روزہ کسے کہتے ہیں؟ کیا روزے کے لیے نیت شرط ہے؟

۞☜︎︎︎رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ! روزہ سِپَر(یعنی ڈھال) ہےاور جب کسی کے روزے کا دن ہو تو نہ بےہُودہ بکے اور نہ ہی چیخے پھر اگر کوئی اور شخص اس سے گالی گلوچ کرے یا لڑنے پر آمادہ ہو تو کہہ دے میں روزہ دار ہوں۔(صحیح بخاری ، حدیث 1894)
💛•••••❤️•••••💚•••••💜

سوال: روزہ کسے کہتے ہیں؟🌹
جواب:۞☜︎︎︎روزہ عرف شرع میں مسلمان کا بہ نیّت عبادت صبح صادق سے غروب آفتاب تک اپنے کو قصداً کھانے پینے جماع سے باز رکھنا ہے ، عورت کا حیض و نفاس سے خالی ہونا شرط ہے۔(عامۂ کتب)👈🏻روزے کے تین درجے ہیں:
1️⃣ ایک عام لوگوں کا روزہ کہ یعنی پیٹ اور شرم گاہ کو کھانے پینے جماع سے روکنا۔
2️⃣ دوسرا خواص کا روزہ کہ انکے علاوہ کان، آنکھ، زبان، ہاتھ پاؤں اور تمام اعضا کو گناہ سے باز رکھنا۔
3️⃣ تیسرا خاص الخاص کا کہ جمیع ماسوی ﷲ سے اپنے کو بالکل جُدا کرکے صرف اسی کی طرف متوجہ رہنا۔(جوہرہ نیرہ) ♥︎
🌸:::::🌻::::::🌼::::::🌹::::::🌺

سوال:✍︎ کیا روزے کے لیے نیت شرط ہے؟
جواب: ۞☜︎︎︎جی ہاں ! روزے کے لیے بھی اُسی طرح نیت شرط ہے جس طرح کہ نماز ، زکٰوۃ وغیرہ کے لیے۔ لہزا بغیر نیتِ روزہ اگر کوئی اسلامی بھائی یا بہن صبح صادق کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک بالکل نہ کھائے پئے تب بھی اس کا روزہ نہیں ہو گا۔(ردالمختار) ♡︎
💟••••🌸••••💟••••🌸••••💟

Exit mobile version