روزہ ٹوڑنے کا کیا کفارہ ہے؟روزے کا کفارہ کس شخص پر ہے؟ مسافر بعد صبح کے ضحویٰ کبریٰ سے پہلے وطن کو آیا اور روزے کی نیت کر لی پھر توڑ دیا تو کیا کفارہ ہو گا؟

سوال: روزہ ٹوڑنے کا کیا کفارہ ہے؟💛
جواب: روزہ توڑنے کا کفارہ یہ ہے کہ ممکن ہو تو ایک باندی یا غلام آذاد کرے اور یہ نہ کر سکے تو اب پے در پے ساٹھ روزے رکھے۔ یہ بھی اگر ممکن نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو پیٹ بھر کر دو وقت کا کھانا کھلائے ، یہ ضروری ہے کہ جس کو ایک وقت کھلایا دوسرے وقت بھی اسی کو کھلائے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ساٹھ مساکین کو ایک ایک صدقۂ فطر یعنی تقریباً دو کلو 50 گرام گیہوں یا اس کی رقم کا مالک کر دیا جائے۔ ایک ہی مسکین کو اکھٹے ساٹھ صدقۂ فطر نہیں دے سکتے۔ ہاں یہ کر سکتے ہیں کہ ایک ہی کو ساٹھ دن تک روزانہ ایک ایک صدقۂ فطر دیں۔(ردالمختار)🌹🍃🌸

سوال: 📚روزے کا کفارہ کس شخص پر ہے؟
جواب: 🌹وہ شخص جس میں روزہ فرض ہونے کی تمام شرائط پائی جاتی ہوں ، رمضان کے اُس ادا روزے میں جس کی نیت صبح صادق سے پہلے کر چکا ہو عمداً روزہ توڑ دے ، یعنی بدن کے کسی جوف میں قدرتی یا مصنوعی (opening) سے کوئی ایسی چیز پہنچائے جو انسان کی غذا یا دوا کے طور پر استعمال ہوتی ہو ، یا جماع کرے یا کرائے ان تمام صورتوں میں روزہ ٹوٹ جائے گا اور روزے کی قضا کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہو گا ، اور اس فعل پر ، توبہ بھی کرنا لازم ہو گی۔ (در مختار)📖💛🌸

سوال: مسافر بعد صبح کے ضحویٰ کبریٰ سے پہلے وطن کو آیا اور روزے کی نیت کر لی پھر توڑ دیا تو کیا کفارہ ہو گا؟🌷
جواب: مسافر بعد صبح کے ضحوہ کبریٰ سے پہلے وطن کو آیا اور روزے کی نیت کر لی پھر توڑ دیا یا مجنون اس وقت ہوش میں آیا اور روزے کی نیت کر کے پھر توڑ دیا تو کفارہ نہیں۔ (عالمگیری)
❥⃝❤️▭▭▭❥⃝💚▭▭▭❥⃝💛

Exit mobile version