راہِ خدا کے مصائب پر صبر

راہِ مَحبَّت میں دَرپیش مَصَائِب پر صَبْر کیا جائے اور کبھی بھی حَرْفِ شِکایَت زبان پر نہ آئے۔کیونکہ مَحبَّتِ مصطفےٰ سے بندے کو ایک ایسی لذّت حاصِل ہوتی ہے کہ بندہ ہر قِسْم کے مَصَائِب کو بھول جاتا ہے اور ان مَصَائِب سے جو تکلیف دوسرے لوگوں کو پہنچتی ہے وہ اسے نہیں پہنچتی۔1 جیسا کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ عمار سُـمَیَّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے مُتَعَلّق مَرْوِی ہے کہ جب آپ اَسِیرِ گَیْسُوئے مصطفےٰ ہوئیں تو کفّار بَداَطْوَار نے آپ پر ظُلْم و سِتَم کی حَد کر دی مگر آپ نے اپنے دِل میں فَروزاں (روشن)عِشْقِ رَسول کی شَمْع کو ظلمتوں کی آندھیوں سے بجھنے نہ دیا اور موت کا اَبَدِی جام نوش فرما لیا۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا اِبنِ اسحاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالرَّ  زَّاق فرماتے ہیں: مجھے آلِ عمّار بِن یاسِر کے لوگوں نے بتایا کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا سُـمَیَّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو آل ِبنو مُغِیرہ اِسلام لانے کی وجہ سے اِیذائیں دیتے تھے تاکہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اِنکار کر دیں ، مگر آپ ان کے باطِل معبودوں کا اِنکار کرتی رہیں یہاں تک کہ انہوں نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو شہید کر دیا۔ رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عمَّار،  ان کی والِدہ اور ان کے والِد کو مکۂ مکرّمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کے تپتے صحرا میں مَقامِ اَبْطَح پر اِیذائیں پاتے دیکھتے تو اِرشَاد فرماتے: اے آلِ یاسِر! صَبْر کرو! تمہارے  لیے جنّت کا وعدہ ہے۔1 حضرتِ سُـمَیَّہ بِنت خُبَّاطرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے مَظْلُومَانہ شَہادَت کے عِلاوہ اور بھی سختیاں جھیلی تھیں،مثلاً ان کو لوہے کی زِرہ پہنا کر سَخْت دھوپ میں کھڑا کر دیا جاتا تاکہ دھوپ کی گرمی سے لوہا تپنے لگے۔ یہاں تک کہ انہوں نے سب سے بڑے دُشْمَنِ اِسلام ابو جہل کے ہاتھوں شَہادَت کو قُبول کر لیا مگر اِسلام سے منہ نہ موڑا۔