انبیاء (عَلَیْہِمُ السَّلَام) کے رُتبے

انبیاء (عَلَیْہِمُ السَّلَام) کے رُتبے

سب سے پہلا انسان اور سب سے پہلا نبی

حضر ت آدم عَلَیْہِ السَّلَام سب سے پہلے انسان ہیں ، اُن سے پہلے انسان کا وجود نہ تھا، سب آدمی اُنہیں کی اولاد ہیں ، یہی سب سے پہلے نبی ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کو بے ماں باپ کے مٹی سے پیدا کیا اپنا خلیفہ بنایا، تمام چیزوں اور اُن کے نام کا علم دیا، فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم عَلَیْہِ السَّلَام کو سجدہ کرو، سب نے سجدہ کیا، سوا شیطان کے اُس نے انکار کیا، اور ہمیشہ کے لیے ملعون و مردود ہوا، حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَامسے لے کر ہمارے نبی مُحَمَّدٌ رَّسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمتک بہت نبی آئے۔ حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ، حضرت عیسی (عَلَیْہِمُ السَّلَام) اور اُن کے علاوہ ہزاروں ، یہ چاروں نبی بھی تھے اور رسول بھی، سب سے آخری نبی اور رسول ساری مخلوق سے افضل سب کے پیشوا حبیب خدا ہمارے آقا حضرت احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں ، آپ کے بعد کوئی نبی نہ ہوا، نہ ہوگا۔ جو شخص ہمارے نبی کے بعد یا آپ کے زمانہ میں کسی اور کو نبی مانے یا نبوت ملنی جائز جانے وہ کافر ہے۔ ( 1)

________________________________
1 – چاہے تائیدی نبی مانے چاہے ظلی چاہے نبوت بالذات مانے چاہے بالعرض چاہے اس زمین میں یا کسی اور زمین میں بہرحال کافر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہمارے نبی کے بعد کسی طرح کا کوئی نبی نہ ہوا ہے نہ ہوگا جو اس کو نہ مانے وہ مسلمان نہیں کیونکہ اس سے آیہ:خَاتَمُ النَّبِیّن (پ۲۲،الاحزاب:۴۰) بالقراء تین اور حدیث: لا نبی بعدی (بخاری،کتاب احادیث الانیباء،باب ما ذکر عن بنی اسرائیل، ۲/۴۶۱ ،حدیث:۳۴۵۵) اور اجماع کا انکار ہوجاتا ہے۔اقول:خَاتَمُ النَّبِیّن بالفتح الحاجب المانع عن دخول الغیر فی قصر النبوۃ کخاتم السجل المانع عن دخول عبارۃ اخری فیہ وبالکسر الاخر المتمم لیس بعدہ او معہ غیرہ والآ یۃ والحدیث کلاھما علی الاطلاق فتجریان علی اطلاقھما کما ھو مبین و مبرھن فی الاصول ویکون المراد النبی مطلقا سواء کان اصلیا و ظلیا او شریکا اور موید او سواء کان فی زمانہ او بعد زمانہ فی ارضہ اوغیر ارضہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ (۱۲) منہ سلمہ