ابن حزم تقلید کو جائز رکھتے ہیں

ابن حزم تقلید کو جائز رکھتے ہیں

ابن حزم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ وہ تقلید کو حرام سمجھتے ہیں ، مگر فقہاء کی تقلید کے وہ بھی قائل ہیں ، جیساکہ اُن کی اس عبارت سے ظاہر ہے جو الفصل فی الملل میں لکھا ہے : ’’نعم ان التقلید لا یحل البـتۃ ، و انما التقلید اخذ المرء قول من دون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ممن لم یأمرنا اللہ عز و جل باتباعہ قط، و لا بأخذ قولہ بل حرم علینا ذلک و نھانا عنہ ‘‘
یعنی اس میں شک نہیں کہ تقلید ہرگز حلال نہیں ، مگر تقلید اسی کا نام ہے کہ سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ایسے دوسرے شخص کا قول مان لیا جائے جس کی اتباع کا اور اس کے قول پر عمل کرنے کا حکم خدا نے کبھی نہ دیا ہو بلکہ اُن کے ماننے سے منع فرمایا اور اس کو حرام کر دیا ہو ۔
حاصل یہ کہ سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی کی اتباع کا حکم خدائے تعالیٰ نے دیا ہو تو اُس کی اتباع اور پیروی کو تقلید ہی نہیں کہتے ۔

فقہاء کی تقلید مذموم نہیں ہوسکتی

ابن حزم کے اس قول سے کہ ’’ان التقلید لا یحل البتۃ ‘‘ سے دھوکا ہوتا تھا کہ انہوں نے مطلقاً تقلید کو حرام کردئے ۔ اس لئے انہوں نے فقہاء کی اتباع کو سر ے سے تقلید ہی میں داخل نہیں کیا ،کیونکہ وہ تصریح کرتے ہیں کہ تقلید ایسے شخص کی اتباع کو کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے اُس کے اتباع کا کبھی حکم نہ دیا ہو ۔ اور چونکہ فقہاء کے اتباع کا حکم ’’ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُوْلِی الاَمْرِمِنْکُمْ ‘‘ سے دیا ہے ، اس لئے وہ تقلید ہی نہیں ۔ اس سے مقصود ان کا معلوم ہوگیا کہ اگر تقلید ہر طرح مذموم ہو تو فقہاء کی تقلید کو ہم تقلید ہی سے خارج کر دیں گے۔ اسی وجہ سے انہوں نے تقلید مذموم میں ایسی قید لگا دی کہ تقلید اصطلاحی پر وہ صادق ہی نہیں آتی ۔ جب ابن حزم جیسی متشدد شخص تقلید فقہاء کو بُری نہیں سمجھتے تو اُن کے پیرووں کو ضرور ہے کہ اس بات میں اغماض کر جائیں۔ اور مقلدوں کو مشرک نہ بنائیں ۔
یوں تو فقہاء اور مجتہدین بہت سے گذرے ہیں اور امام بخاری بھی فقیہ اور مجتہد تھے ، مگر جو بات اہل مذاہب اربعہ کو حاصل ہوئی وہ کسی کو نصیب نہ ہوئی ۔ یہ بات شاہ ولی اللہ صاحب کے قول سے بھی معلوم ہوتی ہے جو ’’الانصاف ‘‘میں لکھا ہے : و خصلۃ رابعۃ نتلوھا وھی ان ینزل لہ القبول من السمآء فأقبل الی علمہ جماعات من العلماء من المفسرین و المحدثین والاصولیین و حفاظ کتب الفقہ و یمضی علی ذلک القبول و الاقبال قرون متطاولۃ حتی یدخل ذلک فی صمیم القلوب‘‘ ۔ یعنی مجتہد کے لئے یہ بھی ضرور ہے کہ اُس کی قبولیت آسمان سے اترے جس کی وجہ سے علماء اور مفسرین اور محدثین و اصولین اور حفاظ کتب فقہ اُس کے علم کی طرف متوجہ ہوں اور اس قبول و اقبال پر مدتیں گذر جائیں یہاں تک کہ لوگوں کے دل میں۔ یہ باتیں داخل

