امام صاحب کے ساٹھ ہزار تراسی اقوال ہیں

امام صاحب کے ساٹھ ہزار تراسی اقوال ہیں

 

م ۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ اسلام میں ابو حنیفہ کے ساٹھ ہزار قول ہیں انتہی ۔ یعنی اتنے مسئلے فقہ کے آپ نے لکھے ہیں یہ روایت نقل کر کے امام موفقؒ نے ایک ثقہ کا قول ذکر کیا ہے کہ تراسی ہزار (83,000) مسئلے امام صاحب نے لکھے ہیں ، جن میں اڑتیس ہزار عبادات میں ہیں اور پینتالیس ہزار (45,000) معاملات میں ۔
چونکہ امام مالک ؒ امام وقت اور مرجع اہلحدیث تھے اور علاوہ اس کے آپ کی اقامت مدینہ طیبہ میں تھی ، جہاں محدثین اور علماء کا آنا ضروری ہے ، اس لئے امام صاحب کے حلقۂ درس میں جو محدثین شریک رہتے تھے اُن سے بھی ملاقات ہوا کرتی تھی ، اُن کی زبانی مسائل فقہ کی تعداد جو بتواتر معلوم ہوئی اُس کی انہوں نے خبر دی ، اسی وجہ سے کوئی شک کا لفظ نہیں فرمایا اور نہ اس امر سے انکار اور نفرت ظاہرکی ۔ یہ بات قابل تصدیق ہے کہ اگر یہ مسائل فقہیہ جس کی خبر امام مالکؒ نے دی ہے اگر خلاف قرآن و حدیث ہوتے تو ان کا فرض تھا کہ کُھلے طور پر کہہ دیتے کہ وہ سب خلاف قرآن و حدیث ہیں اور کم سے کم اپنی نا رضامندی تو اُس سے ظاہر کرتے ، مگر نارضامندی کیسی ؟ وہ تو امام صاحب کے اقوال کو نہایت وقعت کی نظر سے دیکھتے تھے ۔چنانچہ امام موفق ؒ نے ’’مناقب ‘‘ میں لکھا ہے کہ محمد بن عمر الواقدی کہتے ہیں کہ امام مالک ؒ اکثرابو حنیفہ ؒ کے اقوال کی تلاش کیا کرتے ، اگرچہ ظاہراً بیان نہ کرتے ، مگر اکثر اُن اقوال کے مطابق فتویٰ دیا کرتے تھے ۔ انتہی۔
یہی وجہ ہے کہ اکثر اُن کے اور امام صاحب کے اقوال میں مطابقت یا مناسبت ہوا کرتی ہے ، جیسا کہ کتب فقہ سے ظاہر ہے ۔

Exit mobile version