حکایت نمبر222: اچھے اشعاربخشش کاذریعہ بن گئے

حکایت نمبر222: اچھے اشعاربخشش کاذریعہ بن گئے

حضرتِ سیِّدُنا محمد بن نافع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :” ابونَوَّاس علیہ رحمۃ اللہ الرزاق میرے قریبی دوست تھے ہم ایک ہی علاقے میں رہاکرتے تھے۔ پھر وہ دوسرے شہر چلے گئے اور آخری عمر تک ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔ ایک دن اطلاع ملی کہ ابو نوَّاس علیہ رحمۃ اللہ الرزاق کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس خبر نے مجھے بہت غمگین کیا، میں بہت زیادہ پر یشان تھا،اسی حال میں مجھے اونگھ آگئی ۔ میں نے ابونَوَّاس علیہ رحمۃ اللہ الرزاق کو دیکھاتو پکار کر کہا:”ابو نو اس ؟” انہوں نے کہا:” یہاں کُنیَّت نہیں۔” میں نے کہا :”آپ حسن بن ہانی ہیں؟ ”کہا :”ہاں۔” میں نے پوچھا:” مَافَعَلَ اللہُ بِکَ؟” (یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟) کہا : ”اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے میرے ان چند اشعار کی وجہ سے بخش دیا جو میں نے اپنی موت سے کچھ دیر قبل کہے تھے ۔”
حضرت سیِّدُنا محمد بن نافع رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :”پھر میری آنکھ کھل گئی، میں فوراً ان کے گھر پہنچا۔ جب اہلِ خانہ نے مجھے دیکھا تو ان کا غم تازہ ہوگیا اوروہ بِلَک بِلَک کررونے لگے۔ میں نے انہیں تسلی دی اور پوچھا:” کیا میرے بھائی ابو نواس علیہ رحمۃ اللہ الرزاق نے انتقال سے قبل کچھ اشعار لکھے تھے ؟” انہو ں نے کہا:”ہمیں نہیں معلوم، ہاں! اتنا ضرور ہے کہ موت سے قبل انہوں نے قلم، دوات اور ورق منگوائے تھے ۔ میں نے کہا :” مجھے ان کی خوابگاہ (یعنی آرام کے کمرہ)میں جانے کی اجازت دو تاکہ ان اوراق کو ڈھونڈ سکوں۔” گھر والوں نے مجھے ان کی خوابگاہ تک پہنچا یا ۔میں نے تکیہ ہٹاکر دیکھا تو وہاں کوئی چیز نہ ملی پھر دوبارہ تکیہ ہٹایا تو وہاں ایک پرچہ ملا جس پر یہ اشعار لکھے ہوئے تھے :

یَارَبِّ اِنْ عَظُمَتْ ذَنُوْبِیْ کَثْرَۃً
فَلَقَدْ عَلِمْتُ بِاَنَّ عَفْوَکَ اَعْظَمُ
اِنْ کَانَ لَایَرْجُوْکَ اِلَّامُحْسِنٌ
فَمَنِ الَّذِیْ یَدْعُوْوَیَرْجُو الْمُجْرِمُ
اَدْعُوْکَ رَبِّ کَمَااَمَرْتَ تَضَرُّعًا
فَاِذَا رَدَدتَّ یَدِیْ فَمَنْ ذَا یَرْحَمُ
مَالِیْ اِلَیْکَ وَسِیْلَۃٌ اِلَّا الرِّجَا
وَجَمِیْلُ عَفْوِکَ ثُمَّ اِنِّیْ مُسْلِمُ

ترجمہ:(۱)۔۔۔۔۔۔اے میرے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ! بے شک میرے گناہ بے شمارہوگئے ،مگرمیں جانتاہوں کہ تیرا عفووکرم سب سے بڑھ کر ہے۔
(۲)۔۔۔۔۔۔اگرنیک لوگ ہی تجھ سے امید رکھ سکتے ہیں تو پھرمجرم کسے پکاریں ؟اور کس سے امیدرکھیں؟۔
(۳)۔۔۔۔۔۔اے میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ !میں تیرے حکم کے مطابق گریہ وزاری کرتے ہوئے تیری بارگاہ میں فریاد کرتاہوں اگرتُونے مجھے
خالی ہاتھ لوٹا دیاتو پھر کون رحم کر ے گا۔؟
(۴)۔۔۔۔۔۔تیری بارگاہ میں باریابی کے لئے میرے پاس امید اور تیرے عفووکرم کے سوا کوئی وسیلہ نہیں پھر یہ کہ میں تجھے ماننے والا ہوں ۔
(پیارے اسلامی بھائیو :اس حکایت میں ان شعراء کرام کے لئے مسرت کاسامان ہے جوقرآن وسنت کی روشنی میں اچھے اشعار(یعنی حمدالہٰی ،ثنائے مصطفی عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اور نصیحت بھرے اشعار) لکھتے ہیں۔اوریقیناایسوں کے لکھے ہوئے اشعار پڑھنے اورسننے سے خوفِ خداعَزَّوَجَلَّ اورعشقِ مصطفی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی لازوال دولت ملتی ،حفاظتِ ایمان کے لئے کُڑھنے کا ذہن بنتااورنیک بننے کاجذبہ ملتاہے۔اس کی ایک مثال شیخ طریقت، امیرِاہلسنّت بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔقادری دامت برکاتہم العالیہ کے لکھے ہوئے کلام بھی ہیں جودعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے ”مغیلانِ مدینہ”اور”ارمغانِ مدینہ”کے نام سے ہدیۃً خریدے جاسکتے ہیں۔)
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)