ہوجائیں ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ سب باتیں مذاہب اربعہ پر صادق آتی ہیں۔ شاہ صاحب ممدوح نے ’’عقد الجید فی احکام التقلید ‘‘ میں اس امر میں ایک باب ہی مدون کیا جس کا ترجمہ یہ ہے : باب تاکید الاٰخذ بھذا المذاھب الاربعۃ و التشدید فی ترکھا و الخروج عنھا اور اُس میں لکھتے ہیں ، اعلم ان فی الاخذ بھذہ المذاھب الاربعۃ مصلحۃ عظیمۃ ، و فی الاعراض عنھا کلھا مفسدۃ کبیرۃ و نحن نبین ذلک بوجوہ ….
حاصل اُس کا یہ کہ مذاہب اربعہ کی تقلید نہایت ضروری ہے ۔ اور اس میں بڑی مصلحت ہے اور اُس سے اعراض کرنے میں بڑا مفسدہ ہے ، جس کے متعدد وجوہ ہیں ۔ پھر بہت سے وجوہ بیان کئے ، جن کا ذکر موجب تطویل ہے ۔
الحاصل تمام روئے زمین پراہل سنت کے چار ہی مذہب مشہور ہیں اور پانچواں مذہب بخاری کہیں سنا نہیں گیا ، بلکہ جو لوگ بخاری شریف کو مانتے ہیں سب سے بڑے ہوئے ہیں ، وہ بھی امام بخاری کی تقلید کو عار بلکہ بعضے تو شرک ہی سمجھتے ہیں اور حرمت تقلید پر یہ دلیل پیش کرتے ہیں : قولہ تعالیٰ : اِتَّبِعُوْا مَا اُنْزِلَ اِلَیْکُمْ مِنْ رَبِّکُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِہ اُوْلِیَائَ ۔
وَ قولہ تعالیٰ : وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّبِعُوْا مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَا اَلْفَیْنا عَلَیْہِ اٰبَائَ نَا
و قولہ تعالیٰ : اِتَّخَذُوْا اَحْبَارَھُمْ وَ رُھْبَانَھُمْ اَرْبَاباً مِنْ دُوْنِ اللّٰہ ۔
اور اصل یہ اور اس قسم کی کئی روایتیں کفار کی شان میں نازل ہوئی ۔ اس وجہ سے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا کہ بت پرستی وغیرہ چھوڑ دو ! وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقہ پر پایا ہے ، اس لئے آپ کی نہیں سنتے اور اصل اُس کی وجہ یہی تھی کہ اُن کو نبوت ہی کی تصدیق نہ تھی ، پھر جب تصدیق کرتے تو فوراً بتوں کو توڑ دیتے تھے چونکہ یہ آیتیں مقلدوں پر چسپاں کی جاتی ہیں اس لئے اُن کی حالت پرنظر

