احکاماتِ الٰہی کوپامال کرنے کاانجام

حکایت نمبر320: احکاماتِ الٰہی کوپامال کرنے کاانجام

ابراہیم بن عیسیٰ بن ابو جَعْفَر منصور سے منقول ہے کہ میں نے اپنے چچا سلمان بن ابو جَعْفَر منصور کو یہ کہتے ہوئے سنا : ایک مرتبہ خلیفہ منصور کے دربار میں اسماعیل بن علی بن صالح بن علی ، سلمان بن علی اور عیسیٰ بن علی موجود تھے۔ میں بھی وہیں تھا کہ بنواُمَیہّ کی حکومت کے زوال کا تذکرہ چِھڑ گیا۔ عبداللہ نے بنوامیہ کے ساتھ جو سلوک کیا اس کا بھی ذکر ہوا، خلیفہ نے بنواُمَیَّہ کے متعلق کہا :” اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان پر احسان فرمایا یہاں تک کہ انہوں نے ہماری حکومت کی طر ف نظر اٹھائی جیسا کہ ہماری نظر ان کی حکومت کی طر ف اٹھی، جیسے ہم ان کی طر ف راغب ہوئے ایسے ہی وہ بھی ہماری طرف راغب ہوئے ،قسم ہے مجھے اپنی جان کی! انہوں نے خوش بختی کی زندگی گزاری لیکن فقیروں کی حالت میں مرے۔” اسماعیل بن علی جو دربار میں ہی موجود تھا اس نے کہا: ”اے خلیفہ ! بے شک عبید اللہ بن مَرْوَان بن محمد آپ کی قید میں ہے اس کے پاس مُلک ِ ”نوبہ” کے بادشاہ کا عجیب وغریب
قصہ ہے ، اسے بلا کر وہ واقعہ سنیں۔” خلیفہ نے مسیب کو حکم دیا کہ عبید اللہ بن مَرْوَان کو ہمارے سامنے حاضر کیا جائے ۔
حکم کی تعمیل ہوئی ،مضبوط وبھاری زنجیروں میں جکڑے ایک نوجوان کو خلیفہ کے سامنے لایا گیا۔ نوجوان کی گردن میں بہت وزنی طوق تھا اس نے آتے ہی بآ واز بلند” السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ ”کہا۔خلیفہ منصور نے کہا:”اے عبید اللہ ! سلام کا جواب دینا امن وسلامتی دینا ہے اور میرا نفس اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ تجھے امن وسلامتی دی جائے۔ تو زنجیروں میں جکڑا ہوا میرے سامنے کھڑا رہ۔ پھر خُدَّام خلیفہ کے لئے تکیہ لائے خلیفہ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور کہا:” اے عبیداللہ! مجھے پتا چلا ہے کہ تیرے پاس ” نوبہ” کے بادشاہ کاکوئی عجیب وغریب قصہ ہے ،بتا! وہ کیا ہے ؟” عبید اللہ بن مَرْوَان نے کہا:” اے خلیفہ! اس پر ور دگار عَزَّوَجَلَّ کی قسم جس نے آپ کو مسندِ خلافت پر فائز کیا! لو ہے کی یہ مضبوط وبھاری زنجیریں وضو وطہارت کا پانی لگنے کی وجہ سے زنگ آلود ہو کر بہت زیادہ تکلیف دہ ہوگئی ہیں،ان کے ہوتے ہوئے میں کس طر ح کلام کر سکوں گا ۔” خلیفہ نے اسے بیڑیوں اور طوق سے آزاد کرادیا۔
عبیداللہ نے کہا:” ہاں! اے خلیفہ! اب میں آپ کو ”نوبہ ” کے بادشاہ کا واقعہ سناتا ہوں ، سنئے! جب عبداللہ بن علی نے ہم پر حملہ کیا تو اس کا مطلوبِ اوّل میں ہی تھا کیونکہ اپنے والد مَرْوَان بن محمد کے بعد میں ہی ان کا ولئ عہد تھا ۔چنانچہ، میں نے خزانے سے دس ہزار دینار لئے، دس خادموں کو اپنے ساتھ لیا ہر ایک کو ہزار ہزار دینار دے کر علیحدہ علیحدہ سواریوں پر بٹھا یا۔ مزید پانچ خچروں پر قیمتی سامان رکھا پھر ان سب کو لے کر میں سلطنتِ ”نوبہ” کی طرف بھاگ گیا ۔ تین دن مسلسل سفر جاری رہا بالآخر ”نوبہ ” کے قریب ایک ویران قلعے میں پہنچ کر میں نے خُدَّام کو حکم دیا کہ اسے اچھی طر ح صاف کرو پھر بہترین قالین بچھا دو ۔ کچھ ہی دیر میں بہترین قالین بچھادیئے گئے ۔
