بنا وٹی راہب کی ہلاکت

بنا وٹی راہب کی ہلاکت

کہاجاتا ہے کہ” ایک شخص شہد،گھی،تیل اورشراب بیچاکرتاتھا۔خریدتے وقت توصاف ستھری اور خالص چیزیں خریدتالیکن بیچتے وقت خوب ملاوٹ کرتااورمہنگے داموں بیچتا۔اس کی داڑھی بہت پیاری وحسین تھی جوبھی اسے دیکھتاتوکہتاکہ تجھے توبہت بڑاراہب ہوناچاہے تیری داڑھی بالکل راہبوں جیسی ہے ۔لوگوں کی بات سن کراس شخص کے دل میں یہ بات آئی کہ” مجھے رہبانیت کاراستہ اختیارکرناچاہے تاکہ لوگوں میں میری قدرومنزلت بڑھ جائے۔”چنانچہ اس نے اپنی بیوی سےکہا:” لوگ میری داڑھی کی خوب تعریف کرتے ہیں لیکن میرے عمل سے بے خبرہیں،اگرمیں رہبانیت کا راستہ اختیا کر لو ں توخوب مالامال ہوجاؤں گااورلوگوں میں میرامرتبہ بلندہوجائے گا۔”یہ سن کراس کی زوجہ نے روتے ہوئے کہا: ”کیا تُو مجھے بیواؤں اور اپنے بچوں کویتیموں کی طرح کردے گا۔”اس نے کہا:”تیراناس ہو!میں عبادت کی نیت سے کب رہبانیت اختیار کرر ہا ہوں ۔میں تو یہ چاہتاہوں کہ لوگوں میں میرامرتبہ بلندہواورمیں اپنی قوم کامُعَزَّزشخص بن جاؤں۔”عورت نے کہا:”کہیں ایسا نہ ہوکہ جب تُو راہبوں سے ملے اور تجھے عبادت کی حلاوت نصیب ملے تُوپھر توبھی ان راہبوں کی طرح اپنے سب گھروالوں کوچھوڑ دے۔”

اس نے قسم کھاکریقین دلایاکہ ایساہرگزنہیں ہوگا۔بالآخراس نے انبیاء کرام علیہم السلام پر نازل ہونے والی کُتُب اور انجیل وغیرہ کی تعلیم حاصل کی ،سرمنڈایااوربہت بڑے گرجاگھرمیں چلاگیاجہاں راہبوں کی ایک جماعت پہلے ہی سے موجودتھی ۔ جب راہبوں نے اس کی داڑھی کاحسن وجمال دیکھاتو اسے اپناامیربناکرگرجے کے تمام اُمو ر ا س کی نگرانی میں دے دیئے۔ گرجا گھرکے تمام اموال وخزانوں کی چابیاں پا کروہ اپنی مراد کو پہنچ چکا تھا۔اس نے قوم کے شر فاء وسرداروں کے ساتھ مہربانی ونرمی کا رویہ اختیارکیاتوسب لوگوں کے دلوں میں اس کی قدرومنزلت بڑھ گئی ۔اب اس رِیاکاروبناوٹی راہب نے دوسرے راہبوں کو حقیرسمجھناشروع کردیا۔ ان کی خوراک میں کمی کردی اوران کے مر تبوں کوبھی گھَٹادیا۔پھرایک عابدوشریف النفس شخص کوگرجا گھر کے لئے آنے والی آمدنی پرنگران مقررکیا اور خود عیش وعشرت میں مشغو ل ہوگیا۔اچھااورنرم وملائم لباس پہننااورشراب پی کر