ڈالنے کی ضرورت ہے کہ آیا ان کو نبوت پرایمان ہے یا نہیں ؟ اور اگر ہے تو باوجود ایمان کے اپنے نبی کی بات نہ مان کر اپنے امام کی بات ماننے کی کیا وجہ؟ کیا امام کو وہ نبی سمجھتے ہیں جو خاتم الانبیاء کے بعد پیدا ہوئے اور اُن پر وحی اُترنے کے بھی قائل ہیں ؟ جس کی وجہ سے اُن کے مقرر کئے ہوئے احکام کو ناسخ اور پہلے نبی یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو منسوخ سمجھتے ہیں ؟اس کی تحقیق یوں ہوسکتی ہے : کسی جاہل سے جاہل مقلد سے پوچھ لیا جائے تو وہ ہرگز نہ کہے گا کہ میں اپنے امام کو نبی سمجھتا ہوں اور اسی وجہ سے اُن کے قول کو واجب الاتباع جانتا ہوں ۔ اس سے یقینی طور پر ثابت ہوجائیگا کہ کفار جو آباء و اجداد کے طریقہ کو نبی کے مقابلہ میں جس وجہ سے پیش کرتے تھے وہ وجہ تو یہاں ہرگز نہیں پائی جاتی ۔ اس لئے کہ اُس کا منشاء تکذیب نبی تھا اور کوئی مقلد تکذیب نبی نہیں کرسکتا بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کہ مجتہدوں کو اجتہاد کرنے کی اور اُس پر عمل کرنے کی ہم کو اجازت دی ہے ۔ اس لئے ہم اُس پر عمل کرتے ہیں ۔ البتہ احادیث جب مذہب کے خلاف پیش کی جائیں تو یہ ضرور کہا جائیگا کہ احادیث ہمارے سر آنکھوں پر اور وہ سب واجب التعظیم ہیں۔ اسی وجہ سے بخاری شریف کے ختم کو ہم باعث انجاح مرام سمجھتے ہیں اور اُس کے اس قدر دلدادہ ہیں کہ اہل حدیث بھی نہ ہوں گے ، مگر چونکہ کل احادیث کے معنی بخاری شریف وغیرہ میں نہیں ، اور جس قدر ہیں وہ امام بخاری وغیرہ کے اجتہادی ہیں، جو ہمارے امام کے شاگر دوں کے شاگرد تھے ۔ اس وجہ سے اُن معنی کو نہیں مانتے جو ہر شخص اپنی رائے سے بیان کرے بلکہ اُس تحقیق کو مانتے ہیں جو تمام آیات و آحادیث کو پیش نظر رکھ کر ایک جلیل القدر امام الوقت بیان کرے ۔
کوئی ضرورت نہیں کہ جو کوئی قرآن و حدیث پیش کرے اس کی بات مان لی جائے
اور ہم لوگ اس کے مامور بھی نہیں کہ جو شخص قرآن و حدیث کو پیش کرے اُس کو مان ہی

لیں بلکہ سلف صالح نے ہمیں یہ طریقہ دکھلا دیا ہے کہ غیر معتبر شخص قرآن بھی سنائے تو نہ سنا جائے ، چنانچہ سنن دارمی میں یہ روایت ہے : عن اسماء بن عبید ، قال : دخل رجلان من اصحاب الاھواء علی ابن سیرین ، فقالا : یا ابابکر ! انا نحدثک بحدیث قال : لا قالا : فنقرأ علیک آیۃ من کتاب اللہ ، قال : لا لتقومان عنی او لاقومن ؟ قال : فخرجا، فقال بعض القوم : یا ابابکر ! و ما علیک ان یقرآ علیک آیۃ من کتاب اللہ تعالیٰ ؟ قال انی خشیت ان یقرآ علی آیۃ فیحرفانھا فیقر ذلک فی قلبی ۔
یعنی ابن سیرینؒ کے پاس دو شخص آئے جو اہل ہوا سے تھے اور کہا کہ ہم ایک حدیث آپ کو سناتے ہیں ، فرمایا : میں نہیں سنتا ، پھر کہا : قرآن کی ایک آیت ہی سن لیجئے ، کہا : نہیں اور فرمایا : تم یہاں سے چلے جاؤ یا میں اُٹھ جاتا ہوں : لوگوں نے کہا : حضرت ! اگر آپ قرآن کی آیت سن لیتے تو کیا نقصان تھا ؟ فرمایا : اگر وہ آیت پڑھ کر اُس کے مضمون میں تحریف کر دیتے اور وہ ہی بات میرے دل میں جم جاتی تو خوف کی بات تھی ۔
دیکھئے ! اُن لوگوں نے ابن سیرین ؒ کو کیسے متعصب اور جاہل اپنی قوم میں جا کر بتایا ہوگا کہ انہوں نے نہ حدیث سنی نہ قرآن بلکہ یہ آیت پڑھ کر اُن کا کفر بھی ثابت کر دیا ہوگا جو حق تعالیٰ فرماتا ہے : ’’وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ‘‘ یعنی جب قرآن پڑھا جائے تو سنو اور چپ رہو ۔ بجائے اس کے کہ سنکر چپ رہتے ، انہوں نے سننا بھی گوارا نہ کیا ، پھر کس طرح وہ مستحق رحمت ہوسکتے ہیں ؟ اور خدا جانے کیسی کیسی موشگافیاں کر کے اُن کو کافر بنانے میں کوششیں کی ہوں گی ۔ مگر اہل اسلام ایسے جلیل القدر تابعی کی نسبت یہ گمان ہرگز نہیں کرسکتے کہ انہوں نے قرآن کے سننے سے انکار اس وجہ کیا کہ آیۂ شریفہ ’’ وَاِذَا قُرِیَٔ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہ ‘‘ اُن کو یاد نہ تھی یا اُس پر عمل کرنا اُن کو منظور نہ تھا بلکہ سبب اُس کا یہ تھا کہ قرآن بہ نیت تلاوت یا وعظ نیک نیتی سے پڑھا جائے

