میلادشریف منظوم از مولانا حسن بریلوی علیہ الرحمۃ

صبا نے کس کی آمد کی سنائی
مرادِبلبل بے تاب لائی
مچی ہیں شادیاں کیسی گلوں میں
مبارکبادیاں ہیں بلبلوں میں
یہ نرگس کس کا رستہ دیکھتی ہے
یہ سوسن کس کی مدحت کر رہی ہے
کھلے پڑتے ہیں سب غنچے یہ کیا ہے
انہیں کس پھول کا شوق لقا ہے
نئی پوشاک بدلی ہے گلوں نے
مچایاشورہے کیوں بلبلوں نے
نئی معلوم ہے یہ ماجرا کیا
یہ کیسا حکم ہے رضواں کو آیا
بنا دے تو چمن ہر ایک بن کو
نہ ہو جنت سے کچھ نسبت دلہن کو
ہوا مالک کو یہ حکمِ خداوند
کہ دروازے جہنم کے ہوں سب بند
قریشی جانور کیوں بولتے ہیں
یہ کس کے وصف میں لب کھولتے ہیں
زمین کی سمت کیوں مائل ہیں تارے
یہ کس کی دید کے سائل ہیں تارے
یہ بت کس واسطے اوندھے پڑے ہیں
زمیں پہ کیوں خجالت سے گرے ہیں
زمیں پر کیوں ملائک آرہے ہیں
یہ کیوں تحفے پہ تحفے لا رہے ہیں
یہ آمد کون سے ذیشان کی ہے
یہ آمد کون سے سلطان کی ہے
اسی حیرت میں تھے اہل تماشہ
کہ ناگہ ہاتفِ غیبی یہ بولا
وہ اٹھی دیکھ لو گردِ سواری
عیاں ہونے لگے انوار باری
نقیبوں کی صدائیں آرہی ہیں
کسی کی جان کو تڑپا رہی ہیں
مؤدب ہاتھ باندھے آگے آگے
چلے آتے ہیں کہتے آگے آگے
دا جن کے شرف پر سب نبی ہیں
یہی ہیں وہ یہی ہیں وہ یہی ہیں
یہی والی ہیں سارے بیکسوں کے
یہی فریادرس ہیں بے بسوں کے
انہیں کی ذات ہے سب کا سہارا 
انہیں کے درسے ہے سب کاگزارا
انہیں سے کرتی ہیں فریاد چڑیاں
انہیں سے چاہتی ہیں داد چڑیاں
یہی ہیں جو عطا فرمائیں دولت
کریں خود جو کی روٹی پر قناعت
انہیں پر دونوں عالم مر رہے ہیں
انہیں پر جان صدقے کر رہے ہیں
فزوں رتبہ ہے صبح وشام ان کا
محمد مصطفی ہے نام ان کا
کوئی دامن سے لپٹا رورہا ہے
کوئی ہر گام محوِالتجاء ہے
ادھر بھی اک نظر ہو تاج والے
کوئی کب تک دلِ مضطر سنبھالے
بہت نزدیک آپہنچا وہ پیارا
فدا ہے جان ودل جس پر ہمارا
اٹھیں تعظیم کو یارانِ محفل
ہوا جلوہ نما وہ جانِ محفل