طہارت کے اَحکام اور اِس کی اَقسام

طہارت کے اَحکام اور اِس کی اَقسام

طہارت کا لغوی معنی ۔ پاکیزگی

طہارت کا حکم

یہ نماز کی درستگی کے لئے شرط ہے، اِسلئے کہ نماز بندے اور اُس کے رب کے درمیان

مناجات کے تعلق کا نام ہے،پس اِس تعلق کیلئے طہارت حسی اور معنوی ضروری ہیں ۔

طہارت کی اَقسام

طہارت کی دو قسمیں ہیں : (۱): حسی (۲): معنوی

(1): طہارتِ حسی

اِس کی پھر دو قسمیں ہیں : (۱): حدث سے پاکیزگی (۲): خبث سے پاکیزگی
[۱]: حدث سے پاکیزگی
یہ وہ حدث ہے جو بدن سے متعلق ہو۔
حدث کی پھر دو قسمیں ہیں: (۱): حدثِ اَصغر (۲): حدثِ اَکبر

حدثِ اَصغر کی مثال

پیشاب اور پاخانہ کا نکلنا۔

حدثِ اَصغر کا حکم

یہ حدث وضو کے ساتھ دور ہوجاتا ہے اور پانی نہ ملنے یا پانی کے اِستعمال پر قدرت نہ ہونے کے وقت تیمم سے یہ حدث زائل ہو جاتا ہے۔

حدثِ اَکبر کی مثا ل اور حکم

اِس کی مثال جنابت اور حکم یہ ہے کہ یہ غسل سے زائل ہوتا ہے اور پانی نہ ملنے کی صورت میں یا پانی کے اِستعمال پر قادر نہ ہونے کی صورت میں تیمم سے یہ حدث زائل ہو جاتا ہے

[۲]: خبث سے پاکیزگی

خبث سے مراد وہ نجاست ہے جو بدن ،کپڑے یا زمین پر لگی ہو۔

خبث کا حکم

ہر بہنے والی پاک چیز سے یہ نجاست زائل ہو تی ہے جس سے عینِ نجاست زائل ہو

جائے،جس طرح مائِ مطلق یا ماء ِمستعمل یا سرکہ یا عرق گلاب یا درخت یا پھل کانچوڑا ہوا پانی۔

(2): طہارتِ معنوی

طہارتِ معنوی یہ ہے کہ دل کے اَمراض سے پاک ہونا،جیسے : جھوٹ ،غیبت وغیرہ۔
نوٹ: نمازی کیلئے طہارتِ حسی اور معنوی دونوںضروری ہیںاور طہارتِ حسیہ تو نماز کی درستگی کے لئے شرط ہے اور یہی طہارت نمازکی کنجی ہے ،اِس لئے کہ رسولِ پاک انے فرمایا:
{ مِفْتَاحُ الصَّلٰوۃِ الطَّہُوْرُ } ’’نماز کی کنجی طہارت ہیــ‘‘ [ابودائود و ترمذی]
اور طہارتِ معنوی نمازکی درستگی اور نماز کی کنجی دونوں کیلئے شرط ہے اور طہارتِ معنوی ہی نماز کی فرضیت کا اصل مقصد ہے ، اِسی وجہ سے فقہاء اپنی تصانیف کو طہارتِ معنوی سے شروع کرتے ہیں۔
ٖ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـ

Exit mobile version