تو اُس کا سننا واجب ہے اور اہل ہوا کو ایسے موقعوں میں یہ مقصود نہیں ہوتا بلکہ اُن کی غرض یہ ہوتی ہے کہ قرآن و حدیث کے ذریعہ سے اپنے خیالات فاسدہ اُن کے ذہن نشین کریں۔
اغراض کا مختلف ہونا اس حکایت سے بخوبی معلوم ہوسکتا ہے ؛ جو ایک مولوی صاحب نے مجھ سے کلکتہ کا چشم دید واقعہ بیان کیا کہ مقلدوں کی مسجد میں ایک غیر مقلد صاحب آ کر جماعت میں شریک ہوگئے ، جب امام نے آمین کہی تو انہوں نے حسب عادت بآواز بلند آمین کہی ، اب تمام اہل مسجد مقلد حیران رہے کہ نماز کی حالت میں اس کا کیا تدارک کیا جائے ، مگر بے چین طبیعتیں کب چپ رہ سکتی ہیں ، ایک صاحب نے فوراً اُن کے جواب میں بآواز بلند (شالا) کہدیا جو وہاں گالی سمجھی جاتی ہے ، غیر مقلد صاحب تھے بڑے جری اُن سے اس گالی کی برداشت نہ ہوسکی اور اُس کے جواب میں پھر آمین بہت زور سے کہی مقلد ، صاحب یہ لفظ دوبارہ سنتے ہی آگ بگولا بن گئے اور بلند آواز سے (شالا بیٹا شالا) اسی آمین کے لہجہ میں ادا کیا ، پھر انہوں نے کمال غضب سے اُسی آمین کو اور پھینک مارا غرضکہ چند بار یہ سب و شتم طرفین سے ہوتا رہا ۔ اُس کے بعد لات مکھی کی نوبت آئی ۔ مقصود یہ کہ مقلد صاحب کو جو (شالا بیٹا شالا) کہنے سے تشفی ہوتی تھی غیر مقلد صاحب کو لفظ آمین سے بھی وہی تشفی ہوتی تھی ۔
اب کہئے کہ انھوں نے اس متبرک لفظ کو گالی کے موقع پر استعمال کیا یا نہیں ؟ غیر مقلدوں کو جب منظور ہوتا ہے کہ مقلدوں کو علانیہ گالی دیں تو اُن کی مسجدوں میں جا کر آمین بآواز بلند کہدیتے ہیں ، جس سے ایک ہنگامہ برپا ہوجاتا ہے بخلاف اس کے وہی مبارک لفظ ، شافعیہ وغیرہ بھی نہایت بلند آواز سے کہتے ہیں ، مگر کسی کو برا نہیں معلوم ہوتا ، اس وجہ سے کہ اُن کو صرف امتثال امر اور تلاوت مقصود ہوتی ہے ۔

الحاصل جس طرح اس متبرک لفظ کے کہنے سے مقصود دوسرا تھا اسی طرح اہل ہوا کا قرآن و حدیث سنانے سے مقصود دوسرا ہی ہوا کرتا ہے ۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ کیا وجہ ہے کہ باوجود ایمان اور تبحر علم کے اُن حضرات کو اس درجہ کی احتیاط تھی کہ غیر مذہب والوں سے قرآن کی آیت بھی نہیں سنتے تھے ، اس خیال سے کہ کہیں اُس کے عقائد فاسدہ کا اثر اپنے دل پر نہ پڑ جائے اور اس زمانہ میں ہر کم علم بلکہ بے علم شخص بھی اہل مذاہب باطلہ کے اقوال کو سننے اور دیکھنے کی کچھ پروا نہیں کرتا ، بلکہ اس کو دینداری اور حق پسندی سمجھ کراپنی بے تعصبی کا ثبوت دیتا ہے ۔
بات یہ ہے کہ جن حضرات کو اپنے ایمان اور اعتقادات کی قدر ہے اور قرآن و حدیث پر پورا ایمان اور جزا و سزا پر کامل یقین ہے اُن کو احتیاط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ خود فطرت انسانی کا مقتضی ہے کہ جس چیز کو آدمی بے بہا اور عزیز الوجود سمجھتا ہے اُس کی حفاظت میں کمال درجہ کی احتیاط کو کام میں لاتا ہے ،یہاں تک کہ اپنے دوست سے بھی بدگمان رہتا ہے ۔ سعدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں :
نگہدار و آں شوخ در کیسہ دُر
کہ داندہمہ خلق را کیسہ بُر
اب دیکھئے کہ ایک جماد کی حفاظت میں یہ احتیاط ہو تو ایمان جس پرنجات اخروی اور ابدالآباد کی بہبودی کا مدار ہے اُس کی کس قدر احتیاط چاہئے ؟ اور حدیث شریف میں بھی اس کی تعلیم کی گئی ہے ، چنانچہ ’’مقاصد حسنہ ‘‘میں امام سخاوی نے یہ حدیث نقل کی ہے : قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ’’احترسوا من الناس بسوء الظن ‘‘ رواہ احمد وغیرہ یعنی لوگوں سے بدگمانی کر کے اپنی حفاظت کر لو ۔
جب تک طبیعتیں تقلید کی جکڑ بندی کی عادی تھیں اہل سنت و جماعت کا گروہ ایک کثیر

التعداد اشخاص پر شامل تھا اور جب تک ترک تقلید سے آزادی طبیعتوں میں آگئی ہے ایسے نئے نئے فرقہ بن جاتے ہیں ، جن کا وجود خیال میں نہیں آتا تھا اور لا مذہبی کا شیوع اُس وقت جو صدیوں میں نہیں ہوا تھا اب مہینوں بلکہ دنوں میں ہو رہا ہے اور یہ جتنے نئے فرقہ بنتے جاتے ہیں انہی مقلدوں کے ہم مشرب لوگ ہیں ، جو‘ اب جانی دشمن بن گئے ہیں ۔
غرضکہ مسلمانوں کو چاہئے کہ اہل سنت و جماعت کے متدین علماء نے جو تمام آیات و آحادیث کو پیش نظر رکھ کر کمال جانفشانی سے دینی احکام کو تنقیح کر کے کتب فقہ میں لکھ دیئے ہیں اُن کو ہرگز نہ چھوڑیں اور مخالفین گو آیات و احادیث پیش کریں ان کو قابل التفات نہ سمجھیں ، کیونکہ جتنے مذہب والے اپنے کو اسلام کی طرف منسوب کرتے ہیں سب کا استدلال قرآن و حدیث ہی سے ہے ۔ اب کہیئے کہ آدمی کس کس کی پیروی کرے ۔ پھر جس طرح قرآن سے ہدایت متعلق ہے کبھی ضلالت کا سبب بھی وہی ہوجاتا ہے ، کما قال اللہ تعالیٰ : ’’یضل بہ کثیرًا و یھدی بہ کثیرًا ۔ ‘‘ اس لئے مقتضائے عقل یہی ہے کہ اہل مذاہب باطلہ سے نہ قرآن سنے نہ حدیث ، بلکہ جس طرح کروڑہا اہل سنت و جماعت جن میں علماء ،محدثین اور اولیاء اللہ شریک ہیں ، قرناً بعد قرن مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک مذہب کے مقلد رہے ۔ ہم کو بھی چاہئے کہ اُن ہی کی پیروی کریں ، کیونکہ اسلام میں اجماع بھی ایک بڑی چیز سمجھی جاتی ہے ۔ یہ بات مشاہد ہے کہ جس کسی کو مقتدا بننا منظور ہوتا ہے تو چند آیات و احادیث میں غور و فکر کر کے اور اقوال سلف اور عقل سے مدد لیکر کسی بات کو مہتم بالشان بنا دیتا ہے اور جہلاء جن کو دین کی عقل نہیں ہوتی اس کے دام میں پھنس جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اُن کا ایک فرقہ بن جاتا ہے اور وہ سب اُس کے تابع اور مقلد کہلاتے ہیں اور وہ اُن کا مقتدا ، اور جو عقلمند ہوتے ہیں وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ہمیں جاہل سمجھ کر چاہتا ہے کہ

