ایمان کا بیان

وہ تمام امور جو حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے اور جن کی نسبت یقینی معلوم ہے کہ یہ دین مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ہیں ان سب کی تصدیق کرنا اور دل سے ماننا ”ایمان ”ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، تمام انبیاء علیہم السلام کی نبوت، حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کاخاتم النبین ہونا یعنی یہ اعتقاد کہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سب میں آخری نبی ہیں، حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی ، اسی طرح حشر نشر(۲) جنت دوزخ وغیرہ کا اعتقاد اور زبان سے اقرار بھی ضروری ہے۔ مگر حالت اکراہ(۳) میں جبکہ خوف جان ہو اس وقت اگر تصدیق میں کچھ خلل نہ آئے تو وہ شخص مومن ہے اگرچہ اس کو بحالت مجبوری زبان سے کلمہ کفر کہنا پڑا ہو مگر بہتر یہی ہے کہ ایسی حالت میں بھی کلمہ کفر زبان پر نہ لائے۔ گناہ کبیرہ کرنے سے آدمی کافر

اور ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔ شرک و کفر کبھی نہ بخشے جائیں گے اور مشرک و کافرکی ہر گز مغفرت نہ ہوگی۔ ان کے سوا اللہ تعالیٰ جس گناہ کو چاہے گا اپنے مقربوں کی شفاعت سے یا محض اپنے کرم سے بخشے گا۔ شرک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو خدا یا مستحق عبادت سمجھے ۔ اور کفریہ ہے کہ ضروریات دین یعنی وہ امور جن کا دین مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ہونا بہ یقین معلوم ہو ان میں سے کسی کا انکار کرے۔
بعضے افعال بھی تکذیب و انکار کی علامات ہیں ان پر بھی حکم کفر دیا جاتا ہے جیسے زنّار(۱) پہننا۔ قشقہ (۲)لگانا وغیرہ ۔ کافر ہمیشہ دوزخ میں رہيں گے اور مسلمان کتنا بھی گنہگار ہو کبھی نہ کبھی ضرور نجات پائے گا۔ (ان شاء اللہ تعالیٰ)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) خوشی کی کوئی انتہا نہ ہوگی (۲) مرنے کے بعدزندہ کرکے اٹھایا جانا (۳) اگر معاذاللہ کلمہ کفرجاری کرنے پر کوئی شخص مجبو رکیا گیا یعنی اسے مارڈالنے یا اس کا عضو کاٹ ڈالنے کی صحیح دھمکی دی گئی کہ یہ دھمکانے والے کو اس بات کے کرنے پر قادر سمجھے توایسی حالت میں اس کو رخصت دی گئی ہے مگر شرط یہ ہے کہ دل میں وہی اطمینان ایمانی ہو جو پیشتر تھا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) ایک مخصوص دھاگہ جسے ہندوگلے اوربغل کے درمیان اورعیسائی ، مجوسی ، یہودی کمر میں باندھتے ہیں (۲) ہندو ماتھے پر جو ٹیکا لگاتے ہیں

Exit mobile version