاؒ عقل ودانش کی عدالت میں”،”امام احمد رضاؒ اور امام حرم شیخ صالح کمال مکی”،”اعلیٰ حضرت ؒکے رفاہی کارنامے” ،”امام احمد رضا ؒکا دس نکاتی منصوبہ”، ”صنعت ِتجنیس اور اعلیٰ حضرت ؒکی قادرالکلامی”،محدث بریلوی ؒکے عشق کے تشکیلی عناصر”،”امام احمد رضاؒ خدمات واثرات” ،”عقیدہ توحید کے تحفظ میں امام احمد رضاؒ کی خدمات”،”سرتاج الفقہا امام احمد رضاؒ”،علم تفسیر میں امام احمدرضاؒ کی خدمات”، ”علم سیرت و شمائل نبویہ ﷺاور امام احمد رضاؒ”،”تعلیم اور فکر رضاؒ و نظام تعلیم پر استعماری اثرات اور اُن کا تدارک”،”امام احمد رضا ؒاور احترام سادات”، ”محقق بریلویؒ اور جدید اصول ِ تحقیق”،”امام احمد رضاؒ اور فقہائے سلف سے اختلاف”،”امام احمد رضاؒاور مولانا سید اسماعیل خلیل مکی تعلقات وروابط کا مختصر جائزہ”،”مولانا حاکم علی اور محدث بریلوی امام احمد رضاؒ”،”حسام الحرمین اور مشائخ نقشبندیہ”،”انگریز کے دوست یادشمن”،فقہ المعاملات میں فتاویٰ رضویہ کی بے مثال خدمات”،کنزالایمان پس منظر اور پیش منظر”،”عطر حدائق ِ بخشش”،”سیرت اعلیٰ حضرتؒ کوئز”اور ”تاجدار ختم نبوتﷺ” وغیرہ شامل ہیں۔
اِن رسائل ومجلاجات کےموضوعات  سے ہی  اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ ہررسالہ  اپنے اندرکس قدر علم وتحقیق کےموتی اور حب ِاعلی حضرت ؒکی مہک و خوشبو لیے ہوئے ہے۔اِن رسائل کے مصنفین میں پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد نقشبندی، مفتی علی اصغر عطاری، پروفیسر ڈاکٹر مجیداللہ قادری، پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ نجم القادری  اور پروفیسر ڈاکٹر اسمعیل بدایونی، سید صابر حسین بخاری اور مولانا غلام مصطفیٰ رضوی جیسے محققین اور یونیورسٹی اسکالرز شامل ہیں اِن مصنفین کے نام دیکھ کر ہی رسائل کی اہمیت وافادیت  کا انداہ ہو جاتا ہے ۔پھر اِن گراں قدر قیمتی رسائل کو لنگر رضویہ کے طور پر چھاپنا  اور  پاکستان و بیرون ِ دنیا میں مفت تقسیم کرنا اوراہل ِ محبت و ذوق  تک پہنچانا ایک بہت بڑی  علمی خدمت ہے ۔ مولانا شرافت علی قادری  صاحب نے یہ خدمت سر انجام دے کر وقت کی اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔رُشد الایمان فاؤنڈیشن  کوہر سال یوم رضاپر ”امام احمد رضا کانفرنس”کے انعقاد کے موقع پر لنگر و شیرنی کے بجائے حاضرین ِ محفل میں محدث بریلوی کے سیرت و کردار سے متعلق کوئی نہ کوئی کتاب مفت تقسیم  کرنے کا بھی اعزاز حاصل ہے ۔ سالِ ھذا کی یہ پروقار کانفرنس اپنی سابقہ روایات کے مطابق چوبیس 24 ،فروری  2019ءکو بندھن میرج ہال سمندری میں منعقد ہونے جارہی ہے۔ یوں یہ سلسلہ گذشتہ سولہ سال سے تواتر کے ساتھ جاری  وساری ہے۔
جس کا سہرا ”رُشدالایمان فاؤنڈیشن” کے چئیرمین اور رُوح رواں مولانا محمد شرافت علی قادری رضوی صاحب کے سر جاتا ہے۔15،نومبر1985ء کو تحصیل سمندری کے چک 464 گ ب کے زمیندارچوہدری  سرور حسین ڈوگر کے گھر پیدا ہونے والے مولانا شرافت علی قادری نوجوان عالم دین ہیں۔ ابتدائی تعلیم شرق پور شریف،شیخوپورہ میں اپنے ماموں   چوہدری محمد حسین ڈوگرسے حاصل کی۔1998ء میں مڈل تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد دینی تعلیم کی جانب راغب ہوئے۔ صوفی امانت علی انصاری سے ناظرہ قرآن  پڑھا۔حضرت علامہ فیض احمد اویسی صاحب ؒ  کے زیرِ نگرانی دورہ تفسیرالقرآن مکمل کرنے والے مولانا شرافت علی قادری صاحب کے  حفظ و تجوید میں صاحبزادہ قاری محمد فاروق رضا قادری استاد ہیں۔اُنہیں شیخِ طریقت حضرت علامہ پیرابومحمد ،محمد عبدالرشید قادری سمندری شریف  سے شرف بیعت بھی  حاصل ہے ۔