اپنے تابع اور مقلد بنالے اور خود ہمارا پیشوا اور حاکم بنے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم مجتہد تو ہو ہی نہیں سکتے ، کسی نہ کسی کی تقلید کا قلادہ ہماری گردن میں ضرور ہوگا ، تو ہر کس و ناکس کی تقلید کا عار کیوں قبول کریں اور ایسے شخص کی تقلید کیوں نہ کریں جس کے تدین اور اورع اور اعلم اور افقہ ہونے پر امام بخاریؒ کے صدہا اساتذہ نے گواہی دی ہے اور اسی زمانہ کے اکابر محدثین نے اُن کو اپنا مقتدا مان لیا اور لاکھوں علماء نے جن میں اکثر صحاح ستہ کی احادیث سے بخوبی واقف تھے اُن کی تقلید کی ۔ ایسے جلیل القدر امام کی تقلید کو چھوڑ کر کسی آخری زمانہ والے کے ہاتھ میں اپنا قلادہ دینا عقل سے بعید ہے ۔ مثل مشہور ہے ’’اذا سرقت فاسرق الدرۃ‘‘ غرضکہ مقلدین جو اپنے آباء و اجداد کے طریقہ پر ہیںیہ بات اُن کو بتواتر معلوم ہوئی ہے کہ امام صاحب نے اکابر محدثین کے مجمع میں تحقیقات کر کے فقہ مدون کی تھی ،جو نسلاً بعد نسل اُن تک پہونچی ہے ، اب اگر اسی کا نام تقلید آبائی کہہ کر کفار کی تقلید آبائی کے ساتھ وہ برابر کر دی جائے تو عام مسلمانوں پر یہی الزام لگ سکتا ہے ،کیونکہ نہ انہوں نے اپنے نبی کو دیکھا نہ ان کی باتیں سنی ، نہ معجزے دیکھے بلکہ اپنے آباء و اجداد ہی سے سن سنکر ایمان لائے ،مگر جو لوگ سمجھدار ہیں وہ یہی کہیں گے کہ ہر زمانہ کے معتمد علیہ مسلمان خصوصاً اپنی آباء و اجداد جن پر اعتماد زیادہ ہوتا ہے جب اُن تمام امور کی گواہی دیتے آئے تو بعد والوں کو نبوت کا یقینی علم ہوگیا ۔ اب اگر یہ تقلید بھی ہے تو ایسے امر میں ہے جو اسلام میں ضروری سمجھا گیا ہے اورجس کا وجود تواتر سے ثابت ہوگیا ہے ، اسی طرح مقلدین کی تقلید آبائی کا حال ہے ۔ یہ بات یاد رہے کہ اس زمانہ میں تقلید مذاہب اربعہ سے بہتر کوئی مستحکم قلعہ نہیں جیسا کہ شاہ ولی اللہ صاحب نے بھی لکھا ہے ۔