عورتوں سے لطف اندوزہونااس کامعمول بن گیا۔جب راہبوں نے اس بناوٹی راہب کی بداعمالیاں دیکھیں توان میں سے ایک راہب نے کہا:”یہ فاسق وکمینہ شخص تم کوذلیل کر رہاہے اورتمہاری وجہ سے یہ فسق پر ڈَٹا ہوا ہے ،تم اپنے اس معاملے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو!۔”راہبوں نے کہا:”ہم نے دنیوی مال واسباب چھو ڑکراپنے آپ کو عبا د ت کے لئے فارغ کرلیاہے، اب اس بناوٹی راہب کی وجہ سے ہم غم وپریشانی اورامورِدنیامیں پھنس چکے ہیں۔ ”بغیر داڑھی والے راہب نے کہا:”یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ تم لوگوں نے اس کی بڑی داڑھی دیکھ کراس کے بارے میں اچھی رائے قائم کرلی ،اب جس نے متقی وپرہیز گار لوگوں کوچھوڑکرایک ایسے شخص کی پیروی کرناشروع کردی ہے جومکار و فاسق ہے تواسے چاہے کہ وہ اپنے اوپرہونے وا لے ہرظلم وستم کوبرداشت کرے۔”
تمام راہب اس بات پرمتفق ہوئے کہ اس راہب کی اصلاح کرنی چا ہے۔پس ان سب کی طرف سے ایک راہب نمائندہ بن کرگیا اس نے بناوٹی راہب سے کہا:” تُو نے اپنی جان پرظلم کیاہے، تیرے تمام کرتوت تیرے راہب ساتھیوں کومعلوم ہوچکے ہیں۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کی سزاسے ڈر!بے شک کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں وہ آخرت سے قبل دنیاہی میں سزا دے دیتاہے ۔” بناوٹی راہب نے کہا:”کیابڑے بڑے عظیم لوگوں سے غلطیاں نہیں ہوئیں ؟ میں بھی انسان ہوں مجھ سے غلطی ہوگئی توکیاہوا؟” راہب نے کہا:” تُوبڑے بڑے بزرگوں کی غلطیوں کوجانتاہے لیکن ان کی توبہ سے واقف نہیں۔ ریاکارراہب نے کہا:”امیدہے کہ میں بھی توبہ کرلوں گا۔”اس نے کہا:”کتنے لوگ ایسے تھے جوتوبہ کرنے میں سستی کرتے رہے اورانہیں موت نے آلیا۔”یہ کہہ کروہ چلاگیااور ریاکارراہب سرکشی ہی میں مشغول رہا۔پھراس کی ہلاکت اس طر ح ہوئی کہ ڈاکوؤں نے اس بستی پرحملہ کردیا۔ایک ڈاکونے راہب کواس حالت میں پایاکہ وہ ایک عورت کے ساتھ بستر پر مو جو د تھا ۔ وہ اسے پکڑکراپنے سردارکے پاس لے آیا۔ڈاکوؤں نے کہا:”اگریہ شخص راہب نہ ہوتاتوہم اسے معاف کردیتے لیکن اب اس کے معا ملہ میں ہم حکمِ خداوندی کوملحوظ رکھیں گے۔ کیونکہ اس نے ان عورتوں سے فائدہ اٹھایاجواس کے لئے حرام تھیں۔” ڈاکوؤں نے علماء سے ا س بدکارشخص کاحکم پوچھا تو انہوں نے کہا:”اسے آگ میں جلادیاجائے ۔” چنانچہ اسے جلتے ہوئے تنور میں ڈال دیاگیااس طرح اللہ تعا لیٰ نے راہبوں کواس بدکارکے شرسے نجات عطافرمائی اوردنیاہی میں اسے آگ کاعذاب دے دیا۔یہ اس کی اس عبادت کاصلہ تھاجس کے ذریعے دنیاکی رضاچاہی گئی تھی ۔(الامان والحفیظ)
یہ حکایت سنانے کے بعدراہب نے کہا:”مجھے تعجب ہے ان مصیبت زدہ انسانوں پرجوصبرکے ذریعے مددحاصل نہیں کرتے لیکن پھربھی ثواب کی امیدرکھتے ہیں ۔ عنقر یب مصیبت زدہ پرایساوقت آنے والاہے کہ وہ ایسی خواہش کریگاجیسی ”نابینا”نے کی تھی۔سرداروں نے کہا:”نابینا”نے کیا تمناکی تھی ؟”