کبيرہ نمبر102: بلا عذر نمازِ جمعہ جماعت کے ساتھ نہ پڑھنا اگرچہ يہ کہے :”ميں ظہر کی نماز تنہا پڑھ لیتاہوں۔”

(1)۔۔۔۔۔۔رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دل کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے نمازِ جمعہ سے رہ جانے والے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمايا :”ميں نے ارادہ کر ليا ہے کہ کسی شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے پھر (بلاعذر) جمعہ سے رہ جانے والوں پر ان کے گھروں کو جلا دوں۔”
(صحیح مسلم ،کتاب المساجد،باب فضل صلاۃ الجماعۃ۔۔۔۔۔۔الخ،الحدیث:۱۴۸۵،ص۷۷۹)
(2)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابو ہريرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہيں کہ ہم نے تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنے منبر کے زینے پر بيٹھے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا :”لوگ جمعہ نہ پڑھنے کے عمل سے باز آ جائيں ورنہ اللہ عزوجل ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر وہ غافلوں ميں سے ہو جائيں گے۔”
( صحیح مسلم ،کتاب الجمعۃ ، باب التغلیظ فی ترک الجمعۃ ، الحدیث ۲۰۰۲ ، ص ۱۳ ۸)
(3)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے تین جمعے سستی کی وجہ سے جانتے ہوئے چھوڑ دئيے اس کے دل پر مہر لگا دی جائے گی۔”
(سنن ابی داؤد ،کتاب الصلاۃ،باب التشدید فی ترک الجمعۃ ،الحدیث:۱۰۵۲، ص ۱۳۰۱ )
(4)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جس نے کسی عذر کے بغير تین جمعے چھوڑ دئيے وہ منافق ہے۔”
(ابن حزیمۃ،کتاب الجمعۃ،باب ذکر الدلیل۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث:۱۸۵۷،ج۳ ،ص۱۷۶)
(5)۔۔۔۔۔۔ ايک اور روايت ميں ہے :”جس نے تين جمعے کسی عذر کے بغير چھوڑ دئيے وہ اللہ عزوجل سے بے علاقہ ہے۔”
(6)۔۔۔۔۔۔حضورنبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :”جس نے کسی ضرورت کے بغير تین مرتبہ جمعہ چھوڑ دیا اللہ عزوجل اس کے دل پر مہر لگا دے گا۔”
(سنن ابن ماجۃ ،ابواب اقامۃ الصلوات ، باب فیمن ترک الجمعۃ من غیر عذر ، الحدیث ۱۱۲۶ ، ص ۲۵۴۲)
(7)۔۔۔۔۔۔سیدناامام بیہقی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی ايک روايت ميں اتنازائدہے :”اور اس کے دل کو منافق کا دل بنا دے گا۔”
( شعب الایمان،باب الحادی والعشرین ، فضل الجمعۃ ،الحدیث:۳۰۰۵ ، ج۳ ، ص ۱۰۳)
(8)۔۔۔۔۔۔ ایک اور روایت میں کہ جس کی شواہد بھی ہیں یہ ہے :”اسے منافقین میں لکھ دیا جائے گا۔”
(مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ،باب فیمن ترک الجمعۃ، الحدیث: ۳۱۷۸ ، ج۲ ،ص ۴۲۲)
(9)۔۔۔۔۔۔اور ايک روايت ميں ہے :”اس نے اسلام کو ضرور پسِ پشت ڈال ديا۔”
( مجمع الزوائد ،کتاب الصلاۃ ، باب فیمن ترک الجمعۃ، الحدیث ۳۱۷۷ ، ج۲ ،ص ۴۲۲)
(10)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :”جمعہ کے دن اذان سننے کے باوجود نماز ميں حاضر نہ ہونے والے لوگ اپنے فعل سے ضرورباز آجائيں ورنہ اللہ عزوجل ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا تو وہ غافلوں ميں سے ہو جائيں گے۔”
(المجعم الکبیر،الحدیث:۱۹۷،ج۱۹،ص۹۹)
(11)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ہميں خطبہ ديتے ہوئے ارشاد فرمايا :”اے لوگو! مرنے سے پہلے اپنے رب عزوجل کی بارگاہ ميں توبہ کر لو، مشغوليت سے پہلے نيک اعمال ميں جلدی کر لو، اللہ عزوجل کو کثرت سے ياد کر کے اور ظاہرو پوشيدہ کثرت سے صدقہ کرکے اپنے رب عزوجل سے ناطہ جوڑ لو کہ تمہيں رزق ديا جائے گا، تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہاری پريشانياں دور کر دی جائيں گی اور جان لو! ميری اس جگہ، اس دن، اس مہينے اور اس سال ميں اللہ عزوجل نے قيامت تک کے لئے تم پرجمعہ فرض فرما ديا ہے لہٰذا جو ميری حياتِ ظاہری ميں يا ميرے بعد حاکمِ اسلام کی موجودگی ميں خواہ وہ عادل ہو يا ظالم، اسے ہلکا جان کریابطورِ انکار چھوڑے گا اللہ عزوجل اس کے بکھرے ہوئے کام جمع نہ فرمائے گا اور نہ ہی اس کے کام ميں برکت دے گا، سن لو! جب تک وہ توبہ نہ کریگا اس کی کوئی نماز ہے نہ زکوٰۃ، نہ حج، نہ روزہ اور نہ ہی کوئی نيک عمل جب تک توبہ کرے اور جوتوبہ کرلے تو اللہ عزوجل اس کی توبہ قبول فرما ليتاہے ۔ ”
(سنن ابن ماجۃ ،ابواب اقامۃ الصلوات،با ب فی فرض الجمعۃ ،الحدیث:۱۰۸۱،ص۲۵۴۰)

تنبیہ:

  بيان کردہ ان احادیثِ مبارکہ سے اس گناہ کا کبيرہ گناہوں ميں سے ہونا بالکل واضح ہے اور بہت سے علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس کے کبيرہ ہونے کی صراحت بھی کی ہے، ابوابِ فقہ ميں مذکور وہ افراد جنہیں کوئی عذر نہ ہو، اُن پر جماعت کے ساتھ جمعہ ادا کرنا بالاجماع فرضِ عين ہے، بلکہ یہ تو ضرورياتِ دين ميں سے ہے لہٰذا جو مسلمان کہلانے والا شخص نمازِ جمعہ چھوڑنے کو حلال سمجھے ظاہرا ًاس پر حکمِ کفر ہونا چاہے کیونکہ نمازِ جمعہ کے فرض ہونے پر سب کا اتفاق ہے اوريہ ضروريات دين ميں سے بھی ہے اسی وجہ سے اگر کوئی شخص کہے :”ميں نمازِ ظہر پڑھوں گا، جمعہ نہيں۔” تو ہمارے يعنی شافعيوں کے نزديک اسے قتل کيا جائے گا کيونکہ يہ فرضِ عین کو چھوڑنے کے مترادف ہے۔
  سیدنا حليمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہيں :”نمازِ جمعہ کو کسی دوسری نماز کی وجہ سے چھوڑ دينا صغيرہ گناہ ہے۔”یہاں ان کے قول میں کسی دوسری نماز سے مراد جمعہ کے بدلے ظہر کی نماز پڑھنا ہے اور ان کی يہ بات کہ ”يہ صغيرہ گناہ ہے” محلِ نظر ہے۔ جيسا کہ سیدنا اذرعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بیان فرمايا ۔
  شايد سیدنا حليمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا يہ بيان اس ضعيف قول پر مبنی ہے جو يہ ہے :”جو یہ کہے کہ ميں ظہر پڑھوں گا جمعہ نہيں پڑھوں گا تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔” اور اسی طرح يہ قول کہ” جمعہ نمازِظہر کی قصر ہے”بھی ضعيف ہے جبکہ صحيح تر قول يہ ہے کہ ايسے شخص کو قتل کيا جائے گا(احناف کے نزدیک قتل نہیں بلکہ قیدکیاجائے گا) کيونکہ نماز جمعہ ايک مستقل نماز ہے نمازِ ظہر کا بدل نہيں، لہٰذا اسے چھوڑ دينا کبيرہ گناہ ہے اگرچہ وہ يہ کہتا ہو کہ ميں ظہر پڑھوں گا۔