عورت کے اَعضائے عورت کا شمار

عورت کے اَعضائے عورت کا شمار

مسئلہ۹: آزاد عورتوں کے لیے علاوہ ان پانچ عضو کے جن کا بیان اُوپر گزرا سارا بدن عورت ہے۔ جس میں تیس اعضاء شامل ہیں ۔ ان میں سے جس عضو کی چوتھائی کھل جائے نماز کا وہی حکم ہے جو اوپر بیان ہوا۔
{۱} سر یعنی ماتھے کے اوپر سے گردن کے شرو ع تک {۲} بال جو لٹکتے ہوں {۳،۴} دونوں کا ن {۵} گردن {۶،۷} دونوں شانہ {۸،۹} دونوں بازو کہنیوں سمیت {۱۰،۱۱} دونوں کلائیاں یعنی کہنی کے بعد سے گٹوں کے نیچی تک {۱۲} سینہ یعنی گلے کے جوڑ سے دونوں پستان کے نیچے تک {۱۳،۱۴} دونوں ہاتھ کی پیٹھ {۱۵، ۱۶} دونوں پستان {۱۷} پیٹ یعنی سینہ کی حد جو اُوپر ذکر ہوئی، اس حد سے لے کر ناف کے نچلے کنارے تک یعنی ناف کا بھی پیٹ میں ہی شمار ہے {۱۸} پیٹھ یعنی پیچھے کی جانب سینہ کے مقابل سے کمر تک {۱۹} دونوں شانوں کے بیچ میں جو جگہ ہے بغل کے نیچے سینہ کی نچلی حد تک {۲۰،۲۱} دونوں سرین {۲۲} فرج {۲۳} دُبر {۲۴،۲۵} دونوں رانیں یعنی ہر ران چڈھے سے گھٹنے تک یعنی گھٹنوں سمیت ایک عضو ہے گھٹنا ایک عضو نہیں {۲۶} ناف کے نیچے پیڑو اور اس سے ملی جو جگہ ہے اورا ن کے مقابل پیٹھ کی طرف سب مل کر ایک عورت ہے {۲۷،۲۸} دونوں پنڈلیاں ٹخنوں سمیت {۲۹،۳۰} دونوں تلوے۔ بعض علماء نے ہاتھ کی پیٹھ اور تلوؤں کو عورت میں داخل نہیں کیا۔
مسئلہ۱۰: عورت کا چہرہ اگر چہ عورت نہیں ، لیکن غیر مَحرَم (1) کے سامنے منہ کھولنا منع ہے، یوہیں غیر محرم کو اُس کا دیکھنا جائز نہیں ۔
مسئلہ۱۱: اگر کسی مرد کے پاس ستر کے لیے جائز کپڑا نہیں اور ریشمی ہے تو فرض ہے کہ اس سے ستر کرے اور اسی میں نماز پڑھے البتہ اور کپڑے ہوتے ہوئے مرد کو ریشمی کپڑا پہننا حرام ہے اور ریشمی کپڑے میں نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے۔
مسئلہ۱۲: اگر ننگے شخص کو چٹائی یا بچھونا مل جائے تواُسی سے ستر کرے ننگا نہ پڑھے، یوہیں اگر گھاس یا پتوں سے ستر کرسکتا ہے تو یہی کرے۔ (عالمگیری)
مسئلہ۱۳: کسی کے پاس بالکل کپڑا نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھے اور رکوع و سجدہ، اشارہ سے کرے چاہے دن ہویا رات گھر میں ہو یا میدان میں ۔ (ہدایہ ،درمختار وردالمحتار)
مسئلہ۱۴: اگر دوسرے کے پاس کپڑا ہے اور غالب گمان ہے کہ مانگنے سے دے دے گا تو مانگنا واجب ہے۔ (ردالمحتار)
مسئلہ۱۵: اگر ناپاک کپڑے کے سوا کوئی اور کپڑا نہیں اور پاک کرنے کی کوئی صورت بھی نہیں تو ناپاک ہی کپڑے سے ستر کرے اور ننگا نہ پڑھے۔ (ہدایہ)
مسئلہ۱۶: اگر پورے ستر کے لیے کپڑا نہیں اور اتنا ہے کہ بعض اعضاء کا ستر ہوجائے گا تو اس سے ستر واجب ہے، اوراس کپڑے سے عورتِ غلیظہ یعنی آگا پیچھا چھپائے اور اِتنا ہو کہ ایک ہی چھپا سکتا ہے تو ایک ہی کو چھپائے۔
مسئلہ۱۷: اگر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے چوتھائی ستر کھلتا ہے تو بیٹھ کر پڑھے۔ (درمختار، ردالمحتار)

________________________________
1 – محرم و غیر محرم کی تعریف، کون لوگ محرم ہیں اور کون غیر محرم: عورت کا محرم وہ مرد ہے جس سے اس کا نکاح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے کبھی کسی صورت سے جائز نہیں اور یہ حرام ہونا تین قسم کے رشتوں کی وجہ سے ہے، جزئیت، رضاعت،مصاہرت۔ جزئیت:یہ کہ عورت و مرد میں یہ رشتہ ہو کہ مرد عورت کا جز ہو جیسے عورت کا بیٹا، پوتا، نواسہ ، بھانجہ، بھتیجا ہویا عورت مرد کا جز ہو جیسے عورت کا باپ، دادا، نانا، چچا، ماموں۔ رضاعت:یہ کہ مثلا ً دودھ شریکی بھائی باپ ہو۔ مصاہرت:یہ کہ سسر داماد ہواور غیر محرم وہ لوگ ہیں جن سے ان تینوں رشتوں میں سے کوئی رشتہ نہ ہو جیسے دیور، جیٹھ ، بہنوئی، نندوئی، خالو، پھوپھا اور چچا ، ماموں، خالہ، پھوپھی کے بیٹے وغیرہ غیرمحرم سے پردہ واجب ہے۔ (۱۲ منہ)