میں نے اپنے سب سے زیادہ بااعتماد وعقل مند خادم کو بلاکر کہا : ”تم ”نوبہ” کے بادشاہ کے پاس جاؤ ، اسے میرا سلام کہنا اور میرے لئے امان طلب کرنا ، پھر کچھ اناج وغیرہ شہر سے خرید لانا۔ ” خادم میرا پیغام لے کر بادشاہ کے پاس چلاگیا ، کافی دیر گزر گئی لیکن وہ واپس نہ آیا ۔ مجھے اس کے بارے میں بد گمانی ہونے لگی ،پھرکچھ دیر بعد وہ آیا تو اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا ۔ اس نے نہایت ادب وتعظیم سے پیش آتے ہوئے ملاقات کی ، پھر میرے سامنے بیٹھ گیا اور کہا:” ہمارے بادشاہ نے آپ کو سلام کہا ہے ، وہ پوچھتے ہیں کہ تمہیں ہمارے ملک آنے کے لئے کس چیز نے مجبور کیا۔ کیا ہم سے جنگ کا ارادہ رکھتے ہو یا ہمارے مذہب کی محبت تمہیں یہاں کھینچ لائی یاتم پناہ چاہتے ہو؟” میں نے اس قاصد سے کہا:” اپنے بادشاہ کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں تم سے جنگ کروں، باقی رہا دین و مذہب تبدیل کرنے کا معاملہ تو میں کبھی بھی اپنا دین چھوڑ کر تمہارا دین قبول نہ کروں گا ،ہاں میں پناہ کا طلب گارہوں، اگر مجھے پناہ مل جائے تو احسان ہوگا۔”
قاصد یہ پیغام لے کر بادشاہ کے پا س گیا پھر واپس آکر کہا:”ہمارے بادشاہ نے آپ کو سلام کہا ہے ا ور کہا ہے کہ ”کل میں

خود تمہارے پاس آؤں گا ، تم اپنے دل میں کسی قسم کا خدشہ پیدا نہ ہونے دینا اور نہ ہی غلہ وغیرہ خریدنا جس چیز کی تمہیں ضرورت ہے وہ تمہارے پاس پہنچا دی جائے گی۔” بادشاہ کا یہ پیغام سن کر میں نے اپنے خادموں کو حکم دیاکہ بہترین قسم کے قالین بچھاؤدو اور ان قالینوں پر بادشاہ اور میرے لئے ایک جیسی نشست گاہ بناؤ ، کل میں خود بادشاہ کے استقبال کے لئے جاؤ ں گا۔” خادموں نے جتنا ہو سکا خوب سجاوٹ کی دوسرے دن میں بادشاہ کا انتظار کررہا تھا کہ خادموں نے اس کے آنے کی اطلاع دی۔میں ایک اونچی جگہ کھڑا ہو کر بادشاہ کو دیکھنے لگا۔ میں نے دیکھا کہ ایک شخص دو موٹی چادروں میں ملبوس ننگے پاؤں پیدل ہی ہماری طر ف آرہا تھا اس کے ساتھ دس سپاہی تھے تین اس کے آگے اور ساتھ پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ میں نے جب بادشاہ کو اس حالت میں دیکھا تو وہ مجھے بہت معمولی سا آدمی لگا، میرے دل میں آیا کہ اس کو قتل کر دو ں اور خود اس کی جگہ لے لوں۔ جب وہ قریب آیا تو میں نے ایک بہت بڑا لشکر دیکھا، میں نے پوچھا :”یہ کیا ہے۔” کہا :” گھوڑوں کالشکرِ جرار ہے ۔”
اے خلیفہ ! میں نے دیکھا کہ کچھ ہی دیر بعد دس ہزار گھڑ سوار اسلحے سے لیس ہمارے قلعے کی طرف آئے اور اسے چاروں طرف سے گھیر لیا ، پھر فقیر انہ لباس میں ملبوس وہ بادشاہ اندر آیا اور پوچھا:” وہ شخص کہا ں ہے؟” ترجمان نے میری طرف اشارہ کیا۔ بادشاہ نے میری طر ف دیکھا تو میں ادب بجالانے کے لئے اس کی طرف دوڑا۔ بادشاہ نے میرا ہاتھ چوم کر اپنے سینے پر رکھ لیا، پھر اپنے پاؤں سے قالین لپیٹا اور خالی زمین پر بیٹھ گیا۔ میں نے ترجمان سے کہا:”سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! ہم نے یہ تمام چیزیں بادشاہ کے لئے بچھوائیں ہیں، پھر یہ قالین پر کیوں نہیں بیٹھ رہا؟ جب ترجمان نے بادشا ہ سے پوچھا تو اس نے جواب دیا:” میں بادشاہ ہوں اور ہر بادشاہ پر حق ہے کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عظمت وبزرگی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس کے سامنے تواضع اختیار کر ے ۔”
