عقل مند شہزا دہ

حکایت نمبر319: عقل مند شہزا د ہ

حضرتِ سیِّدُنا بَکْر بن عبد اللہ مُزَنِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے کہ” بنی اسرائیل کے ایک بادشاہ کو کثرتِ مال واولاد اور بہت لمبی عمر عطا کی گئی۔ اس کی اولاد میں یہ عادتِ حسنہ تھی کہ جب بھی ان میں سے کوئی جوان ہوتا اُون کا لباس پہن کر پہاڑوں میں چلا جاتا،دنیوی رونقوں کو خیرباد کہہ کر دُرویشانہ زندگی اختیار کرلیتا، درختوں کے پتے اور جھاڑیاں کھا کر اپنا گزارہ کرتا اور اسی حالت میں اس دارِ فانی سے دارِ بقا کی طرف کو چ کر جاتا۔ سب شہزادوں نے یہی طریقہ اختیار کیا۔ جب بادشاہ کی عمر بہت زیادہ ہوگئی اور اس کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو اس نے اپنی قوم کو بُلا کر کہا:” اے میری قوم ! دیکھو میری عمر اب بہت ہو گئی ہے ، اس عمر میں مجھے بیٹے جیسی نعمت نصیب ہوئی، میں تم لوگو ں سے جتنی محبت کرتا ہوں تم خوب جانتے ہو،مجھے ڈر ہے کہ میرا یہ بیٹا بھی اپنے دوسرے بھائیوں کا راستہ اختیار نہ کرلے ، اگر ایسا ہوا تو ہمارے خاندان میں سے میرے بعد تمہارا کوئی حاکم نہ رہے گا اور پھر تم ہلاکت میں پڑجاؤ گے۔ اگر بہتری چاہتے ہو تو اس شہزادے کو چھوٹی عمر ہی میں سنبھال لو ،اسے دنیوی نعمتوں اور آسائشوں کی طر ف مائل کرو ، اگر ایسا کرو گے تو شاید میرے بعد یہ تمہارا حاکم بن جائے، جتنا ہوسکے اس کا دل دنیا میں لگادو۔”
یہ سن کر لوگوں نے کئی میل لمبا چوڑا ایک خوبصورت قلعہ بنایا اس میں دنیوی آسائش کا تمام سامان شہزادے کو مہیا کیا۔ شہزادے نے کئی سال اس وسیع وعریض قلعے کی چار دیواری میں گزار دیئے یہاں اسے ہر طرح کی سہولت میسر تھی۔ اس کے سامنے کوئی غم وپریشانی کی بات نہ کی جاتی۔ لوگوں کو اس سے دور رکھا جاتا، ہر وقت خُدَّام اس کی خدمت پر مامور رہتے ۔ایک مرتبہ وہ گھوڑے پر سوار ہوکر ایک سمت چل دیا جب آگے دیوار دیکھی توخادموں سے کہا:”میرا گمان ہے کہ اس دیوار کے پیچھے ضرور ایک نیا جہاں ہو گا وہاں ضرور آبادی ہوگی مجھے یہاں سے باہر نکالو تا کہ میری معلومات میں اضافہ ہوسکے اور میں لوگو ں سے ملاقات کرو ں۔” جب شہزادے کی یہ خواہش بادشاہ کو بتائی گئی تو بادشاہ ڈرگیا کہ باہر جاکر کہیں یہ بھی اپنے بھائیوں کی طر ح دَرویشانہ زندگی اختیار نہ کرلے ۔ا سی خوف کے سب اس نے حکم دیا کہ شہزادے کو ہر دنیوی کھیل کود کا سامان مہیا کر و جس طرح

