حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

ان کی کنیت ابونجیح ہے اور ان کا خاندانی تعلق بنی سلیم سے ہے۔ مفلس مہاجر تھے اس لئے مسجد نبوی علی صاحبہا الصلوٰ ۃوالسلام میں اصحاب صفہ کے ساتھ رہتے۔ آخر میں ملک شام چلے گئے اوروہیں سکونت اختیار کی۔ حضرت ابو امامہ اورتابعین کی

ایک جماعت نے ان سے حدیثوں کی روایت کی ہے ۔ ۷۵ھ؁ میں شام میں ان کا وصال ہوا۔ (1)(اسدالغابہ،ج۳،اکمال،ص۶۰۶)

کرامت
فرشتہ سے ملاقات اورگفتگو

ایک دن یہ دمشق کی جامع مسجد میں اس طرح دعا مانگ رہے تھے کہ یا اللہ! عزوجل اب میری عمر بہت زیادہ ہوگئی ہے اور میر ی ہڈیاں بہت زیادہ کمزور ہوچکی ہیں لہٰذا اب تو مجھے وفات دے دے۔ اچانک ان کے پیچھے سے ایک سبز پوش نوجوان جو بہت ہی خوبصورت تھا بول اٹھا:اے شخص!یہ کیسی دعاتو مانگ رہا ہے ؟تمہیں اس طرح دعاکرنی چاہے کہ یا اللہ! عزوجل میرے عمل کو اچھا کردے اورمجھ کو میری اجل تک پہنچا دے۔ یہ نوجوان کی ڈانٹ سن کر چونکے اورپوچھا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے آپ کون ہیں؟ نوجوان نے کہا: میں ”ریبائیل”فرشتہ ہوں اورخدا تعالیٰ کی طرف سے میری یہ ڈیوٹی ہے کہ میں مؤمنین کے دلوں سے رنج وغم کو دورکرتاہوں۔ (2)
(قال الہیثمی،ج۱۰،ص۱۸۴)

تبصرہ

فرشتہ کا دیدار کرنا اوراس سے آمنے سامنے گفتگو کرنا بلاشبہ یہ ایک نادر الوجود کرامت ہے ۔ جو شرف صحابیت کے طفیل میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو ملتی رہی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

Exit mobile version