بادشاہ کا فی دیر تک زمین کو اپنی اُنگلی سے کُرَیدتا رہا اور کچھ سو چتا رہا ۔ پھر سر اوپر اٹھایا اور کہا:” تم سے یہ ملک کیوں چِھن گیا؟ تم سے اقتدار کیوں جاتا رہا؟ حالانکہ دوسرے لوگوں کی نسبت تم اپنے نبی سے زیادہ قربت رکھتے ہو۔” میں نے کہا:” اے بادشاہ! ایک ایسا شخص آیا جو ہماری نسبت ہمارے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا زیادہ قریبی تھا اس نے ہم پر حملہ کیاتو ہمارا اقتدار جاتا رہا اور ہم لا وارث ہوگئے۔ اب میں بھاگ کر تمہارے پاس پناہ لینے آیا ہوں، اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بعد مجھے تمہارا ہی سہارا ہے۔” بادشاہ نے کہا:” تم لوگ شراب کیوں پیتے ہو؟ حالانکہ تمہاری کتاب (یعنی قرآنِ کریم )میں اس کو حرام ٹھہرایا گیا ہے۔” میں نے کہا: ” یہ کام ہمارے غلاموں ، عجمیوں اور دوسرے لوگوں کا ہے جو ہماری سلطنت میں ہماری رضا مندی کے بغیر گُھس آئے ہیں۔” بادشاہ نے کہا: ”تم لوگ سونے چاندی اور ریشم سے مزَیَّن سواریوں پر کیوں سوار ہوتے ہو؟ حالانکہ تمہارے مذہب میں یہ چیزیں جائز نہیں۔” میں نے کہا :” یہ بھی ہمارے غلاموں اور عجمی لوگو ں کا کیا دَھرا ہے، وہ ہی ایسے ناجائز امور میں مبتلا ہیں۔”
با دشاہ نے پھر کہا : ” تم لوگ کہیں سفر پر یا شکار کے لئے جاتے وقت جب کسی وادی سے گزرتے ہو تواس کے رہائشیوں کو کیوں

پریشان کرتے ہو اور ان پر بے جاٹیکس کیوں لگاتے ہو؟جب تک ان کی فصلوں کو اپنی سواریوں سے روند نہ ڈالوتمہیں سکون نہیں ملتا، نصف درہم کے لئے بھی خوب نقصان کرتے اور فساد بر پا کرتے ہو ، آخر ایسا کیوں ؟ حالانکہ تمہارے دِین میں ایسا فساد حرام کیا گیا ہے۔” میں نے وہی جواب دیا کہ یہ سب کام ہمارے خُدَّام اور غلام وغیرہ کرتے ہیں۔”
بادشاہ نے کہا:” نہیں ، بلکہ تم لوگوں نے اُن چیزوں کو حلال سمجھ لیا ہے جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حرام فرمایاتھا ، جن باتوں سے اس نے روکا تم نے وہی اختیار کرلیں تواللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم سے عزت چھین کر ذلت کالباس پہنادیا۔خدائے بزرگ وبَر تر کا انتقام ابھی تمہارے متعلق پورا نہیں ہوا ۔مجھے ڈر ہے کہ اگر تم میرے ملک میں رہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب آیا توکہیں وہ تمہارے ساتھ مجھے بھی اپنی لپیٹ میں نہ لے لے ۔ بے شک عذاب کہہ کر نہیں آتا ، جب وہ آئے گا تو سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا ، سنو! مہمان نوازی کا حق تین دن ہی ہوتا ہے تین دن بعد تم یہاں سے چلے جانا تمہیں جو ضرورت ہے وہ لے لو۔ اگر تین دن کے بعد یہاں رُکو گے تو تمہارا سارا سامان چھین لوں گا ۔”اتنا کہہ کر بادشاہ وہاں سے چلا گیا۔ میں تین دن وہاں ٹھہر کر واپس آیا تو مجھے قید کر کے آپ کے پاس بھیج دیا گیا۔ اب میں آپ کے سامنے موجود ہوں ، زندگی سے زیادہ اب مجھے موت پیاری ہے، کاش! مجھے موت آجائے ۔عبید اللہ بن مَرْوَان کی یہ عبرت ناک روداد سن کرخلیفہ منصور کو اس پر ترس آنے لگاجب اسے آزاد کرنا چاہا تو اسماعیل بن علی نے منع کرتے ہوئے کہا:”اس کی گردن میں بنوامیہ کی بیعت ہے ۔”خلیفہ نے کہا:”پھر تمہاری کیا رائے ہے ؟” اسماعیل بن علی کہا:” اسے ہمارے قید خانوں میں ہی رہنے دیں اور جس سزا کا یہ مستحق ہے وہ اس پر جاری کر دیں۔”
راوی کا بیان ہے،” پھر عبید اللہ بن مَرْوَا ن کو واپس قید خانے میں بھیج دیاگیا،اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!مجھے معلوم نہیں کہ وہ منصور کی خلافت میں ہی مر گیا یا مہدی نے اسے آزاد کردیا ۔”اللہ عَزَّوَجَلَّ ہم سب کو ظالموں سے محفوظ رکھے اور دنیا و آخرت میں ہمارے ساتھ عَفْو وکرم والا معاملہ فرمائے۔ ( آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم)