حضرت بشر حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی ہمشیرہ

حکایت نمبر:321 حضرت بشر حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی ہمشیرہ

حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن احمد بن حَنْبَل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہما سے منقول ہے کہ ایک دن میں اپنے والد ِ محترم حضرتِ سیِّدُنا احمد بن حَنْبَل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ اپنے گھرمیں تھا کہ کسی نے دروازے پر دستک دی۔ میرے والد نے فرمایا: ”بیٹے، جاؤ! دیکھو! کون ہے؟” میں باہر گیا تو ایک باپردہ خاتون کھڑی تھی اس نے مجھ سے کہا:” اے عبد اللہ! احمد بن حَنْبَل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے میرے اندر

آنے کی اجازت طلب کرو۔”میں والد صاحب کے پاس آیا اور اس خاتو ن کے متعلق بتایا تو انہوں نے اجازت عطا فرمادی ۔ وہ آئی اورسلام کر کے بیٹھ گئی پھر پوچھا :”اے ابو عبداللہ!میں رات کو چراغ کی روشنی میں سوت کا تتی ہوں ، جب کبھی چراغ بجھ جائے تو چاند کی روشنی میں بھی سوت کا ت لیتی ہوں ، کیا سوت فروخت کرتے وقت خرید ار کے سامنے یہ ظاہر کردنیا مجھ پر لازم ہے کہ یہ سوت چاند کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے اور یہ چراغ کی روشنی میں؟”
میرے والد ِ محترم حضرتِ سیِّدُنا احمد بن حَنْبَل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :” اگر آپ ان دونوں اونوں میں فرق کرسکتی ہیں تو ضروری ہے کہ دو نوں کو علیحدہ علیحدہ فروخت کریں ۔ ” خاتون نے پھر سوال کیا:” اے ابو عبد اللہ! کیا شدتِ مرض کی وجہ سے مریض کا کراہنا یا آہیں بھرنا شکوہ کہلائے گا ؟” فرمایا:” میں امید کرتا ہوں کہ یہ شکوہ نہیں ، لیکن تمام غموں اور مصیبتوں کی فریاد اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں کی جاتی ہے ۔” متقی خاتون رخصت ہوگئی ۔ میرے والد نے مجھ سے فرمایا:” میرے بیٹے! میں نے آج تک ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے اس خاتون کی مثل سوال کیا ہو۔ جاؤ !دیکھو! یہ خاتون کون ہے اور کہاں رہتی ہے ؟” میں اس کے پیچھے پیچھے گیا تو دیکھاکہ وہ حضرت سیِّدُنا بِشْر حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کے گھر میں داخل ہوگئی وہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ہمشیرہ تھی ۔ میں نے واپس آکر والدصاحب کو بتایا تو انہوں نے فرمایا:”بِشْر حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی ہمشیرہ کے علاوہ کوئی اور عورت اتنی متقی وپرہیز گار نہیں ہوسکتی ۔”
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن احمد بن حَنْبَل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:” ہمیں نہیں معلوم کہ حضرتِ سیِّدُنا بِشْر حافی علیہ رحمۃ اللہ الکافی کی تین بہنوں ”زُبدہ،مُضغہ،مُخَّہ”میں سے یہ کون سی تھی ۔ زبدہ کو اُمِّ علی کہا جاتا تھا ، مضغہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عمر میں بڑی تھی اور آپ کی زندگی ہی میں اس کا انتقال ہوگیا تھا ۔ اس کے وصال پر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت روئے اور بہت غمگین ہوئے۔ جب اتنے زیادہ رنج وملال کا سبب دریافت کیا گیا تو فرمایا:” میں نے بعض کتابوں میں پڑھاہے کہ جب بندہ اپنے پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی عبادت میں سستی کرتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے اس کی سب سے زیادہ محبوب شئے سے محروم کردیتا ہے ۔ میری یہ ہمشیرہ مجھے دنیا میں سب سے زیادہ پیاری تھی، اب وہ مجھ سے جدا ہوگئی ۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)

Exit mobile version