بھی ہو اسے دنیوی مشاغل میں مصروف رکھو تاکہ اسے باہر جانے کا خیال ہی نہ آئے۔
حکم کی تعمیل ہوئی اور شہزادے کو دوبارہ دنیوی عیش وعشرت میں اُلجھا دیا گیا ۔ اسی طر ح ایک سال کا عرصہ گزرگیا۔ایک دن وہ پھر دیوار کی طر ف گیا اور کہا:” اب تو میں ضرور باہر جاکر دیکھوں گا ، مجھے جلدی سے اس دیوارکے پار لے چلو ۔ جب بادشاہ کو شہزادے کی ضد کا بتایا گیا تو اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی اجازت دے دی۔ لوگ شہزادے کو ایک بہترین سواری پر بٹھا کر باہر لے گئے ۔ سواری کو سونے چاندی سے خوب مُزَیَّن کیا گیا،لوگ اس کے ارد گر د ننگے پاؤں چلنے لگے ۔ شہزادہ گرد و پیش کے مناظر دیکھتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا یکایک اسے ایک بہت ہی بیمار شخص نظر آیا، بیماری کی وجہ سے وہ انتہائی لاغر و کمزور ہوچکا تھا ،پوچھا:” اس کو کیا ہوا ؟” لوگوں نے بتایا کہ یہ بیماری میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ شہزادے نے پھر پوچھا :” کیا اس کی طرح دوسرے لوگ بھی بیمار ہوتے ہیں؟ کیا تمہیں بھی بیماری لاحق ہونے کا خوف لگا رہتاہے ؟” لوگو ں نے کہا:” ہاں ۔” شہزادے نے پوچھا:” کیا میں جس سلطنت میں ہوں وہاں بھی یہ بیماری آسکتی ہے؟”کہا:”ہاں! بالکل آسکتی ہے۔”عقل مند شہزادے نے کہا:” اے لوگو! تمہاری یہ دنیوی عیش وعشرت بد مزہ ہے ۔” یہ کہہ کر شہزادہ غم والم میں واپس لوٹ آیا۔ جب اس کی یہ حالت بادشاہ کو بتائی گئی تو اس نے کہا:” شہزادے کو ہر طر ح کا سامانِ لہو ولعب مہیا کرو ، اسے دنیوی آسائشوں میں ایسا مگن کردو کہ اس کے دل سے سب رنج وملال جاتا رہے ۔”
لوگ شہزادے کو دنیوی مشاغل میں اُلجھانے کی انتھک کوشش کرتے رہے۔ اسی طرح ایک سال کاعرصہ گزر گیا۔ شہزادے نے پھر باہر جانے کی خواہش ظاہر کی۔ پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی ہیرے جواہرات اورسونے چاندی سے مُرَصَّع سواری پر سوار کرکے اسے قلعے سے باہر لے جایا گیا۔ شہزادہ مختلف مناظر دیکھتا ہوا آگے بڑھتا جارہا تھا ۔آگے پیچھے خادموں اور سپاہیوں کا ہجوم تھا ، یکایک ایک بوڑھے پر نظر پڑی ،بڑھا پے نے اس کا برا حال کررکھا تھا، منہ سے رال ٹپک رہی تھی، جسم کا نپ رہاتھا۔ شہزادے نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو پوچھا:” اسے کیا ہوا ؟” لوگو ں نے کہا:” حضور! ایامِ جوانی گزار کر اب یہ پڑھاپے کی زَد میں آچکا ہے۔” شہزادے نے کہا:” کیا دیگر لوگ بھی اس مصیبت میں گرفتار ہوئے ہیں؟ کیا ہر شخص بڑھاپے سے ڈرتا ہے ؟” لوگو ں نے کہا :” ہم میں سے ہر شخص بڑھاپے سے ڈرتا ہے۔” شہزادے نے کہا : تمہاری یہ عیش وعشرت کتنی بد مزہ اور کیسی بھیانک ہے کہ کسی ایک کوبھی اس کے فساد سے چھٹکارانہیں۔”
یہ کہہ کرشہزادہ مغموم وپریشان واپس اپنے قلعے کی طر ف آگیا ۔ بادشاہ کو جب شہزادے کی یہ کیفیت بتائی گئی تو اس نے نے پھر وہی حکم دیا کہ اسے دنیوی آسائشوں میں الجھا دو تاکہ غم وملال اس کے دل سے جاتا رہے۔ ایک سال پھر شہزادے نے قلعے میں گزار دیا،اس کے بے قرار دل میں پھر باہر جانے کی خواہش ابھری ۔چنانچہ، خادموں اور سپاہیوں کے ہجوم میں اسے باہر لے جایا گیا۔ راستے میں کچھ لوگ ایک جنازہ اپنے کندھوں پر اٹھا کر لے جارہے تھے، شہزادے نے لوگوں سے پوچھا :”یہ شخص

