باجماعت نماز کی فضیلت

حکایت نمبر273: باجماعت نماز کی فضیلت

حضرتِ سیِّدُنا عبید اللہ بن عمرقَوَارِیْرِی علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں:” میں نے ہمیشہ عشاء کی نماز با جماعت اداکی، مگر افسوس! ایک مرتبہ میری عشاء کی جماعت فوت ہوگئی۔ اس کاسبب یہ ہواکہ میرے ہاں ایک مہمان آیا،میں اس کی خاطر مُدَارَات (مہمان نوازی) میں لگا رہا ۔ فراغت کے بعد جب مسجد پہنچا توجماعت ہو چکی تھی۔ اب میں سوچنے لگا کہ ایسا کون سا عمل کیا جائے جس سے اس نقصان کی تلافی ہو۔ یکایک مجھے اللہ کے پیارے حبیب ،حبیب لبیب عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا یہ فرمانِ عالیشان یاد آیا کہ ”باجماعت نماز، منفرد کی نماز پر اکیس درجے فضیلت رکھتی ہے۔اسی طر ح پچیس اور ستائیس درجے فضیلت کی حدیث بھی مروی ہے ۔”

(صحیح البخاری،کِتَابُ الاذان،باب فضل صلاۃ الجماعۃ،الحدیث۶۴۵۔۶۴۶،ص۵۲،”لم اجد”باحدی وعشرین”)

میں نے سوچا، اگر میں ستا ئیس مرتبہ نماز پڑ ھ لوں تو شاید جماعت فوت ہوجانے سے جوکمی ہوئی وہ پوری ہوجائے ۔ چنانچہ، میں نے ستائیس مرتبہ عشاء کی نمازپڑھی ، پھر مجھے نیند نے آلیا۔ میں نے اپنے آپ کو چند گُھڑ سواروں کے ساتھ دیکھا، ہم سب کہیں جارہے تھے۔اتنے میں ایک گھڑ سوار نے مجھ سے کہا:” تم اپنے گھوڑے کو مشقت میں نہ ڈالو ،بے شک تم ہم سے نہیں

مل سکتے۔” میں نے کہا:” میں آپ کے ساتھ کیوں نہیں مل سکتا؟” کہا : ”اس لئے کہ ہم نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی ہے۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! باجماعت نماز کی سعادت بہت بڑی دولت ہے ۔نیکیوں کے حریص کے لئے جماعت سے محروم ہوناایسانقصان ہے جس کی تلافی بہت مشکل ہے۔ اس بزرگ کا جذبہ دیکھیں کہ ایک مجبوری کی بناء پر ان کی جماعت نکل گئی تو انہوں نے اپنی نماز ستائیس مرتبہ اس اُمید پر دہرائی کہ شاید! مجھے جماعت کی فضیلت مل جائے۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ جماعت کی اپنی ہی برکتیں ہیں اور جو وقت ہاتھ سے نکل جائے پھر حاصل نہیں ہوتا۔) بقولِ شاعر:
؎ سدا عیش دوراں دِکھاتا نہیں
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں