اللہ والوں کی باتیں

حکایت نمبر442: اللہ والوں کی باتیں

ابوبِشْر تَمِیْمِی کا بیان ہے، جب ہِشَام بن عبد المَلِک خلیفہ بنا تو اس نے اپنے ماموں ابراہیم بن ہِشَام کو کئی شہروں پر امیر مقرر کردیا۔ ایک مرتبہ ابراہیم بن ہِشَام دورے پر تھا۔ جب مدینۂ منورہ زَادَھَا اللہُ شَرَفًا وَّتَکْرِیْمًا کے قریب پہنچا تو وہاں کے لوگ استقبال اور مُبَارَک باد کے لئے آئے ۔ امیر نے پوچھا: ”کیا تمام نیک لوگ اور علماء وفقہاء آگئے ہیں۔” لوگوں نے کہا: ”عالی جاہ! حضرتِ سیِّدُنا ابو حَازِم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سوا سب آگئے ہیں۔” امیر ابراہیم بن ہِشَام نے قاصد بھیج کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اپنے پاس بلایا اور کہا: ” اے ابو حَازِم! اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کو مزید عزت ورِفعت عطافرمائے ،آپ جانتے ہیں کہ میرا تعلق قبیلۂ قریش سے ہے، میں امیرالمؤمنین کا ماموں ہوں اور مجھے حرمین شریفین پر والی مقرر کیا گیا ہے۔ اب میں یہاں آیا تو سب لوگ مبارک باداوراستقبال کے لئے آئے مگر آپ تشریف نہ لائے، کیا وجہ ہے ؟”
فرمایا:” اے امیر !مجھے ایسی کوئی حاجت نہیں کہ جس کی وجہ سے مجھے آپ کی طرف محتاجی ہوتی، اسی طرح آپ کو بھی میری محتاجی نہیں۔ اے امیر ! میرے اپنے کچھ معاملات ایسے ہیں جن میں مشغولیت کی وجہ سے مجھے کسی اورکی طرف دھیان دینے کی فرصت ہی نہیں ملتی ۔”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ بات سن کراور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے کمزور ونحیف جسم کو دیکھ کر امیر نے کہا: ”اے ابوحَازِم!آپ کے پاس کتنا مال ہے؟”فرمایا: ”میرے پاس دوقسم کا خزانہ ہے جس کے ہوتے ہوئے مجھے تنگدستی ومفلسی کا خوف نہیں۔”پوچھا:” وہ دو خزانے کون سے ہیں ؟”فرمایا : ”(۱)۔۔۔۔۔۔ہر حال میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا اور(۲)۔۔۔۔۔۔لوگوں سے بے نیازی۔” پوچھا:” آپ کیا کھاتے ہیں ؟” فرمایا: ”روٹی اور زیتون کا تیل ۔”پوچھا:”کیا مسلسل ایک ہی کھانا کھا کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اُکتاتے نہیں؟”فرمایا :” جب اُکتا جاتا ہوں تو کھانا ترک کردیتا ہوں، جب دوبارہ خواہش ہوتی ہے تو کھالیتا ہوں۔”امیر نے پوچھا: ” ہماری نجات کن اُمور میں ہے ؟”فرمایا:” خالق عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے بغیر کسی سے کوئی چیز نہ لو اور کسی بھی حق دار کا حق نہ روکو۔” امیر نے کہا:” اس کی طاقت کون رکھتا ہے ؟”فرمایا:” جو آگ سے نجات اور جنت کا طالب ہے اس پر یہ کام آسان ہے۔” اس وقت مجمع میں حضرت سیِّدُناابن شِہَاب زُہْرِی علیہ رحمۃاللہ القوی بھی موجود تھے انہوں نے کہا:”اے امیر !یہ تقریباً چالیس سال سے میرے پڑوسی ہیں ،جیسی باتیں آج انہوں نے کی ہیں آج تک کبھی میں نے ان سے ایسی باتیں نہیں سنیں۔ ان کی یہ شان آج سے پہلے مجھ پر کبھی ظاہر نہ ہوئی۔”حضرتِ سیِّدُنا ابوحَازِم مکی علیہ رحمۃ اللہ القوی اپنے گھر آئے اور ابن شِہَاب زُہْرِی علیہ رحمۃاللہ القوی کویہ خط لکھا:

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم

اَمَّابَعْد!اے زُہْرِی! اب تم بہت بوڑھے ہوگئے ہو یہ ایسی عمر ہے کہ جو بھی تمہیں دیکھے گا دعا کریگا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم کرے ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ میری اور تمہاری مغفرت فرمائے۔تم خدائے بزرگ وبَرترجَلَّ جلَا لُہٗ کی بے انتہا نعمتوں کے بوجھ

تلے دبے ہوئے ہو۔اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں درازی عمر سے نوازا،اپنے دین کی سمجھ اور اپنی کتاب کے علم سے مالا مال کیا ۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان نعمتوں کے ذریعے تمہیں آزمائے گا، تم پر اپنی نعمتوں کی برسات فرمائے گا، پھر ان نعمتوں پر تمہارے شکر کو آزمائے گا، اللہ ربُّ العِزَّت جَلَّ جَلَالُہٗ ارشادفرماتاہے: لَئِنۡ شَکَرْتُمْ لَاَزِیۡدَنَّکُمْ وَلَئِنۡ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ ﴿7﴾

ترجمۂ کنزالایمان :اگراحسان مانوگے تومیں تمہیں اوردوں گا اور اگر ناشکری کروتومیراعذاب سخت ہے۔ (پ13،ابرٰہیم:7)
ذرا سوچو توسہی! جب بروزِ قیامت تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگا ہ میں حاضرہوگے اوروہ قادرِ مطلق عَزَّوَجَلَّ تم سے اپنی نعمتوں کے متعلق پوچھے گا کہ تم نے انہیں کیسے استعمال کیا ؟جو دلیل اس نے عطافرمائی اس کے متعلق پوچھے گا کہ ا س میں کس کس طرح فیصلہ کیا ؟ہرگز اس گمان میں نہ رہنا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس دن تمہارا عذر قبول کریگا اور غفلتوں اور کوتاہیوں کے باوجود تم سے راضی ہو جائے گا ۔تمہارا یہ کہنا کافی نہیں کہ میں عالِم ہوں، تم نے لوگوں سے علمی جھگڑا کیا تو اپنے زورِ بیان سے غالب رہے، تمہیں جو سمجھ بوجھ عطا کی گئی، جو فہم وفراست ملی اسے استعمال کرتے ہوئے بتاؤ کہ کیااللہ عَزَّوَجَلّّ کا یہ فرمان علماء کے متعلق نہیں؟ وَ اِذْ اَخَذَ اللہُ مِیۡثَاقَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلَا تَکْتُمُوۡنَہٗ ۫ فَنَبَذُوۡہُ وَرَآءَ ظُہُوۡرِہِمْ وَاشْتَرَوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾ ترجمۂ کنزالایمان: اور یاد کرو جب اللہ نے عہد لیا ان سے جنہیں کتاب عطا ہوئی کہ تم ضروراسے لوگوں سے بیان کر دینا اور نہ چھپانا تو انہوں نے اسے اپنی پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا اور اس کے بدلے ذلیل دام حاصل کئے توکتنی بُری خریداری ہے۔ (پ۴،اٰل عمران:۱۸۷)
اے ابن شِہَاب زُہْرِی!اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہارا بھلا کرے ۔یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ تم ظالموں کے ساتھ بیٹھتے ہو ،جب وہ تمہیں بلاتے ہیں توان کے پاس چلے جاتے ہو، وہ تحائف دیتے ہیں تو قبول کرلیتے ہو،حالانکہ وہ تحفے کسی صورت میں قبول کرنے کے قابل نہیں ہوتے ۔ ظالموں نے تمہیں ایسی چکی بنالیا ہے جس کے گرد اُن کی باطل خواہشات گھومتی ہیں ۔تمہیں ایسی سیڑھی اورپُل بنالیا ہے جس کے ذریعے وہ ظلم وگمراہی کی منزلوں کی طرف بڑھتے ہیں۔ وہ تمہارے ذریعے علماء کے خلاف شکوک وشبہات کا شکار ہوتے اور جاہلوں کے دِلوں کو ہانکتے ہیں۔ تم اب تک نہ تو ان کے خاص وزراء کی صف میں شامل ہوسکے نہ ہی خاص ہم نشین بن سکے۔بس تم نے توان کی دنیاکوسنوارااورعوام وخواص کو ان ظالموں کے گرد جمع کر دیا ہے، انہوں نے تمہارے لئے جو کچھ تیار کیا وہ اس سے کتنا کم ہے جو انہوں نے بربادکر دیا۔ تم سے کتنا زیادہ چھین کر کتنا کم دیا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم فرمائے، اپنی فکر کرو۔ تمہیں تو اس ذات کا شکر ادا کرنا چاہے جس نے تمہیں علمِ دین کی دولت سے نوازا ، اپنی کتاب کا علم دیا اور ان لوگوں میں سے نہیں بنایا جن کے بارے میں ارشادفرمایا:

فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْکِتٰبَ یَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ ہٰذَا الۡاَدْنٰی وَیَقُوۡلُوۡنَ سَیُغْفَرُ لَنَا ۚ وَ اِنۡ یَّاۡتِہِمْ عَرَضٌ مِّثْلُہٗ یَاۡخُذُوۡہُ ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیۡہِمۡ مِّیۡثَاقُ الْکِتٰبِ اَنۡ لَّا یَقُوۡلُوۡا عَلَی اللہِ اِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوۡا مَا فِیۡہِ ؕ وَالدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوۡنَ ﴿169﴾

ترجمۂ کنزالایمان:پھران کی جگہ ان کے بعدوہ ناخلف آئے کہ کتاب کے وارث ہوئے اس دنیاکامال لیتے ہیں اور کہتے اب ہماری بخشش ہو گی اوراگرویساہی مال ان کے پاس اورآئے تولے لیں۔ کیاان پر کتاب میں عہد نہ لیاگیاکہ اللہ کی طرف نسبت نہ کریں مگر حق اور انہوں نے اسے پڑھا اور بے شک پچھلا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔(پ9،الا عراف:169)
اللہ عَزَّوَجَلَّ تم پر رحم کرے! ابھی جو عمر باقی ہے اس میں بیدار ہو جاؤ۔ تم بُری طرح پھنس چکے ہو ۔خدارا! اپنے آپ کو بچاؤ، اپنے دین کی دوا کرو۔ بے شک اس میں کمزوری آگئی ہے ۔ زادِراہ تیار کرلو، عنقریب تمہیں بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔ تمہارا معاملہ اس کے ساتھ ہے جوحافظ و نگہبان ہے، وہ تم سے غافل نہیں۔ تم اپنی فکر کرو، تمہارے علاوہ کو ن تمہاری فکر کریگا۔ تمام تعریفیں اُس مالکِ حقیقی کے لئے ہیں جس سے زمین وآسمان کی کوئی شئے پوشیدہ نہیں، وہ غالب و حکمت والا ہے۔ وَالسَّلَام