چار پائی پر اس طر ح کیوں لیٹاہوا ہے ؟۔” لوگو ں نے کہا :” یہ شخص موت کا شکار ہو چکا ہے۔” شہزادے نے پوچھا:” موت کیا چیز ہے ؟ مجھے اس شخص کے پاس لے چلو۔” شہزادے کو مردے کے پاس لے جایا گیا توکہا:” لوگو ! اس سے کہو کہ یہ بیٹھ جائے۔” لوگو ں نے کہا: ”حضور! اس میں بیٹھنے کی طاقت نہیں۔”شہزادے نے کہا :”اس سے کہو کہ بات کرے۔” لوگوں نے کہا:” موت نے اس کی زبان بند کردی ہے، اب یہ ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا۔” شہزادے نے پھر پوچھا:” اب تم اسے کہاں لے جارہے ہو ؟” لوگوں نےکہا:” قبر میں دفنانے کے لئے لے جار ہے ہیں۔”شہزادے نے پوچھا:” اس کے بعد پھر کیا ہوگا؟” لوگوں نےکہا:” موت کے بعد”حشر ”ہوگا۔”شہزادے نے پوچھا:” یہ حشر کیا ہے؟” لوگوں نے کہا: ” حشر وہ دن ہے کہ اس دن سب لوگ ، خالقِ کائنات عز وجل کے حضور کھڑے ہوں گے ، وہ خالِقِ لَمْ یَزِلْ ہر ایک کو اس کے اچھے برے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس دن ہر شخص سے ذرّے ذرّے کا حساب لیا جائے گا۔” شہزادے نے کہا :” کیا اس دنیا کے علاوہ بھی کوئی ایسا جہان ہے جہاں تم دنیا کو چھوڑ کر چلے جاؤ گے ؟” لوگوں نےکہا :” ہاں! دنیا میں جو بھی آیا اسے آخر ت کی طر ف ضرور کوچ کرنا ہے۔”
یہ سن کر شہزادہ گھوڑے سے نیچے گر کر تڑ پنے لگا ، وہ روتا جاتا اور اپنے چہرے کو مِٹی سے رگڑتا جاتا ، پھر اس نے روتے ہوئے کہا:”اے لوگو ! مجھے یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ جس طر ح یہ شخص موت کا شکار ہوا ، اسی طرح مجھے بھی اچانک موت آجائے گی اور میں دیکھتا ہی رہ جاؤ ں گا۔ اس خدائے بزرگ وبَر تر کی قسم جو بر وزِ قیامت تمام لوگو ں کو جمع فرماکر جزا وسزا دے گا! میرے اور تمہارے درمیان یہ آخری عہد ہے، آج کے بعد تم مجھ سے کبھی نہ مل سکو گے۔” لوگو ں نے کہا:” ہم آپ کو واپس آپ کے والد کے پاس لے جائیں گے ، ان کی اجازت کے بغیرآپ کہیں بھی نہیں جاسکتے ۔”پھر شہزادے کو بادشاہ کے پاس اس حالت میں لے جایا گیا کہ اس کے منہ سے خون بہہ رہا تھا،بادشاہ نے شہزادے سے کہا:” میرے لال! تم اتنے خوف زدہ کیوں ہو اور یہ رونا کس لئے ؟” شہزادے نے کہا:” ابا حضور ! میں اس دن کے خوف سے رو رہا ہوں جس دن ہر ایک کو اس کے اچھے، برے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔” پھر شہزادے نے اُون کا لباس منگواکر پہنا اور کہا:” آج رات میں اس محل کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا۔” پھر واقعی آدھی رات کو وہ سمجھ دار شہزادہ تا ج وتخت ٹُھکرا کر دَرْویشانہ لباس پہنے آخرت کی تیاری کے لئے جنگل کی طرف جا رہا تھا،جب قصرِ شاہی سے نکلنے لگا تو بارگاہِ خدا وندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طر ح التجا کی:
” اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! میں تجھ سے ایسی زندگی مانگتا ہو ں جس میں میری سابقہ زندگی کی آسائشوں میں سے کچھ نہ ہو اور میں پسند کرتا ہوں کہ چاہے دُنیا اِدھر سے اُدھر ہوجائے مگر میں لمحہ بھر کے لئے بھی دنیوی آسائشوں کی طر ف نظر نہ کروں۔” پھر وہ شہزادہ تمام دنیوی آسائشوں اور نعمتوں کو خیر باد کہہ کر اُخروی نعمتوں کے حصول کے لئے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔”
حضرت سیِّدُنا بَکْر بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حکایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :” یہ شہزادہ گناہوں کے خوف

سے دنیوی نعمتوں کو چھوڑ کر چلا گیا حالانکہ اسے معلوم بھی نہ تھا کہ کس گناہ کی کتنی سزا ہے؟ اس شخص کا کیا حال ہوگاجو درد ناک سزائیں جانتے ہوئے بھی گناہوں سے کنارہ کشی نہیں کرتا،نہ گناہوں پر شرمندہ ہوتا ہے اور نہ ہی توبہ کی طرف مائل ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں گناہوں سے نفرت عطا فرماکر اپنا ڈر اور خوف عطا فرمائے ۔”(آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)
(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جو آخرت کے معاملے میں غورو فکر کرتا ہے اسے کامیابی کی راہیں نظر آہی جاتی ہیں ۔سچے دل سے جو بھی کام کیا جائے اس کے اثرات بہت جلد مرتَّب ہوتے ہیں ۔ عقل مند شہزادے نے لوگو ں کے مختلف احوال میں غور و فکر کیا تو اسے فلاح کا راستہ مل گیا۔ ہمیں بھی چاہے کہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے عبرت حاصل کریں ۔اس نیرنگئ دنیا سے دل نہ لگائیں یہ بظاہر تو بڑی مُنَقَّش لیکن حقیقت میں بڑی خار دار وبے کار ہے۔اکھیا روں کے لئے اس دنیا میں ہر طر ف عبرت ہی عبرت ہے مگر کیا کریں دنیا کی رنگینیوں نے آنکھوں پر غفلت کا پردہ ڈال رکھا ہے ۔

؎ جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سُو نمونے
مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ وبو نے
کبھی غور سے بھی یہ دیکھا ہے تو نے
جو آباد تھے وہ محل اب ہیں سُونے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں موت سے پہلے اس کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے ۔( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم))