بچوں پر شفقت ورحمت

بچوں پر شفقت ورحمت

آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بچو ں پر نہایت شفقت فرماتے تھے۔بچے آپ کی خدمت میں بغرض دعا و تَحْنِیْک (3 ) لا ئے جاتے تھے۔ ایک روز اُمِ قَیس بنت مُحْصِن اپنے شیر خوار بچہ کو خدمت اَقدس میں لا ئی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس بچہ کو اپنی گود میں بیٹھا لیا اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا۔ آپ نے اس پر پانی بہا (4 ) دیا اور کچھ نہ کہا۔ ( 5)
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بچوں کو چومتے اور پیار کر تے تھے۔ایک روز آپ حضرت حَسَن بن علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو چوم رہے تھے، اَقرَع بن حا ِبس تمیمی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس بیٹھے تھے، دیکھ کر کہنے لگے کہ میرے دس لڑکے ہیں ، میں نے ان میں سے کسی کو نہیں چو ما۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ جو ر حم نہیں کر تااس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ ‘‘ ( 6) ایک بد و ( 7) ر سول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس آکر کہنے
لگا کہ تم بچو ں کو چومتے ہوہم نہیں چومتے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ جب اللّٰہ تمہارے دل سے رحمت نکال لے تو میں کیا کر سکتا ہوں ۔ ‘‘ ( 1)
حضرت جابر بن سَمُر ہ بیان کر تے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے نماز ظہر پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر آپ دو لت خانہ کو تشریف لے گئے، میں آپ کے ساتھ ہو لیا، راستے میں بچے ملے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہر ایک کے رخساروں پر دست شفقت پھیر ا اور میرے رخساروں پر بھی پھیرا، میں نے آپ کے دست مبارک کی ٹھنڈک یا خوشبو ایسی پائی کہ گو یا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا ہاتھ مبارک عطا ر کے صند وقچہ میں سے نکالا تھا۔ ( 2) جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا گز ربچو ں پر ہو تا تو ان کو سلام کیا کر تے تھے۔ (3 )
حضرت عبد اللّٰہ بن جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکسی سفر سے تشریف لاتے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اہل بیت کے بچے خدمت شریف میں لائے جاتے۔ ایک دفعہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی سفر سے تشریف لائے تو پہلے مجھے خدمت شریف میں لے گئے، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے اپنے آگے سوار کر لیاپھر حضرت فاطمہ زہر ا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے دو لڑ کوں میں سے ایک لائے گئے، آپ نے ان کو اپنے پیچھے سوار کر لیا اس طرح تینوں ایک سواری پر داخل مدینہ ہوئے۔ ( 4)
فتح مکہ کے دن جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکہ میں تشریف لائے تو حضرت عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
عَنْہ کے صاحبزادوں قُثَم اور فَضْل کو اپنی سوار ی پر آگے پیچھے بٹھا لیا۔ ( 1)
حضرت ابو رافع بن عمر وغفار ی کے چچا بیان کر تے ہیں کہ میں لڑ کپن میں انصار کے نخلستان میں جاتااور درختوں پر ڈھیلے مارتا، مجھے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں لے گئے، آپ نے پوچھا: لڑکے! تو درختوں پر ڈھیلے کیوں مار تا ہے؟ میں نے کہا: کھجور یں کھانے کے لئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ڈھیلے نہ مارا کروکھجوریں جو نیچے گری ہو ں کھالیا کرو۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے سر پر دست شفقت پھیرا اور یوں دعا فرمائی: ’’ خدا یا! اس کا پیٹ بھر دے۔ ‘‘ (2 )
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا بیان ہے کہ فصل کا کوئی پھل پکتا تو لوگ اسے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں لایا کر تے، آپ اس پر یہ دعا پڑھا کر تے: ’’ خدا یا! ہمیں اپنے مدینہ میں اور اپنے پھل میں اور اپنے مُدمیں اور اپنے صَاع (3 ) میں برکت دے۔ ‘‘ اس دعا کے بعد بچے جو حاضر خدمت ہوا کرتے ان میں سے سب سے چھوٹے کووہ پھل عنا یت فرماتے۔ (4 )
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ایک عورت میرے پاس آئی اس کے ساتھ دو لڑکیاں تھیں ، اس نے مجھ سے کچھ مانگا ، اس وقت میرے پاس صرف ایک کھجور تھی میں نے وہی اسے دے دی، اس نے دونوں لڑکیوں میں تقسیم کردی پھر وہ چلی گئی۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم گھر تشریف لائے تو میں نے یہ قصہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کردیا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ’’ جس شخص کے ہاں لڑکیاں ہو ں او روہ ان کی پر ورش اچھی طرح کرے تو وہ آتش دوزخ اور اس کے درمیان حائل ہو جائیں گی۔ ‘‘ (5 )
ام خالد بنت خالد بن سعید بن عاص قرشیہ امویہ کے والد ین ہجرت کر کے حبشہ میں چلے گئے تھے۔یہ وہیں پیدا ہو ئیں اور لڑکپن میں وہاں سے مدینہ آگئیں ۔ حضرت زُبیر بن العوام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ بیاہی گئیں جن سے ایک لڑکا خالد نام پیدا ہو ا، اس سبب سے ان کی کنیت اُم خالد ہوئی۔ ان کا بیان ہے کہ ایک روز میں اپنے والد کے ساتھ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئی، زردرنگ کا کرتہ میرے بدن پر تھاآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دیکھ کر فرمایا: سَنَہ سَنَہ۔ ( 1) (حبشی زبان میں حسنہ کو کہتے ہیں ) میں خاتم نبوت سے کھیلنے لگی، میرے باپ نے مجھے جھڑک دیا، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کھیلنے دو۔ پھر تین بار فرمایا: تو اس کو پہن کر پر انا کرے۔ (2 )
ام خالد ہی بیان کر تی ہیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس کپڑے آ ئے ان میں ایک سیاہ چادر تھی جس میں دونوں طرف آنچل تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حاضر ین سے پوچھا کہ یہ چادر کس کو اوڑھا ؤں ؟ کسی نے جواب نہ دیا۔ آپ نے فرمایا: ام خالد کو لاؤ۔ مجھے لے گئے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دست مبارک سے وہ چادر مجھے اوڑ ھا ئی اور دود فعہ فرمایا: ’’ تو اسے پہن کر پرانی کرے۔ ‘‘ آپ چادر کی بُوٹیاں دیکھ رہے تھے اور ہاتھ مبارک سے میری طرف اشارہ کر کے فرماتے تھے: ’’ ام خالد! یہ سَنَہ ہے۔ ام خالد! یہ سَنَہ ہے۔ ‘‘ سَنَہ حبشی زبان میں حَسَن (اچھے) کو کہتے ہیں ۔ (3 )
غز وات میں آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہدایت تھی کہ بچوں ، عورتوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وجود باجود لڑکیوں کے لئے خصوصیت سے رحمت تھا زمانہ جاہلیت میں بعضے عرب اَفلاس کے ڈر سے لڑکیوں کو زندہ دَرگور کر دیتے تھے چنانچہ ایک شخص حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی خدمت میں حاضر ہو کر
کہنے لگا کہ ہم اہل جاہلیت وبت پرست تھے اپنی اولاد کو مارڈ التے تھے۔ میرے ہاں ایک لڑکی تھی میں نے اسے بلایا وہ خوشی خوشی میرے پیچھے ہولی جب میں نزدیک ہی اپنے اہل کے ایک کنوئیں پر پہنچاتو میں نے اس کا ہاتھ پکڑکر کنوئیں میں گرادیا وہ اَبااَبا کہتی تھی۔ یہ سن کر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے آپ نے فرمایا کہ یہ قصہ مجھے پھر سناؤ ۔ اس شخص نے دہر ایاتو آپ اتنا روئے کہ آنسوؤں سے ڈاڑھی مبارک تر ہوگئی۔ (1 )
عرب کی طرح ہند میں بھی دُختر کُشی (2 ) پائی جاتی تھی۔رُومَۃُ الکبرٰی (3 ) میں بچہ کشی کی رسم (4 ) زمانہ قدیم سے جاری تھی۔ چنانچہ ایڈور ڈگبن صاحب اپنی تاریخ میں یوں رقمطرازہے :
’’ اپنے نئے پیدا ہو ئے بچوں کے باہر پھینک آنے یا قتل کر نے کی خوفناک رسم جس سے قُدَمَاء خوب آشنا تھے رُومۃ الکبرٰی کے صوبہ جات بالخصوص اِطالیہ میں روز بروز کثیر الو قوع ہو تی جاتی تھی۔ اس کا باعث اَفلاس تھا اور اَفلاس کے بڑے اَسباب ٹیکسو ں کا ناقابل بر داشت بو جھ اور مفلس مَدیونوں ( 5) کے خلاف محکمۂ مَال کے اَفسروں کے تکلیف دہ اور بے درد ( 6) مقدمات تھے۔ نوع انسان کے کم مالدار یا کم محنت کش حصہ نے عیال میں اضافہ کی خوشی منانے کی بجائے شفقت پدری کا مقتضایہ سمجھا تھا کہ اپنے بچوں کو ایسی زندگی کی آنے والی تکلیفوں سے چھڑادیا جائے جسے وہ خود نباہنے کے قابل نہ تھے۔ قسطنطین (متوفی ۲۲مئی ۳۳۷ئ) کی مر وت شاید مایوسی کے بعض تا زہ غیر معمولی واقعات سے حرکت میں آئی کہ اس نے پہلے اطالیہ پھر افریقہ کے تمام شہروں کی طرف ایک فرمان بھیجا جس میں یہ ہدایت تھی کہ والدین اپنے ایسے بچے مجسٹریٹوں کی عدالتوں میں پیش کیا کریں جن کو ان کا افلاس تعلیم دلا نے کی اجازت نہیں دیتاان کو فوری وکافی امداد دی جائیگی۔لیکن یہ وعدہ ایسا فیاضانہ اور یہ بند وبست ایسا بے سر وپاتھا کہ اس پر کوئی عام یا د ائمی فائدہ مترتب نہ ہوا۔یہ قانون اگرچہ کسی قدرقابل تحسین تھا مگر افلاس عامہ کو کم کر نے کی بجائے یہ افلاس کے اظہار کا ذریعہ بنا۔ ‘‘ ( 7)
یہ رسم بد جس کا انسد اد ( 8) کسی دنیوی قوت سے نہ ہو سکا آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بر کت سے
عرب بلکہ آہستہ آہستہ تمام دنیا سے اٹھ گئی۔ ارشادباری تعالٰی عَزَّاِسْمُہٗ یوں ہوا :
وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍؕ-نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْۚ- (انعام، ع ۱۹)
اور تم اپنے بچوں کو مفلسی کے ڈرسے ہلاک نہ کروہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں ۔ ( 1)
وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىٕلَتْﭪ (۸) بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ (۹) (تکویر)
اور جب زندہ درگور لڑکی پوچھی جائے گی کہ تو کس گناہ کے بدلے ہلاک کی گئی۔ ( 2)
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمادیا : اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ عُقُوْقَ الْاُمَّھَاتِ وَ وَأْدَ الْبَنَاتِ۔ (مشکوٰۃ، باب البر والصلۃ) اللّٰہ نے تم پر حرام فرماد یا ماؤں کی نافرمانی اور لڑکیوں کو زندہ در گور کر نا۔
عورتیں جن چیزوں پر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بیعت کیا کر تی تھیں ان میں سے ایک یہ تھی :
وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ (ممتحنہ، ع۲)
وہ اپنے بچوں کو ہلاک نہ کیا کریں گی۔

Exit mobile version