آسمانی زنجیر

حکایت نمبر274: آسمانی زنجیر

حضرتِ سیِّدُنا حُذَیْفَہ بن قَتَادَہ مَرْعَشِی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے منقول ہے: ” ہمارا بحری جہاز جھومتا ہوا سوئے منزل چلا جا رہا تھا۔ مسافروں کی نظریں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بنائی ہوئی اشیاء کو دیکھ رہی تھیں، سمندر کا سُکوت ماحول کو سوگوار بنا رہا تھا ۔ اچانک تندوتیز ہواؤں نے جہاز کو تباہ کردیا۔ مسافروں میں سے ایک عورت اور میں جیسے تیسے ایک ٹوٹے ہوئے تختے تک پہنچے کر اس پر بیٹھ گئے۔ ہم سات دن بھوکے پیاسے آسمان کی چھت تلے سمندر کے سینے پر تختے کے سہارے اِدھر اُدھر گھومتے رہے۔ پیاس کی ماری عورت نے مجبور ہو کر کہا:” میں بہت پیاسی ہوں اگر کچھ کرسکتے ہو تو کرو۔” مجھے اس پر بڑا تر س آیا ، میں نے بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی: ” الٰہی عَزَّوَجَلَّ اس بے کس ومجبور عورت کی پیاس بجھا دے ” ابھی میں دعا سے فارغ بھی نہ ہو ا تھا کہ آسمان سے ایک زنجیر آئی جس کے ساتھ عمدہ پانی سے بھرا ایک ڈول لٹک رہا تھا۔ عورت نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے وہ پانی پی لیا۔ میں اس زنجیر کو دیکھنے لگا مجھے فضا میں ایک شخص بیٹھا ہوا دکھائی دیا۔ میں نے اس سے پوچھا :” تم کون ہو ؟” کہا:” میں ایک انسان ہوں۔”میں نے کہا: ” تمہیں یہ مرتبہ کس عمل کے سبب ملا۔” کہا: ”میں نے ہمیشہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اَحکامات کو اپنی خواہشات پر ترجیح دی تواُس پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ نے مجھے وہ مقام عطا فرمایا جو تم دیکھ رہے ہو۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ علیہ وسلَّم)

(سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! جو شخص اپنے مالک ومولیٰ عَزَّوَجَلَّ کے فرامین کو ا پنی خواہشات پر ترجیح دے تو اسے ایسے ایسے انعامات ملتے ہیں جنہیں دیکھ کر عقلیں دَنگ رہ جاتی ہیں ۔ اگر اس پا ک پروردگارعَزَّوَجَلَّ کے احکام کی پیروی کی جائے تو انسا ن کے لیے ہوائیں ، دریا ، پہاڑ ، بَر گ وبار سب مُسَخَّر کرد یئے جاتے ہیں ۔مگر نیک اعمال پر استقامت بے حد ضروری ہے ، جس کی طلب سچی ہو وہ اپنا مطلوب پالیتا ہے۔ )