جان و مال کی قربانی

عِشْقِ مصطفےٰ میں جان و مال کی قربانی پیش کرنا پڑے تو قطعی طور پر دریغ نہ کیا جائے بلکہ ہر اس واسطے و ذریعے کو خَتْم کر دیا جائے جو حُصُولِ رَضا  و قُرْبِ مصطفےٰ سے مانِع ہو 3 اور اس نِدائے پُر مَسَرَّت پر یقین رکھا جائے کہ
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جَہاں چیز ہے کیا لوح و قَلَم تیرے ہیں
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!صَحابیات طیبات رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ ہمیشہ راہِ خُدا مصطفےٰ میں اپنے تَن مَن دھن کو قُربان کرنے کے لیے تیّار رہتیں اور اس سلسلے میں کبھی کسی کی پَروا نہ کرتیں۔ کیونکہ وہ سمجھتی تھیں:
نِگاہِ عِشْق و مستی میں وُہی اَوّل ، وُہی آخِر
وُہی قرآں ، وُہی فُرقاں ، وُہی یٰسیں ، وُہی طٰہ

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

یہی وجہ ہے کہ جب اُمُّ الْمُومنین حضرت سیِّدَتُنا خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اُمَرا و رَؤسائے قُریش پر سرورِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ نِکاح کو ترجیح دی تو بعض لوگوں نے اسے مَعْیُوب جانا اور چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ جب آپ کو مَعْلُوم ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے تمام رَؤُسَائے مکّہ کو حَرَم شریف میں بُلایا اور انہیں گواہ بنا کر اپنا سارا مال مَحْبُوبِ رَبِّ دَاوَر، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدموں پر نچھاوَر کر دیا۔1 اس کی تائید اُس حدیثِ پاک سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے اِرشَاد فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قَسَم!خدیجہ سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی، جب سب لوگوں نے میرے ساتھ کُفْر کیا اس وَقْت وہ مجھ پر اِیمان لائیں اور جب سب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس وَقْت انہوں نے میری تصدیق کی اور جس وَقْت کوئی شخص مجھے کوئی چیز دینے کے لیے تیّار نہ تھا اس وَقْت خدیجہ نے مجھے اپنا سارا سامان دے دیا اور انہیں کے شِکَمْ  سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے اَولاد عَطا فرمائی۔1