بیمار کی مزاج پُرسی

بیمار کی مزاج پُرسی

(۱)’’ عَنْ عَلِیٍّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَعُودُ غُدْوَۃً إِلَّا صَلَّی عَلَیْہِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ حَتَّی یُمْسِیَ وَإِنْ عَادَہُ عَشِیَّۃً إِلَّا صَلَّی عَلَیْہِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَکٍ حَتَّی یُصْبِحَ وَکَانَ لَہُ خَرِیفٌ فِی الْجَنَّۃِ‘‘۔ (1)
حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی صبح کے وقت عیادت کرتا ہے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے رحمت و مغفرت کی دُعا کرتے ہیں اور جو شام کے وقت عیادت کرتا ہے اس کے لیے ستر ہزار فرشتے صبح تک دعائے مغفرت کرتے ہیں اور اس کے لیے جنت میں ایک باغ ہے ۔ (ترمذی، ابوداود)
(۲) عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوئَ وأَعَادَ أَخَاہُ الْمُسْلِمَ مُحْتَسِبًا بُوعِدَ مِنْ جَہَنَّمَ مَسِیرَۃَ سِتِّیْنَ خَرِیفًا ‘‘۔ (2)
حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جس نے اچھا وضو کیا اورمحض ثواب حاصل کرنے کی غرض سے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کی تو اس کو ساٹھ برس کی مسافت کے فاصلے پر دوزخ سے دور کردیا جاتا ہے ۔ (احمد)
(۳)’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ عَادَ مَرِیضًا نَادَی مُنَادٍ مِنَ السَّمَائِ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاکَ وَتَبَوَّأْتَ مِنْ الْجَنَّۃِ مَنْزِلًا‘‘۔ (3)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ جو شخص بیمار کی عیادت کو جاتا ہے تو آسمان سے ایک منادی ندا کرتا ہے کہ تو اچھا ہے اور تیرا چلنا اچھا ہے ۔ اور جنت کی ایک

منزل کو تو نے (اپنا) ٹھکانا بنالیا۔ (ابن ماجہ)
(۴)’’ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ عَادَ مَرِیضًا لَمْ یَزَلْ یَخُوضُ الرَّحْمَۃَ حَتَّی یَجْلِسَ فَإِذَا جَلَسَ اغْتَمَسَ فِیہَا ‘‘۔ (1)
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ جو شخص مریض کی عیادت کو جاتا ہے توو ہ رحمت کے دریا میں غوطہ زن رہتا ہے جب تک کہ بیٹھ نہیں جاتا اور جب بیٹھ جاتا ہے تو غریق دریائے رحمت ہوجاتا ہے ۔ (احمد، مالک)
(۵)’’ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلْتُمْ عَلَی الْمَرِیضِ فَنَفِّسُوا لَہُ فِی أَجَلِہِ فَإِنَّ ذَلِکَ لَا یَرُدُّ شَیْئًا وَیُطَیِّبُ بِنَفْسِہِ ‘‘۔ (2)
حضرت ابوسعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ جب تم بیمار کی مزاج پُرسی کو جائو تو موت کے بارے میں اس کا رنج و غم دُور کرو اگرچہ اس سے اس کی موت کا وقت نہیں ٹل سکتا لیکن ا س کا دل خوش ہوجائے گا۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
(۶)’’ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ مُرْ سَلاً قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ الْعِیَادَۃِ سُرْعَۃُ الْقِیَامِ ‘‘۔ (3)
حضرت سعید بن مسیب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مرسلاً منقول ہے کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ بہترین عیادت یہ ہے کہ مزاج پرسی کے بعد فوراً اُٹھ جائے ۔ (بیہقی، مشکوۃ)
(۷)’’ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَعُودُ مُسْلِمًا فَیَقُولُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَسْأَلُ اللَّہَ الْعَظِیمَ
حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا نے کہا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کوجائے توسات بار یہ دعا پڑھے ’’أَسْأَلُ

رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ أَنْ یَشْفِیَکَ إِلَّا شُفِیَ إِلَّا أَنْ یَکُوْنَ قَدْ حَضَرَ أَجَلُہُ‘‘۔ (1)

اللَّہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ العرشِ العظیم أَنْ یَشفِیک‘‘(1) اگر موت کا وقت نہیں آگیا ہے تو اسے ضرورشفا ہوگی۔ (ابوداود، ترمذی)
٭…٭…٭…٭