دَجال لعین

دَجال لعین

جب اَہل اِسلام غنا ئم قسطنطنیہ تقسیم کر رہے ہوں گے تو شیطان آواز دے گا کہ دجال تمہارے اَہل واولاد میں آگیا ہے۔ یہ سنتے ہی غنائم چھوڑ کر دجال کی طرف متوجہ ہوں گے اور دس سوار بطورِ طلیعہ ( ۲) خبر لا نے کے لئے بھیجیں گے ان کی نسبت حضور رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میں ان کے نام، ان کے باپوں کے نام، ان کے

گھوڑ وں کے رنگ پہچا نتا ہوں اور وہ اس وقت روئے زمین پر بہتر ین سواروں میں سے ہوں گے۔ (۱ ) یہ افواہ غلط ثابت ہو گی، لشکر اسلام جب قسطنطنیہ سے روانہ ہو کر شام پہنچے گا تو جنگ عظیم سے ساتویں سال شام وعراق کے درمیان ایک راستے سے دجال ظاہر ہوگا۔ (۲ ) اسکے ظہور سے پہلے دوسال قحط رہے گا۔ تیسرے سال دو ران قحط ہی میں اس کا ظہور ہوگا۔
دجال کی ایک آنکھ اور ایک اَبر و بالکل نہ ہو گی بلکہ وہ جگہ ہموار ہوگی۔ مَمْسُوحُ العَیْن ہونے ( ۳) کے سبب سے اسے مسیح الدجال کہتے ہیں ۔ وہ ایک بڑے گدھے پر سوار ہو گا اور اس کی پیشانی کے درمیان ’’ ک اف ر ‘‘ (کافر ) لکھا ہو گا جسے صرف اہل ایمان کاتب و غیر کاتب پڑھ لیں گے۔ وہ روئے زمین پر پھر ے گا اور لوگوں کو اپنی اُلوہیت کی دعوت دے گا اور وہ اسی غرض کے لئے اپنے سر ایا ( ۴) مختلف اَطراف میں بھیجے گا۔اس کے ساتھ ایک باغ ہو گا جسے وہ جنت کہے گا اور ایک آگ ہو گی جسے دوز خ بتا ئے گا۔ موافقین کو وہ اپنی بہشت میں اور مخالفین کو اپنی دوزخ میں ڈالے گا۔ مگر حقیقت میں وہ بہشت دوزخ کی خاصیت رکھتی ہو گی اور دوز خ باغ بہشت کے مانند ہو گی۔ اس کے پاس اشیا ئے خور دنی کا بڑا ذ خیر ہ ہوگا، اس میں سے جسے چاہے دے گا، لوگوں کی آزمائش کے لئے اس سے خارقِ عادت امور ظاہر ہوں گے۔ جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے ان کے لئے آسمان کو حکم دے گا تو مینہ برسنے لگ جائے گا، زمین کو حکم دے گا تو گھاس اور زراعت بکثرت اُگا ئے گی، جو انکار کریں گے ان سے مینہ اور زراعت ونباتات کو روک دے گا، ایک ویرانے میں پہنچے گا تو زمین سے کہے گا کہ اپنے خزانے نکال دے چنانچہ اس ویرانے کے خزانے اس کے پیچھے چلیں گے، بعض آدمیوں سے کہے گا کہ میں تمہارے مر دہ ماں باپ کو زندہ کر دیتا ہوں اگر تم میری خدا ئی پر ایمان لاؤ۔ پھر وہ شیطانوں کو حکم دے گا کہ زمین میں سے ان کے ماں باپ کے ہم شکل ہو کر نکلو۔ چنانچہ وہ ایسا ہی کریں گے۔ اسی طرح اس کے لشکری ایک مومن کو پیش کریں گے وہ دیکھتے ہی کہہ دے گا کہ لوگو! یہ تو دجال ہے جس کا ذکر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کر دیا ہے۔ یہ سن کر دجال حکم دے گا کہ اس کو لٹاکر اس کا سر توڑ دو۔ ایسا ہی کیا جائے گاپھر دجال اس سے پوچھے گا: کیا تومجھ پر ایمان نہیں لاتا؟ مومن جواب دے گا کہ تو جھوٹا مسیح ہے۔ پھر دجال کے حکم سے سر سے پاؤں تک اس کے

دو ٹکڑے کیے جا ئیں گے۔ دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا اور کہے گا: اٹھ۔ وہ اٹھ بیٹھے گا۔ دجال کہے گا: کیا تو مجھ پر ایمان لاتا ہے؟ مومن جواب دے گا: اب تو مجھے خوب یقین ہو گیا کہ تو جھوٹا دجال ہے اور کہے گا: اے لوگو! میرے بعد یہ کسی اور سے ایسا نہ کر سکے گا۔ بعد ازاں دجال اسے ذبح کر نا چاہے گا مگر نہ کر سکے گا اور اسے اپنی دوزخ میں پھینک دے گا مگر وہ اس مومن کے لئے جنت ہو جائے گی۔ حضور رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا ہے کہ وہ مومن اللّٰہ کے نزدیک بڑا شہید ہوگا۔ الغرض د جال مختلف مقامات پر جائے گا، شام سے اِصفہان میں پہنچے گا، وہاں ستر ہزار یہودی اس کے پیروبن جائیں گے۔ پھرتا پھراتا سرحدیمن پر پہنچ جائے گا وہاں سے مکہ معظمہ کا قصد کرے گا مگر فرشتوں کی محافظت کے سبب اس میں داخل نہ ہوسکے گا پھر مدینہ منورہ میں پہنچے گا، اس وقت مدینہ طیبہ کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازے پر دودوفرشتے محافظ ہوں گے اس لئے شہر کے اندر داخل نہ ہو سکے گا، یہاں سے وہ لوگوں کو گمراہ کر تا ہوا شام کی طرف روانہ ہوگا۔ ( ۱)

________________________________
1 – صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب اقبال الروم۔۔۔الخ،الحدیث :۳۷۔(۲۸۹۹)،ص ۱۵۵۰۔علمیہ
2 – سنن ابی داؤد، اوّل کتاب الملاحم، باب فی تواتر الملاحم،الحدیث: ۴۲۹۶، ج ۴، ص۱۵۰۔علمیہ
3 – کانا،ایک آنکھ نہ ہونا۔
4 – فوجی دستے۔
________________________________
1 – المسند للامام احمد بن حنبل، الحدیث : ۱۴۹۵۹،ج ۵، ص ۱۵۶و فیض القدیر،حرف الدال،فصل فی المحلی بال من ہذاالحروف،ج ۳،ص ۷۱۹ صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۱۰ (۲۹۳۷)،ص ۱۵۶۹ صحیح مسلم،کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال۔۔۔الخ، الحدیث : ۱۰۳۔ (۲۹۳۳)،ص ۱۵۶۷ شرح المسلم للنووی، کتاب الفتن واشراط الساعۃ،باب ذکر الدجال، ج ۷ ، الجزء ۱۸، ص ۶۰ صحیح مسلم ،کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب فی صفۃ الدجال۔۔۔الخ، الحدیث :۱۱۳۔(۲۹۳۳) ، ص ۱۵۷۱ مشکاۃ المصابیح،کتاب الفتن، باب العلامات بین یدی الساعۃ۔۔۔الخ،الحدیث :۵۴۹۱،ج ۲، ص۳۰۲ سنن ابن ماجہ ، کتاب الفتن ، باب فتنۃ الدجال۔۔۔الخ، الحدیث :۴۰۷۷،ج ۴، ص ۴۰۶۔علمیہ

Exit mobile version