سادہ و عام فہم اندازِ تکلم  اور ہر دلعزیز وملنسار طبیعت رکھنے والے عالم باعمل مولانا شرافت علی قادری ایک اچھے خطیب،شفیق و بارعب استاداور بہترین منتظم ہیں۔آپ ”جماعت اہلسنت” تحصیل سمندری کے صدراور”رُشدالایمان فاؤنڈیشن”کے علاوہ ”ادارہ تحقیقات ِ امام احمد رضا کراچی، سب آفس تحصیل سمندری” اور ”رضا اسلامک ریسرچ سنیٹر و جامعہ حنفیہ ”کے روح رواں بھی ہیں۔مجددِ دین و ملت ،پروانہ شمع رسالت،امام ِاہلسنت الشاہ احمد رضا خان فاضل بریلویؒ  سے محبت وعقیدت آپ  کا خاصہ و پہچان ہے۔
فیصل آباد کی جدید سہولتوں اور وسائل سے محروم دور افتادہ تحصیل سمندری میں رہ کر  بے سروسامانی کے عالم میں رضویات کے نت نئے  پہلوؤں ، گوشوں اور زوایوں کو متعارف کرانا آسان کام نہیں۔مگرجب حوصلے بلند، ارادے اٹل ،عزم جواں اور اخلاص و للہیت کی دولت  شامل حال ہوجائے تو کوئی مشکل،مشکل نہیں رہتی ۔ربِ کریم نے مولانا شرافت علی قادری صاحب کو اِن صفات سے متصف فرمایا ہے۔ آپ نامساعد حالات اور درپیش مالی مشکلات کے باوجود محدت بریلوی کے افکارونظریات کی جدید علمی انداز اور اسلوب میں ترویج و اشاعت کا بیڑا  اُٹھائے ہوئے اِس شعر کی عملی تفسیر بنے ہوئے  ہیں کہ   ؎
کام وہ لے لیجیے تم کو جو راضی کرے              ٹھیک ہو نام رضا تم پہ کروڑوں درود
یہ آپ کی  محنت ِشاقہ ،مسلسل تگ دو اور جستجو و لگن ہی کے ثمرات ہیں کہ آج برمنگھم،سعودی عرب ،دوبئی، اٹلی، کویت، ہندوستان اور پورے پاکستان سے  کتب ورسائل کے سلسلے میں آنے والے فون اور پیغامات ظاہر کررہے ہیں کہ”رُشدالایمان فاؤنڈیشن” کے  نام اور  افکارونغمات ِ رضا  کی خوشبو ہر  جانب مہک رہی  ہے ۔
درحقیقت مولانا شرافت علی قادری رضوی اپنی ذات میں ایک انجمن  ایک ادارہ ہیں۔موضوع و مواداورسائل کا انتخاب،کمپوزینگ و ڈیزائینگ کے مراحل،کاغذ سے  لے کرپرنٹنگ کے مسائل،اخراجاتی وسائل،اور پریس سے لے کر پیکنگ،پھر  سمندری سے بیس کلو میٹر  دور فیصل آبادجاکر حوالہ ڈاک کرنے کے مسائل و معاملات اور اہل علم  کے ذوق ِ جنون کی تسکین  کے لیے  اِن کی ترسیل ایک مشکل اورصبرآزما   کام ہے ۔مگر مولانا شرافت علی قادری ہر محاذ پر تنِ تنہا مصروف ِ عمل نظر آتے ہیں۔
اِک طرف اَعدائے دیں ایک طرف حاسدیں              بندہ  ہے  تنہا  ، شہا  تم  پہ  کرورڑوں   درود
یقیناً یہی محدث بریلوی  سےسچی محبت اور اُن کی بارگاہ میں خراج ِ عقیدت پیش کرنے کا عملی اظہار ہے۔ہم  اُن  کی ہمت،حوصلے،لگن اور عزم ِمحکم کے قدردان اور دل سے معترف ہیں اور اُن کی اور اُن کے رفقاء کی  کوششوں و کاوشوں کو  ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے تمام  محبان ِ  اعلیٰ حضرت سے ملتمس ہیں کہ وہ مولانا شرافت علی قادری رضوی  اور ”رشدالایمان فاؤنڈیشن ”کے کام، پیغام  اور مقاصدکو عام کرنے میں اپنی حیثیت و بساط کے مطابق دامے درمے، سخنے  حصہ لیں۔اُن کےحامی و ہمدرد اورمعاون و مدد گار بنیں۔
یہی عصر حاضر کا تقاضا ہے  کہ محدث بریلوی  کی تعلیمات اور افکار و نظریات  کو عام کیا جائے۔فکرِاسلامی کی حفاظت و ترجمانی پر مبنی اُن کے ذخیرہ علم کی توسیع و اشاعت میں  بھرپورحصہ لیا جائے اور اُن کے پیش کردہ نظریات وخیالات کی روشنی میں ملک و ملت کے کارواں کو آگے بڑھایا جائے۔آج نسل ِنو کی تعمیری ذہن سازی اور مخالفین و معاندین کے پیدا کردہ ابہام و تشکیک  کے گردوغبار کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ محدث بریلوی کے علمی نوادرات و آثار سے اکتسابِ فیض  حاصل کیا جائے تاکہ یاسیت،لاتعلقی اوربیزاریت کے اندھیرے دم توڑدیں اور حقیقت  و آگہی کے  روشن اجالے ذہن و فکر کو خوش گوار انقلاب سے آشنا و ہمکنار کرسکیں۔
اللہ کریم نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ہمیں ایک دوسرے کا حامی و مددگار بننے کی سعادت وتوفیق  مرحمت فرمائے ۔آمین بحرمۃ سید المرسلیٰن ﷺ
*****
الداعی الخیر:۔محمداحمد ترازی۔مورخہ 06،فروری 2019ء ۔کراچی